اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: مہدی ہنر دوست پاکستان میں ایران کے سفیر ہیں۔ انتہائی شفیق طبیعت کے مالک کم گو ہیں۔ دوسرے کی بات تحمل سے سنتے ہیں اور اتنہائی شفقت سے جواب دیتے ہیں۔ مہدی ہنر دوست گزشتہ روز لاہور تشریف لائے اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات سے ملاقاتوں کے بعد انہوں نے لاہور کے سینئر صحافیوں اور اینکرز کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ عشائیہ میں انہوں نے ایران کے موقف کے حوالے سے صحافیوں کو آگاہ کیا۔ پاکستان ایران تعلقات، بھارتی جاسوس کی گرفتاری، ایران سعودی عرب کشیدگی، دہشتگردی کیخلاف بننے والے 34 ممالک کے اتحاد اور دیگر امور پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر "اسلام ٹائمز" نے ایرانی سفیر کیساتھ ایک مختصر نشست کی جس کا احوال قارئین کیلئے پیش کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)
اسلام ٹائمز: پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو پاکستان کی معیشت کیلئے "آکسیجن" کہا گیا، معاہدہ ہوا، لیکن اچانک خاموشی چھا گئی، ایران پر پابندیوں کو بھی بہانہ بنایا گیا، اب پابندیاں تو ختم ہو چکی ہیں، لیکن معاہدہ وہیں کا وہیں ہے، اس میں کسی پیشرفت کا امکان دیکھ رہے ہیں؟
مہدی ہنر دوست: پاک ایران گیس پائپ لائن پر ایران کی جانب سے اس کی سرحد کے اندر 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے تاہم پاکستان کی جانب سے ابھی کام شروع ہی نہیں کیا گیا۔ اگر پاکستان آج بھی سرحد کے اِس پار گیس پائپ لائن کی تعمیر شروع کرے تو منصوبہ مکمل کرنے کیلئے کم از کم 2 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ ہم اس حوالے سے مکمل طور پر تیار ہیں۔ معاہدے کے تحت پاکستان ڈیڈ لائن کے اندر کام مکمل نہ کرنے پر ایران کو جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہے، لیکن ایران دونوں ممالک کے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ جرمانہ نہیں لے گا، کیوں کہ پاکستان ہمارا دوست اور بھائی ہے، ہمیں پاکستانی معاشی حالت کا احساس ہے، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور مالیاتی اداروں کے شکنجے سے اس کی جان چھوٹ جائے کیونکہ مالیاتی ادارے جب قرض دیتے ہیں تو ساتھ ہی اپنے مطالبات کی کی فہرست بھی پکڑا دیتے ہیں جس سے ملک کے وقار پر بھی حرف آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ گیس پائپ لائن پاکستان کیلئے اپنی توانائی ضرویات پوری کرنے کا آسان اور سستا ترین طریقہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ چند بیرونی عناصر کو دونوں ممالک کی قربت اور اچھے معاشی تعلقات قبول نہیں۔
اسلام ٹائمز: پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کے موجودہ حجم سے مطمئن ہیں؟
مہدی ہنر دوست: اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا کل حجم ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہے، جو کہ افسوسناک ہے، جبکہ اسے کم از کم 5 ارب ڈالر تک بآسانی لے جایا جا سکتا ہے۔ ایران سے عالمی معاشی پابندیاں ہٹائے جانے کے باوجود بنکنگ نظام میں دونوں ممالک کے کاروباریوں کیلئے آسانی پیدا نہیں ہو سکیں۔ اس سلسلے میں مسلسل پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ ایک دوسرے ممالک کے بینکوں کی موجودگی سے کاروباری طبقے کو ادائیگیوں میں آسانی ہو جاتی ہے۔ اس حوالے سے ایران کی کوشش ہے پاکستانی سرمایہ کار زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ایران میں کریں اور تجارت کو بھی بڑھایا جائے۔ تجارتی حوالے سے لاہور پاکستان کا بڑا حب ہے، ہماری کوشش ہے کہ لاہور کے تاجروں کو مدعو کریں۔ دراصل ایران نے تو تجارت کے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہیں، پاکستانی سرمایہ کار ہی دلچسپی نہیں لیتے، اس میں اگر کوئی اور ملک آ جائے تو پھر پاکستانی شکوہ بھی کرتے ہیں کہ ایران پاکستان کے بجائے دوسرے ممالک کو ترجیح دیتا ہے جبکہ ہماری اولین ترجیح پاکستان ہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تاجر زیادہ سے زیادہ تجارت کریں۔ دوسرا پاکستان اور ایران فطری ہمسایہ ہیں۔ ہماری سرحد ملتی ہے اور اطلاعات کے مطابق بہت سی چیزیں ایران سے پاکستان اور پاکستان سے ایران جاتی ہیں لیکن ہم انہیں قانونی شکل دینا چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں یہ تجارت جائز طریقے سے ہو۔ اس کیلئے پاکستانی تاجروں اور حکومت کو سوچنا ہو گا کیوں کہ ہمارا دروازہ تو کھلا ہے۔
اسلام ٹائمز: بلوچستان سے بھارتی جاسوس کل بھوشن یادو پکڑا گیا، وہ ایک عرصہ سے ایران میں مقیم تھا، دوسرے لفظوں میں ایران کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہی تھی، اور دوسری یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ چاہ بہار کی ترقی کیلئے گوادر کو "ڈی گریڈ" کیا جا رہا ہے؟
مہدی ہنر دوست: پاکستان کی سکیورٹی ایران کی سکیورٹی ہے، دونوں ممالک کے مفادات مشترکہ ہیں۔ کوئی بھی ایرانی پاکستان کیخلاف کسی بھی سازش کا حصہ بننے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ایران نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور یہ پاکستان کا آزمایا ہوا دوست ہے۔ یہ تاثر بھی یکسر بے بنیاد ہے کہ چاہ بہار اور گوادر کے درمیان کوئی مقابلہ ہے۔ یہ دونوں بندرگاہیں ایک دوسرے کی معاون ثابت ہو سکتی ہیں اور اس سلسلے میں پاکستانی حکومت سے متعدد معاہدے بھی ہوئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں پاکستان اور ایران دنیا بھر میں تجارت کریں اور اس کیلئے ہم ایک دوسرے کے دست وبازو بن سکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران اور پاکستان جب مشترکہ طور پر کوشش کریں گے تو اس سے بہتر نتائج سامنے آئیں گے اور اس کا فائدہ بھی دونوں کو ہو گا۔
اسلام ٹائمز: بھارت، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی مخالفت کر رہا ہے، یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ ایران بھی اس معاملے میں بھارت کی معاونت کر رہا ہے؟
مہدی ہنر دوست: ایران پاکستان میں آنیوالی کسی بھی سرمایہ کاری کا قطعاً مخالف نہیں، چین سے بھی ایران کے انتہائی دوستانہ تعلقات ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان منصوبوں کا ایران کو بھی فائدہ پہنچے گا بلکہ دونوں ممالک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایران اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری سے پاکستان میں خوشحالی آئے گی اور خوشحال پاکستان ہمارا بھی خواب ہیں۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں امن ہو، خوشحالی ہو اور اس حوالے سے ہم ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ کچھ مخصوص عناصر ہیں جو ایران بھارت تجارتی تعلقات کو غلط رنگ دے کر پاکستان کو متنفر کرنے کیلئے کوشاں ہیں لیکن ان کی سازشیں کامیاب نہیں ہوں گے، انشاءاللہ، کیوں ہمارا دل صاف ہے، دل صاف ہو تو تصویر دوست نمایاں ہو جاتی ہے۔ ہمارے دل میں پاکستان کی تصویر ہے۔ ایرانی قوم پاکستانی قوم سے محبت کرتی ہے۔ جہاں تک بھارت کی بات ہے تو ہم نے تو تجارت کیلئے سب کیلئے دروازے کھولے ہیں، اب پاکستانی تاجروں نے دلچسپی نہیں دکھائی اور بھارتی تاجر ایران آ گئے تو ہم تو ہر آنیوالے مہمان کا احترام کرتے ہیں۔ اس لئے ہمارے بھارت کیساتھ تجارتی تعلقات کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے جو کہ غلط ہے۔ پاکستانی یاد رکھیں کہ ایران کی سرزمین کبھی بھی پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ہم پاکستان کو ایران کی طرح ہی سمجھتے ہیں، جتنی حفاظت ہم ایران کی کرتے ہیں اتنی ہی پاکستان کی بھی کرتے ہیں۔
اسلام ٹائمز: تو بھارتی جاسوس کے حوالے سے ایران پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گا؟
مہدی ہنردوست: جی بالکل کرے گا، ہم نے تو پاکستانی دفتر خارجہ کو اس بات کی یقین دہانی کروا دی ہے کہ ایران کی سرزمین پاکستان کیخلاف کبھی استعمال ہوئی ہے اور نہ کبھی ہوگی۔ اس حوالے سے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کیا جائے گا اور ایک دوسرے کے ملک کی حفاظت کیلئے بھی کردار ادا کریں گے۔ میں نے پہلے عرض کیا کہ پاکستان کی خوشحالی ایرانی کی خوشحالی ہے، اس لئے ہم پاکستان کیساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے۔ ہمیں آج تک اس بات پر فخر ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلے ایران نے ہی پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ پاکستان کیساتھ ہمارے ثقافتی، سماجی اور مذہبی تعلقات ہیں اور یہ تعلقات لازوال ہیں۔ پھر ایران میں موجود مقامات مقدسہ نے بھی ہمیں ایک لڑی میں پرو رکھا ہے۔
اسلام ٹائمز: شام میں جو صورتحال ہے، اس حوالے سے کیا دیکھ رہے ہیں؟
مہدی ہنردوست: شام میں ہمارا موقف واضح ہے کہ شام میں کس کی حکومت ہو یہ فیصلہ شامی عوام کو کرنے دیا جائے۔ اگر کوئی بیرونی قوت آ کر وہاں کی منتخب حکومت کو گرا دے تو یہ تو کھلی مداخلت ہے۔ یہ تو ان کے حق پر ڈاکہ ہے، کسی بھی ملک کا آئین یا اقوام متحدہ کو کوئی چارٹر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی دوسرا ملک اٹھے اور کسی ملک میں مداخلت کرکے اس کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر حکمرانوں کو گھر بھیج دے۔ اگر شام میں یہ قانون لاگو کیا جاتا ہے تو کل سعودی عرب میں بھی پھر ایسا ہو سکتا ہے تو کیا آل سعود ایسا چاہیں گے کہ ان کے ملک کے اندر مداخلت ہو۔ تو ہم سمجھتے ہیں کہ بیرونی مداخلت کی بجائے شامی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔
اسلام ٹائمز: عرب ممالک ایران سے پابندیاں ہٹنے سے کیوں پریشان ہیں، اور عرب ممالک یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ ایران کی وجہ سے تیل کی پیداوار کا کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا؟
مہدی ہنردوست: عرب ممالک کا یہ موقف کہ ایران کی وجہ سے تیل کی پیداوار پر کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا مضحکہ خیز ہے۔ ایران سے ابھی معاشی پابندیاں ہٹائی گئی ہیں اور اس کی پیداوار اس کو ’’اوپیک‘‘ کی جانب سے دیئے گئے کوٹے سے کئی گنا کم ہے۔ ایسے میں ایران سے پیداوار مزید کم کرنے کی توقع رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ابھی تو ہم اپنے کوٹے تک بھی نہیں پہنچے اور یہ پہلے ہی پریشان ہو گئے ہیں۔ دراصل عرب کچھ حکمران کسی اور کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ان کی ڈوریاں کہیں اور سے ہلتی ہیں۔ اس لئے یہ ایران سے خواہ مخواہ میں ہی خوفزدہ ہیں۔ دراصل اسلام دشمن قوتیں ایران اور عربوں کو متحد نہیں ہونے دیتیں، ان کی کوشش ہے کہ عربوں کو ایران سے اس انداز میں خوفزدہ کر دیا جائے کہ عرب ایران کے قریب بھی نہ بھٹکیں۔ آپ دیکھیں کہ ایران اپنے دفاع کیلئے کوئی میزائل بنا لے یا کوئی اور دفاعی چیز کا تجربہ کر لے تو مغربی میڈیا فوراً اسے عربوں کیخلاف پوٹریٹ کرتا ہے۔ عربوں کو یہ کہہ کر ڈرا دیا جاتا ہے کہ ایران نے یہ مزائل عربوں کو نشانہ بنانے کیلئے بنایا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے اور آج ہم بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران کسی بھی مسلمان ملک کیلئے خطرہ نہیں، ہاں ایران اگر خطرہ ہے تو ناجائز ریاست اسرائیل کیلئے خطرہ ہے۔ ایران امت مسلمہ کو متحد دیکھنا چاہتا ہے اس کیلئے ہماری کوششیں بھی جاری ہیں۔ اور انشاء اللہ ہم امت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے رہیں گے۔
اسلام ٹائمز: خدا کرے کہ امت متحد ہو، لیکن سعودی عرب کے ایران کیساتھ تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں، ابھی حال ہی میں آیت اللہ باقر النمر کی شہادت کے بعد اس کشیدگی میں اضافہ ہوا، کیا مستقبل میں کوئی صورت دکھائی دے رہی ہے کہ ایران اور سعودی عرب ایک میز پر آ جائیں؟
مہدی ہنر دوست: ایران ہر مظلوم کا حامی اور ظالم کا مخالف ہے، جہاں تک آیت اللہ باقرالنمر کی شہادت کا معاملہ ہے تو یہ ایک ظلم تھا جو ایک مظلوم پر کیا گیا۔ آیت اللہ نمر نے اپنے حق کیلئے بات کی تھی۔ وہ سعودی شہری تھے۔ لیکن سعودی عرب میں شاہی خاندان کیخلاف کسی کو بھی آواز اٹھانے کی اجازت نہیں، آیت اللہ نمر کی مظلومیت کی ہم نے حمایت کی تھی۔ اور اب بھی ہم مظلوموں کے ساتھ ہیں۔ عربوں کو ایران سے شیعہ ریاست کہہ کر خوفزدہ کیا جاتا ہے لیکن ہم نے کبھی اپنے آپ کو شیعہ ریاست کے طور پر نہیں دیکھا، ہم نے ہمیشہ امت مسلمہ کی بات کی ہے۔ ہم فلسطین میں سنی مسلمانوں کی حمایت کر رہے ہیں، جہاں سارے سنی عرب خاموش ہیں، حالانکہ یہ ذمہ داری ان کی تھی کہ وہ ظالم اسرائیل کیخلاف آواز اٹھاتے لیکن وہ اسرائیل کیخلاف نہیں بولتے اور اپنے سنی بھائیوں پر تشدد برداشت کئے جا رہے ہیں، ہم نے فلسطین کی کھل کر حمایت کی۔ اسی طرح یمن میں ہم نے مظلوم سنیوں کا ساتھ دیا۔ جبکہ سعودی عرب نے مظلوموں کا ساتھ دینے کے بجائے ظالم حکمران کی حمایت کی اور اس کی حمایت میں مساجد پر بمباری کی گئی، قرآن مجید کو شہید کیا گیا۔ بے گناہ شہری جن میں بچے اور عورتیں شامل تھیں انہیں شہید کیا گیا تو کون سی "سنیت" ہے۔ اہل سنت ہمارے بھائی ہیں اور شیعہ اور سنی اسلام کے دو بازو ہیں جنہیں جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں تک سعودی عرب کیساتھ کشیدگی کی بات ہے تو ہم نے ہر بار سعودی عرب کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی۔ ہم خود پہلے آئے، کیوں کہ ہمیں امت مسلمہ کا مفاد عزیز ہے لیکن سعودی عرب مذاکرات کی میز سے بھی بھاگ کیا۔ ابھی جب وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف ایران کے دورے پر گئے تو ہم نے واضح کہا کہ ہم مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں آپ سعودی عرب کو لائیں تو دونوں خاموش ہو گئے۔ کیونکہ سعودی عرب نہیں چاہتا کہ میز پر آئے۔ اسے علم ہے کہ میز پر آیا تو ظالموں کا ساتھ دینے کا سوال اٹھایا جائے گا جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔
اسلام ٹائمز: آپ کے قیمتی وقت کا احساس ہے، آخری سوال کا جواب دے دیں کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے 34 رکنی اتحاد کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
مہدی ہنر دوست: یہ اتحاد کئی لحاظ سے مضحکہ خيز ہے کیونکہ اس میں دہشتگردی سے متاثرہ ممالک عراق و شام اور اس کے علاوہ الجزائر، لبنان اور ایران شامل نہیں۔ داعش عالمی سلامتی کیلئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ سعودی فوجی اتحاد میں دہشتگردی اور جنگ سے متاثرہ ممالک عراق و شام اور اس کے علاوہ الجزائر، لبنان اور ایران کو اس اتحاد میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ دہشتگردی کیخلاف بنایا جانیوالا سعودی فوجی اتحاد مضحکہ خیر ہے، ایک طرف سعودی عرب نے دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے فوجی اتحاد بنایا ہے تو دوسری جانب دہشتگردوں اور انتہاپسندوں کی کھلی مدد کی جا رہی ہے۔ ایران اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرے گا۔ انسداد منشیات اور انسداد دہشتگردی کیلئے ایران خلوص نیت سے کوششیں کر رہا ہے اور اپنی سرزمین کو منشیات سملنگ اور دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ یہ اتحاد بھی بیرونی اشارے پر بنا ہے جو بہت جلد بری طرح ناکامی سے دوچار ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔
/169