اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کے مشرقی علاقے العوامیہ کے ہزاروں افراد نے غم و غصے کی حالت میں ایک ایسے جوان کا جلوس جنازہ نکالا جو ۲۶ دن آل سعود کے مزدوروں کے زیر تشدد رہا۔
سعودی رژیم کے حکام نے چار مارچ ۲۰۱۶ کو شہید مکی العریض کے گھر والوں کو ٹیلیفون پر یہ بتایا کہ العریض جیل میں گرفتاری کے دو دن بعد ڈر و خوف کی وجہ سے فوت کر گیا ہے۔
مکی العریض کو ایسے حال میں ایک چیک پوسٹ سے گرفتار کر لیا گیا کہ وہ اپنے کام پر جا رہا تھا۔
العریض کے گھر والوں کے بیانات کے مطابق اس شہید کے بدن پر موجود تشدد کے نشان اس بات کی علامت ہیں کہ اسے شدید تشدد کی وجہ سے شہید کیا گیا۔
سعودی مزدوروں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نفسیاتی بیماری کا شکار تھا اور جیل میں خوف کی وجہ سے جان دے گیا جبکہ اس شہید کی شائع ہوئی تصاویر اور اس کے جسم پر واضح زخموں کے نشان سعودی مزدوروں کے اس بے بنیاد دعوے کے جھوٹ کو ثابت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ آل سعود حکومت نے رواں سال کے شروع میں ہی اس ملک کے بزرگ عالم دین آیت اللہ نمر باقر النمر کو پھانسی دی جبکہ تازہ خبروں کے مطابق سعودی جیلوں میں موجود تین شیعہ جوانوں کو بھی پھانسی دئے جانے کے احکامات جاری کر دئے گئے ہیں۔














