اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسرائیل حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ کے ایٹمی بمب کے حالیہ چیلینج کو نظر انداز نہیں کر سکا ۔
لبنان کے روز نامہ الاخبار نے آئندہ ممکنہ جنگ کے بارے میں سید مقاومت سید حسن نصر اللہ کی تقریر پر صہیونیوں کے رد عمل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے : وہ ایٹم بمب جو سید حسن نصر اللہ نے اسرائیل کے سکان اور حکام کے سروں پر پھوڑا ہے اور ضمنی طور پر حیفاء میں آمونیک گیس کے مخازن کو نشانہ بنانے کی بات کہی ہے وہ بات تل ابیب کی ذرائع ابلاغی سیاست سے بڑی تھی کہ وہ اس کو کنٹرول کر سکتے اور اسرائیل کے عام افکار پر اس کے اثر میں کمی کر سکے ۔
حزب اللہ کے سربراہ نے اپنی حالیہ تقریر میں کہا : صہیونی آنے والی ممکنہ جنگ سے ڈرتے ہیں ، وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں مقاومت حیفاء کے گیس کے مخازن کو نشانہ نہ بنا دے کہ جس کے نتیجے میں ۸ لاکھ افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا اندیشہ ہے ۔ان کا ماننا ہے کہ گیس کے ان مخازن سے جو دھماکہ ہو گا وہ ایک ایٹم بمب کے برابر ہو گا ،ان کی نظر میں ہمارے پاس ایٹم بمب ہے (حاضرین کا قہقہہ)
الاخبار نے مزید کہا : اسرائیل شاید جو دھمکیاں اس کی طرف متوجہ ہیں ان کو کنٹرول کر لےلیکن نصر اللہ کی دھمکیوں کا سامنا کرنے سے وہ ناتوان ہے اس لیے کہ نصر اللہ کی دھمکی کا اسرائیل کے عام افکار پر خاص اثر پڑتا ہے ۔ اس کی دلیل وہی ہے جو واضح ہے اور سب جانتے ہیں کہ نصر اللہ اعتبار رکھتے ہیں جو برسوں کی محنت سے حاصل ہوا ہے اور اسرائیلیوں نے بارہا اس کا تجربہ کیا ہے ۔
اس رپورٹ کی بنیاد پر جو دھمکیاں نصر اللہ نے حال ہی میں دی ہیں ان کے دو حصے ہیں ۔۔۔ پہلا حصہ حیفاء میں گیس کے مخازن کی موجودیت کے بارے میں ہے اور اس واقعیت کو قبول کرنا کہ اگر وہ میزائل کا نشانہ بنے تو ممکن ہے کہ دسیوں ہزار آدمیوں کی موت کا سبب بن جائے ، دوسرا حصہ ، حزب اللہ کی فوجی طاقت ہے کہ جو ان مخازن کو نشانہ بنا سکتے ہیں یہ وہ امر ہے کہ اسرائیل کے سربراہ اس پر متفق ہیں اور اس پورے مسئلے کا دارو مدار حزب اللہ کے ارادے پر ہے ۔
اسی دائرے میں اسرائیل ٹی وی کے چینل نمر ۲ نے ایک خاص پروگرام میں اسرائیل کے ذرائع ابلاغ کے نصر اللہ کا پیغام اسرائیل کے گھر گھر تک پہنچانے میں حصے کے بارے میں بتایا اور اسرائیلی ماہرین نے متفق القول ہو کر اعتراف کیا کہ اس امر کی ایک اصلی علت موجود ہے اور وہ نصر اللہ کا اعتبار اور اس کی کار آزمائی ہے ۔
عوید بن عامی اسرائیلی فوج کے سابقہ ترجمان اور اسرائئیل کے چینل ۲ کے خبر نگار نے اس سلسلے میں بتایا : وہ مشکل کہ جس کا اسرائیل کو سامنا ہے وہ یہ ہے کہ نصر اللہ نے ماضی میں ثابت کر دیا ہے کہ وہ سچے ہیں اور جھوٹ نہیں بولتے ۔وہ ہمیشہ اپنی گفتگو میں حقائق کا سہارا لیتے ہیں ۔
اس نے مزید کہا : جی ہاں حیفا میں آمونیک گیس کے مخازن ہیں اور ان کے نزدیک دس لاکھ سے زیادہ لوگ زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ ایک واقعی خطرہ ہے ۔
بن عامی نے اسی طرح اسرائیل کے چیف آف آرمی اسٹاف گاڈی ایزنکوٹ نے اسرائیل کی باتوں پر جو رد عمل دکھایا ہے اس کی طرف توجہ کرنے کا مطالبہ کیا اور تاکید کی کہ حزب اللہ نے بہت بڑی میزائلی توانائی حاصل کر لی ہے ۔
بن عامی نے یہ بھی کہا ؛ میں تو جو کچھ نصر اللہ نے کہا ہے اس پر یقین کرتا ہوں ،وہ جس ایٹم بمب کی بات کرتے ہیں عملی طور پر اسے داغنے پر بھی قادر ہیں ۔ ان کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے ۔۔۔ نصر اللہ نے گذشتہ سال بھی ایک موقف اختیار کیا تھا اور کچھ باتیں کہی تھیں جو اہم تھیں اور ضروری تھا کہ انہیں اسرائیلیوں کے کانوں تک پہنچایا جائے اور میری میڈیائی ذمہ داری بھی یہی ہے خاص کر جو کچھ نصر اللہ کہتا ہے وہ اہم اور حساس مسائل کے بارے میں ہے ۔
اسی طرح روزنامہ ھا آرتص نے بھی جمعرات کے دن اس موضوع کو چھیڑا تھا اور لکھا تھا کہ حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری کی تقریر اور حیفاء کے گیس کے مخازن کو نشانہ بنانے کے بارے میں ان کی دھمکیاں اسرائیل کے چیف آف آرمی اسٹاف کے نظریے سے مربوط تھیں ،جو نظریہء ضاحیہء کے نام سے مشہور ہے کہ جس کی اس نے ماضی میں لبنان کو دھمکی دی تھی ۔ نصر اللہ نے در حقیقت ان دھمکیوں کے ذریعے اسرائیل کو لگام دینے اور طاقت کے توازن کی حفاظت کرنے کے سلسلے کو آگے بڑھایا ہے ۔
نظریہء ضاحیہ کا اشارہ ایزنکوٹ کے عقیدے کی طرف ہے کہ جس کا ماننا تھا کہ اسرائیل کو بیروت پر حملے میں جنوب بیروت کو بیروت سمیت خاک میں ملا دینا چاہیے ۔اب نصر اللہ کی دھمکی کہ اگر ایک میزائل بھی آمونیک گیس کے مخازن پر گرے تو ایزنکوٹ کے بقول وہ ایک ایٹم بمب کے برابر کام کرے گا ۔
ھا آرتص نے مزید لکھا ہے : آیندہ جو (خرداد ۔ تیر ماہ ) میں اسرائیل میں بعض لوگ سال ۲۰۰۶ کی جنگ (۳۳ روزہ جنگ ) کی طرف اشارہ کریں گے اور کامیابی کی داستان دوہرائیں گے اور کہیں گے کہ موجودہ امن کا ماحول لبنا ن کے خلاف اس جنگ کا نتیجہ ہے ۔لیکن وہ ایک اصلی مسئلے کو نظر انداز کریں گے اور وہ دونوں طرف کی روکنے کی طاقت ہے ۔اسرائیل کو اس نقصان کے متحمل ہونے کے خوف نے کہ جو حزب اللہ کےلاکھوں میزائلوں کے گرنے سے ہو سکتا ہےروک کر رکھا ہے ۔ یہ وہی اصلی علت ہے کہ جس نے اسرائیل کو لبنان کے ساتھ ایک اور جنگ شروع کرنے سے روک کر رکھا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲