13 مئی 2016 - 12:57
 اے قلب ِ شناسا ماتم کر، اے چشم ِبینا سوگ منا

انسان فانی ہے، مشن اورمقاصد لافانی ہیں۔ انسان کو موت آجاتی ہے لیکن مشن کبھی نہیں مرتے۔ یقین کی راہ پر چلنے والے اس مسافر کے جسم کی موت سے اسکا کردار نہیں مر سکتا ، جو ہمیشہ زندہ رہیگا۔ امان اللہ خان اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے ،اُنکا خواب پورا نہیں ہوا لیکن کشمیری قوم کے لیے اپنے ورثے میں ایک سوچ، فکر، نظریہ اورعقیدہ چھوڑ گئے جو انکے نام کیساتھ ہمیشہ زندہ رہیگا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

تحریر:  سید تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ
سید علی گیلانی کی طرف سے لیلائے آزادی کے مجنوں کا خطاب پانے والے دنیائے حُریت کے عظیم فرزند اور کشمیری قوم کے سرمایہء  افتخار، تحریک آزادی کشمیر کے سرخیل، کشمیری تشخص کے علمبردار،  حریت اور جرات  کی علامت ، لازوال عزم وہمت  اور حوصلے کے مالک،وحدت ِ کشمیر کے داعی،کشمیریت کے روح رواں ، نظریاتی سیاست کے  امین  اور پاسدار ، اپنی ذات ، صفات اور کردار میں ایک تحریک، تاریخ  اورجہد مسلسل ، مقدمہ کشمیر کے بہترین وکیل ،کشمیر بنے گا خودمختار کے نعرے کے داعی اور اس نعرے کی عملی تعبیر کی حسرت دل میں لیے اورجنت ِ ارضی کی آزادی کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے امان اللہ خان نے دارالفناء سے دارالبقا ء  کا سفر مُسکراکر لیا لیکن ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو سوگوار کر گئے۔   لیلائے وطن کا مجنوں اورکشمیریوں کی جہد مسلسل کی ایک توانا آواز امان اللہ خان آزادی کی جدوجہد اور تلاش میں زندگی کی قید سے آزاد ہو گئے لیکن کشمیری قوم کے لیے اپنے ورثے میں ایک سوچ، فکر، نظریہ، عقیدہ  چھوڑ گئے جو انکے نام کیساتھ ہمیشہ زندہ رہیگا  ۔ وہ ریاست جموں و کشمیر کو خود مختار، جمہوری اور سیکولر ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔انہوں نے مادر وطن کی آزادی ، خود مختاری اور تشخص کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کیے رکھی اور نا مساعد حالات کے باوجود تحریک آزادی کو جاری رکھا اورکامیابی کے ساتھ اسے  پوری دنیا میں روشناس کروایا ۔ وہ نیک نیتی، دیانتداری، استقامت، لگن، خلوص اورسنجیدگی سے اپنے نظریہ اورفلسفہ کی تشہیر کرتے رہے اور تحریک آزادی کشمیر کے محاذ پر پوری استقامت، جرات مندی، بہادری اور دانشمندی کے ساتھ پہرے داری کی ۔ اُنکی زندگی کے شب و روز اور ماہ و سال جموں و کشمیر کے عوام اورسرزمین کو آزاد ، خود مختار اور باوقار دیکھنے کی آرزو میں کٹ گئے۔ کتنا پیارا نعرہ ہے آزادی کے متوالوں کا، کشمیر کا ذرہ ذرہ ہے کشمیر کے رہنے والوں کا  فلسفہ اُنکے جسم، خون اور روح میں شامل تھا۔مستقل مزاجی اور اپنے نظریے سے متمسک رہنے نے انہیں دیگر سیاست دانوں کے مقابلے میں زیادہ قابل عزت واحترام اور منفرد و ممتاز مقام دیا۔ اُنکی جدوجہد آزادی کا اہم نکتہ آغاز ١٩٦٢ء تھا جب وہ قانون کے طالبعلم تھے ۔ انہوں نے'' وائس آف کشمیر '' کے نام سے ایک ماہنامہ رسالے کا اجراء کیا ۔ یہ ماہنامہ خود مختار کشمیر کے نظریے کا پرچار کرتا تھاجسے کچھ سال بعدحکومتی دباؤ کے نتیجے میں بند کردیا گیا ،مگر ١٩٧٦ء میں برطانیہ سے دوبارہ اسکا اجراء ہوا۔ امان اللہ خان کی جدوجہد کے بھی کئی پہلو ہیں۔ گلگت بلتستان میں پیدا ہونے والے امان اللہ خان کشمیر میں بڑے ہوئے،کراچی میں پڑھائی مکمل کی، برطانیہ میں انقلابی فکر اپنائی اور بیلجئم میں اپنے حق کی آوازبلند کی ۔ واحد کشمیری لیڈر جنہوں نے بیرون ملک بھی جیلیں کاٹیں۔ برطانیہ اور بیلجئم میں بارہ سے زائد مرتبہ قید ہوئے۔  برطانیہ میں ١٦ ماہ، بیلجئم میں  تقریبا ٢ ماہ، نیویاریک میں اقوام ِ متحدہ کے لاک اپ میں ایک دن،کشمیر میں ، گلگت، راولپنڈی، کراچی اور لاہور کے شاہی قلعے میں بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔١٩٨٨ ء میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے کشمیر کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور پھر ١٩٩٢ء سے ١٩٩٩ ء تک چار بار انہوں نے غیر مسلح اور پُرامن طور پر وحدت کشمیر کی بحالی کے لئے ریاست  جموں و کشمیر کے  سینے میں کھینچی خونی لکیر  ''کنٹرول لائن '' کو عبور کرنے کی تاریخی کوششیں کیں جسکی وجہ سے دنیا کی توجہ کشمیر ایشو کی جانب مبذول ہوئی۔امان اللہ خان پر سرینگر میں پاکستان کے لئے جاسوسی کا الزام لگا کر مقدمہ قائم کیا گیا اور پاکستان نے انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دے کر ڈیڑھ سال تک گلگت جیل میں رکھا۔بھارت نے انکی گرفتاری کے لیے  انٹرپول کے ذریعے '' ریڈ نوٹس''  تک جاری کروایا ۔ ١٩٧٣ء میں انہیں پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صدارت  سنبھالنے  اور بعد ازان  یہاں کا پہلا چیف منسٹر بنائے جانے کی پیشکش کی گئی مگر اس پیشکش کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انکے سیاسی فلسفے اور نظریے کے بالکل خلاف ہے۔وہ  قومی یکجہتی پر مکمل یقین رکھتے تھے اور کئی بار اس حوالے سے انہوں نے کوششیں بھی کیں۔  ١٩٦٦ء میں اُنکی  سوچ، کوشش اور تجویز کیوجہ سے آزاد کشمیر کی تین جماعتیں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس ، جموں و کشمیر لبریشن لیگ اور جموں و کشمیر محاذ رائے شماری ایک میز پر بیٹھیں ا ور کشمیر ایشو پرمشترکات پر اتفاق ہوا۔انہوں نے اردو اور انگریزی میں مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں پر تین کتابیں، ٦٠ سے زائد کتابچے بروشراور پمفلٹس، ١٠٠ سے زائد لیفلٹس اوردرجنوں مضامین لکھے جو دنیا بھر کے معروف اخبارات و رسائل میں چھپے جو اب بھی مختلف لائبریریوں ، بُک اسٹالز اور تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہیں۔ امان اللہ خان تادم مرگ یہ کہتے رہے کہ کشمیر یا کشمیری کا مطلب ١٥  اگست ١٩٤٧ء والی ریاست جموں و کشمیر ہے جس میں لداخ اور گلگت بلتستان بھی شامل تھے۔اُن کی زندگی میں ریاست جموں و کشمیر کی وحدت و یکجہتی اور خود مختار کشمیر کے نظریہ کی اہمیت غیر معمولی تھی۔ انہوں نے خالصتا نظریہ کی بنیاد پر سیاست کی اور اپنے نظریے سے اخلاص اُنکا طرہ ء امتیازرہا۔انہوں نے ١٩٥١ ء سے لیکر ٢٠١٦ء تک مسلسل ٦٥ سال تک آزادی کی ایک طویل جنگ لڑی اور جے کے ایل ایف کے سہ رنگے جھنڈے کی حقیقی معنوں میں عکاسی  و ترجمانی کرتے ہوئے تین محاذوں سیاسی محاذ، سفارتی محاذ اور عسکری محاذ پر بھرپور جنگ لڑی۔ امان اللہ خان کے ساتھ نظریاتی اختلافات رکھنے والوں کو بھی انکی دیانت، خلوص نیت  اور حب الوطنی پر کوئی شک نہیں تھا۔  اُنکے  نظریے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن کشمیر اور پاکستان سے اُنکی محبت کسی شک و شبہ سے بالاتر تھی۔انہوں نے اپنی آپ بیتی  ''جہد مسلسل''  میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ سیالکوٹ کے قریب سچیت گڑھ کے علاقے میں جموں و کشمیر کی مٹی ہاتھ میں پکڑ کر قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی مادر وطن کو آزادی دلانے کے لئے زندگی کی آخری سانسوں تک جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ایساہی ہوا کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی تحریک آزادی کشمیر کی لیے وقف کیے رکھی  اور اسی مٹی میں دفن ہونا پسند کیا جسکو اپنے ہاتھوں میں اُٹھا کر اسکو آزاد کروانے کا وعدہ کیا تھا۔ اُنکی خواہش تھی کہ انہیں اپنی جائے پیدائش میں ہی  ہمالیہ کے آنگن میں سپرد خاک کیا جائے تاکہ اُنکی قبر بھی تینوں خطوں کو جوڑنے میں مددگار ثابت ہو اور اُنکی قبر ہمالیہ کے اس دامن میں انقلاب لانے کا سبب بن جائے۔  ایک ایسے وقت میں جب گلگت بلتستان کو کشمیر سے الگ کرکے تقسیم کشمیر کی سازشیں کی جاری ہے ، امان اللہ خان زندہ تھے تو کشمیر کی آزادی و خود مختاری اُنکا اوڑھنا بچھونا تھااور جب وہ منوں مٹی تلے محو استراحت ہوئے تو تقسیم ِ کشمیر کی سازشیں کرنے والوں کو بھی شکست دے گئے۔ اُنکے چاہنے والوں نے اُنکی وصیت کے مطابق انہیں گلگت بلتستان (استور)  میں دفن کر کہ گلگت بلتستان کے کشمیر کا حصہ ہونے پر اور ریاست جموں و کشمیر کی اکائی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔کشمیر کی تاریخ میں طویل ترین جدوجہد کرنے والا، کشمیریوں کو شعور بخشے والا، قابضین کو للکارنے والا، قوم کو غلامی کے خلاف کھڑا ہونے اور ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کی بحالی کا سبق پڑھانے والا دنیائے حریت کا عظیم فرزند، کشمیری قوم کا ایک عظیم مرد مجاہد، رہنما، نظریاتی ، فکری اور تحریکی لیڈر، انقلابیوں کا عظیم اُستاد جسکے نظریہ کی فتح یابی کے لیے ایک لاکھ نوجوانوں نے گردنیں کٹوائیں،فطرت کے مقاصد کا نگہبان ، بندہ ء صحرائی اور مرد کوہستانی کی چاندنی چوک راولپنڈی میں سادہ سی رہائش کے ساتھ ملحقہ دفتر سے اُٹھنے والی کشمیریت کی مہک،اُنکے کپکپاتے ہاتھوں اورتھرتھراتی زباں سے آزادی کے نغمے پیر پنجال سے لیکر گلگت تک آزادی کی خوشبو بکھیرتے رہیں گے۔انسان فانی ہے، مشن اورمقاصد  لافانی ہیں۔ انسان کو موت آجاتی ہے لیکن مشن کبھی نہیں مرتے۔   یقین کی راہ پر چلنے والے اس مسافر کے جسم کی موت سے اسکا کردار نہیں مر سکتا ، جو ہمیشہ زندہ رہیگا۔ امان اللہ خان اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے ،اُنکا خواب پورا نہیں ہوا  لیکن کشمیری قوم کے لیے اپنے ورثے میں ایک سوچ، فکر، نظریہ اورعقیدہ  چھوڑ گئے جو انکے نام کیساتھ ہمیشہ زندہ رہیگا۔اللہ کرے وہ وقت آئے جب استور میں اُنکی قبر پر جاکر آزادی کی نوید سنانے کا موقع نصیب ہو۔                                                               
 ''اے قلب ِ شناسا ماتم کر، اے چشم ِ بینا سوگ منا
جو روشنی بانٹنے آیا تھا ، وہ چاند وہ سورج ڈوب گیا''

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲