اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ماحولیات، مذاہب اور ثقافت کے موضوع پر دو روزہ عالمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایران نے خطے میں دہشتگردوں کی حکومتیں قائم کرنے کی سازش ناکام بنادی ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ داعش کا مقصد عراق اورشام میں حکومتیں قائم کرنا تھا اور اگر ایران نہ ہوتا تو دنیا کو صرف ایک دہشتگرد گروہ کا نہیں بلکہ ایسے دو ملکوں اور حکومتوں کا سامنا ہوتا جو دہشت گرد چلا رہے ہوتے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایرانی عوام کی جدوجہد کی قدر نہ کرنے والوں کو تھوڑا سا غور کرنا اور دیکھنا چاہیے کہ ایران تشدد اور انتہاپسندی سے پاک دنیا کے قیام کا علمبردار بھی ہے اور عملی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی کررہا ہے۔
انہوں نے ایران کو بقائے باہمی کے حوالے سے ایک مثالی ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب اور نسلوں کے لوگ صدیوں سے ایران میں آباد ہیں اور ایک دوسرے کےساتھ پرامن زندگی گزارتے چلے آرہے ہیں۔
صدر مملکت نے ماحولیات کے تحفظ کے بارے میں عالمی سیمینار کے تہران میں انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی تہران ہے جس نے تشدد اور انتہا پسندی سے پاک دنیا کے قیام کی آواز بلندکی اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اسے ثبت کرایا۔
انہوں نے کہا کہ ساری دنیا کے لیے ایران کا پیغام یہ ہے کہ اعتدال اور میانہ روی کا راستہ اپنایا جائے کیونکہ ہم سب کی نجات اسی میں ہے۔ صدر نے کہا کہ ہمیں اپنے ہم نوعوں اور قدرتی ماحول کے بارے میں تشدد سے دوری اختیار کرنا ہوگی اور اعتدال کا راستہ اپنانا ہوگا۔
صدر نے ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے ساری دنیا کو ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ صدر نےکہا کہ ماحولیات کے تحفظ میں مذہب کا کردار انتہائی اہم اور موثر ہے اور دوسرے یہ کہ یہ معاملہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک لڑی میں پروسکتا ہے ۔
صدر کا کہنا تھاکہ ، ماحولیات کا تحفظ، عالمی امن اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف جنگ ایسے مسائل ہیں جو مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرسکتے ہیں۔
.......
/169