18 اپریل 2016 - 18:49
سعودی عرب کی تیل کی سیاست ایران کے ساتھ اس کی کشمکش کی دین ہے

توانائی کے امور میں امریکہ کے صدر کے سابقہ مشیر نے دوحہ کی بیٹھک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا؛ سعودی عرب کی تیل کی سیاست اس ملک کی ایران کے ساتھ جیوپولیٹیکی کشمکش کی پیداوار ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  وائٹ ہاوس کے ایک سابقہ عہدیدار کا کہنا ہے کہ ریاض کی تیل کی سیاست اور خاص کر دوحہ کی بیٹھک میں اس کا حالیہ موقف ریاض کی تہران کے ساتھ کشمکش کی ایک اور علامت ہے ۔
ایٹمی سمجھوتے کے بعد ایران پر سے تیل کی پابندیاں اٹھ جانے کے بعد تہران نے توانائی کی عالمی منڈی میں اپنی سابقہ پوزیشن کو حاصل کرنے کی کوشش شروع کی لیکن اس کوشش کے چلتے سعودی عرب کے اس ملک کے ساتھ معاندانہ موقف میں شدت آ گئی ہے ۔ سعودی حکام دعوی کرتے ہیں کہ  تیل کی عالمی قیمت میں شدید گراوٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے اوپیک کے تمام ارکان کو چاہیے کہ تیل کی پیداوار کو موجودہ مقدار تک محدود رکھیں ۔

ایران نے بار ہا تاکید کی ہے کہ وہ تیل پر پابندیوں سے پہلے  والے عالمی منڈی میں اپنے حصے کو دوبارہ حاصل کرنے کے در پے ہے اور ایران کی عدم موجودگی میں جن ملکوں نے اپنے تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا ہے وہ اپنی پیداوار کو کم کریں ۔

روس سمیت اوپیک کے ارکان نے دوحہ میں ایک بیٹھک کی تا کہ تیل کی پیداوار کم کرنے کے سلسلے میں فیصلہ کریں لیکن یہ بیٹھک بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی ،کل یعنی ایتوار کا اجلاس ایران کی موجودگی کے بغیر ہوا تھا ۔

مغربی نیوز ایجینسیوں منجملہ رائٹرز نے اپنی رپورٹوں میں دوحہ کی بیٹھک کی ناکامی میں سعودی عرب کا ہاتھ ہونے پر تاکید کی ہے ۔

جب کہ سعودی عرب نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ ایران کی شرکت کے بغیر بھی تیل کی پیداوار کم کرنے کی حمایت کرے گا ،لیکن جب دوحہ کا اجلاس منعقد ہوا تو اپنے موقف میں ۱۸۰ ڈگری کا ٹرن لے کر    اس نے اعلان کیا کہ ہم اس منصوبے کی اسی وقت حمایت کریں گے جب ایران اجلاس میں موجود ہو گا ۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق توانائی کے امور میں امریکہ کے صدر کے سابقہ مشیر نے دوحہ کی بیٹھک کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے تاکید کی کہ سعودی عرب کے موقف اور اس کی سیاست سے ایران کے ساتھ اس کی جیوپولیٹکی کشمکش کے جاری رہنے کا پتہ چلتا ہے ۔

جیسون بوردوف نے کہا ؛ یہ سچائی کہ سعودی عرب تیل کی پیداوار کو کم کرنے میں رکاوٹ بنا ہے کافی حد تک یہ بتاتی ہے کہ اس ملک کی تیل کی سیاست  اس کی ایران کے ساتھ جیوپولیٹیکی کشمکش سے کس قدر متائثر ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲