اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اطالوی یونیورسٹی پروفیسر ’’کلئیڈیوموفا‘‘ نے قدس نیوزایجنسی کے ساتھ ایک ایمیل انٹرویو میں اعتراف کیاکہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے حقائق سے عوام کومغربی میڈیا کی طرف سے دوررکھنا شرمناک ہیں۔
مسئلہ فلسطین سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کےجواب میں انہوں نے حماس کے حالیہ دورۂ انقرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس دورے کو مصری خفیہ ایجنسی کی جانب سے تعلقات کو معمول پر لانے کی ایک کوشش قراردیا ۔
انہوں نےکہاکہ شامی تنازعے کے ابتدائی مراحل میں تحریک حماس کا کردار قابل مذمت رہاہے ۔
انہوں نےکہاکہ تحریک حماس نے اس حقیقت کہ داعش اوردیگر دہشتگرد گروہوں کو نہ صرف قطر،ترکی اورسعودی عرب بلکہ مغربی خفیہ ایجنسیاں حمایت کررہی ہے کو نظرانداز کرکے اس تنازعے میں کود پڑی ۔
انہوں نے سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والے نام نہاد دہشتگرد مخالف اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس اتحاد کا ہدف دہشتگرد گروہ داعش نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران اورمقاومتی تحریکیں ہیں ۔
انہوں نےکہاکہ سعودی عرب کی پالیسیاں ہمیشہ شیعہ سنی مسلمانوں کے درمیان اختلافات کوہوادینے پر مبنی رہی ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو دورکرنے کی کوشش کی ہے ۔
موصوف تجزیہ نگار نے کہاکہ اگر سعودی عرب مسلم مالک کےتئیں نیک ارادہ رکھتی تووہ علاقائی ممالک کو مستحکم کرنے کی صیہونیوں کی پالیسیوں پر ہرگز عمل نہیں کرتی ۔
انہوں نے بحران شام میں ترکی کے صدررجب طیب اردوگان کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ترک صدر نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کو بارود کے ڈھیر پر کھڑاکردیا ہے بلکہ پوری دنیا کی سیکورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲