6 فروری 2016 - 16:45
ایران کا اسلامی انقلاب اقوام عالم کے لیے نمونہ راہ

اسلامی انقلاب انسان کی زندگی کے محور پر تعلیمات کو زندہ کرنے کی کوشش اور قومی سطح سے اوپر اٹھ کر زندگی کی روش کا نام ہے ،دوسرے لفظوں میں یہ ان انقلابات میں سے ہے کہ جس کی حرکت اور جس کے آثار کسی ایک ملک کی سرحد میں محدود نہیں بلکہ اس کے نظریات ایسے ہیں کہ جو کسی ایک ملت کی ملکیت نہیں بلکہ دنیا کی تمام آزادی پسند ملتوں کے لیے نمونہ بن سکتے ہیں ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران میں 1979 ء عظیم اسلامی انقلاب بیسویں صدی میں سب سے زیادہ اہم آزادی بخش ، حقیقت جو اور ظلم سے لڑنے والی تحریک ہے،اور تب سے آج تک ستم رسیدہ ملتیں اس کی راہ و روش پر عمل کر رہی ہیں ۔

 اس بار عوام نے معاشرے کے مختلف طبقات اور آزادی بخش دینی عقاید پر اعتماد کرتے ہوئے پہلوی جابر نظام کو زوال کی دھول چٹانے کے لیے سر اٹھایا اور خود آگاہی اور خود اعتمادی کے ساتھ حکومت جمہوری اسلامی کو تشکیل دیا ۔

ایران کے عظیم اسلامی انقلاب کا اصلی محرک  حضرت امام خمینی (رہ) کی رہبری تھی

گذشتہ ادوار میں ایران کی سیاسی تاریخ اورسیاسی تبدیلیاں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ ایران میں ہمیشہ ایک متحدہ اور پایدار سیاسی ڈھانچہ نہیں تھا؛ تاریخی دستاویزات اس کی گواہ ہیں کہ اگر ایران میں ایک حکومت گرتی رہی ہے تو دوسری حکومت کے وجود میں آنے تک وہ اندرونی انتشار اور ہرج و مرج کا شکار رہتا  ،اور اکثر حکومتوں کا یہ عروج و زوال کسی بھی قانون کے تحت نہیں  رہا ہے ، نیز  ان حکومتوں کے جابرانہ سلوک اور عوام کی حمایت ان کو حاصل نہ ہونے کی وجہ سے کبھی بھی ان کو خطرے ،سقوط اور کمزوری کے وقت عوام کی حمایت حاصل نہیں رہی اور کبھی اس سرزمین میں کوئی خود جوش حرکت ابھرتی بھی رہی تو اس کی بنیاد قومی ثقافت اور عقاید پر استوار ہوتی رہی  اور اس میں بھی حالیہ ایک دو صدیوں میں شدت آ گئی ،جونہ صرف نابودی کے دہانے پر کھڑی کسی حکومت کی حمایت میں نہیں  !  بلکہ مثال کے طور پر قاجاریوں کی حکومت کو بدل کر پہلوی حکومت لانے میں لوگوں کا ہلکا سا بھی عمل دخل نہیں تھا ،یہاں تک کہ لوگ پہلویوں کو قاجاریوں کے ظلم و استبداد سے نجات دلانے کا ذریعہ سمجھتے تھے دھیرے دھیرے جب پہلویوں کی ماہیت اور حقیقت لوگوں کے سامنے آئی تو لوگ اس حکومت سے بھی روگردان ہو گئے اور اگر کچھ عرصے کے لیے ہم نے عالمی جنگ میں پہلی پہلوی حکومت کے زوال کو دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ لوگوں نے اس  حکومت کے زوال کی حمایت نہیں کی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ملت اس استبدادی حکومت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی تھی ؛اور اگر متفقین کے ذریعے ایران پر قبضے کے دوران اس قبضے کے خلاف جد و جہد عمل میں آئی بھی تو وہ بھی ان طوائف اور قبایل کی طرف سے تھی کہ جو ایران کے نوزاد نیشنلزم سے متائثر تھے ۔

جب حکومتوں کو خطرہ در پیش ہوتا تھا اور لوگ ان کی حمایت نہیں کرتے تھے تو بدلے میں حکومتیں بھی عوام کو اقتدار میں حصہ نہیں دیتی تھیں اور ان کی کوئی  پرواہ نہیں کرتی تھیں ۔ لیکن قاجاریوں کے دور کے بعد حکوت صفویوں کی طرح شیعہ علماء کو سیاسی معاملات میں شامل کرنے پر مجبور ہوئی اور اکثر اندرونی اور بیرونی مشکلات کے موقعے پر  علماء کے نفوذ سے  حکومتیں فائدہ اٹھاتی تھیں مثال کے طور پر قاجاریوں کے زمانے میں جب ایران کو روس سے شکست ہوئی تو جہاد کے عنوان سے رسالے لکھ کر علماء نے لوگوں کو قاجاریوں کی حکومت کا ساتھ دینے پر اکسایا ۔

پہلوی حکومت کے دور میں ان کی استبدادی ماہیت میں دن بدن اضافے اور زندیہ اور صفویہ کے دور کی طرح مغربیوں کا نفوذ بڑھنے کی وجہ سے علماء اس حکومت سے دور ہو گئے اور ہمیشہ اس پر تنقید کرنے لگے بلکہ علماء اس فکر میں تھے کہ اپنے معنوی اور روحانی نفوذ سے استفادہ کرتے ہوئے  پہلوی حکومت کا قرب حاصل کرنے کے بجائے یہ فکر ان کے اندر شدت پکڑنے لگی کہ اسلامی دستورات کی بنیاد ایک عوامی حکومت تشکیل دینے کے لیے جدو جہد کی جائے ،اور شیعیت میں مرجعیت کا جو اثر و نفوذ ہے اس کو استعمال کر کے اور شیعہ فقہاء کے درمیان آراء کے تبادلے کو موثر بنا کر ایک ایسا اتحاد وجود میں لایا جائے کہ جو اس بات کا قایل ہو کہ دین سیاست میں دخیل ہے اور پھر ان میں سے کچھ علماء جو استبدای حکومت کے خلاف تھے امام خمینی (رہ ) کی رہبری میں ایک ایسی تحریک چلانے میں کامیاب ہوئے کہ عوام نے جس کو ہاتھوں ہاتھ لیا ،اور ایک ایسی بھرپور دینی عوامی تحریک وجود میں آئی کہ جس کا محور استبداد کی مخالفت میں شیعیت کی سیاسی فقہ تھی کہ جس نے آخر کار اپنے دور کے سب سے برجستہ فقیہ امام خمینی (رہ) کی رہبری میں پہلوی استبدادی حکومت کی بساط الٹ کر اسلامی انقلاب برپا کرکے اسلامی حکومت کو دینی تعلیمات کی بنیاد پر قائم کر لیا ۔

انقلابی شوق و نشاط کو بڑھانا نظام کے فکری مھہندسوں اور مبلغوں کی ذمہ داری

موجودہ حالات میں اسلامی انقلاب کی تکوین و تعریف اور انقلابی شوق و نشاط میں اضافہ کرنا نظام اور حکومت کے فکری انجینئروں اور مبلغوں کی ذمہ داری ہے  کہ جمہوری اسلامی کے مقدس نظام کے اصلی مقصد کا لحاظ کریں اور ایران میں سال 1979 ء مطابق  1359 ہجری شمسی کے اسلامی انقلاب کے اصول کی پاسداری کریں کہ جو اکثریت کو جذب کرنا ہیں اور تمام تھیوریوں اور نظریوں میں اور اجتماعی اور ثقافتی ترقی کے تمام منصوبوں میں اس کا لحاظ رکھا جائے ۔

اسلامی انقلاب کا وقوع اور عوامی جمہوری اسلامی کی تشکیل استبداد زدہ ایران میں نوزاد عوامی حکومت کے ایک جدید تجربے کو  امتحانوں اور خطاوں سے گذرنا ضروری تھا  کہ جو آج بھی آزمائش اور اصلاح کے دور سے گذر رہا ہے ،اور یہ تجربہ جو نسبتا کامیاب تجربہ  ہے جو وحدت طلبانہ انسانی اصول کی پابندی کی جانب مایل ہونے کے ساتھ  ،اور آزادی و استقلال کے  اصول کی منطقی تعریف  کے ساتھ اس کوشش میں ہےکہ قومی ارادے کی بنیاد پر استوار نو زاد حکومت کی بنیادوں کو مضبوط کرے اور ایک آئیڈیل اور آرزووں کو پورا کرنے والی حکومت کی تشکیل میں مدد گار ہو لیکن اس راہ پر چلنے میں حکومت اور ملت کو کافی سارے پیچ و خم سے گذرنا پڑ سکتا ہے اور یقینا اس مقصد تک پہنچنا دشوار ضرور ہے مگر روشن مستقبل کا آئنہ دار ہو گا ۔

انقلاب اسلامی ایران تمام آزادی پسند ملتوں کے لیے نمونہء راہ ہے

سیاسی اور اجتماعی علوم کے بہت سارے روشن فکر افراد اور مفکروں کا ماننا ہے کہ انقلاب اسلامی ایران مسلمانوں کو آگاہی دینے اور اسلامی معاشروں کے اندر موئثر اسلامی تگ و دو میں اضافہ کرنے میں ایک موئثر عامل رہا ہے ۔اسلامی انقلاب ایک ایسی کوشش ہے جس کا مقصد انسانی حیات کے محور پر تعلیمات کو زندہ کرنا اور قومی ،ملی اور مذہبی مباحث سے اوپر اٹھ کر زندگی کی روش کو اجاگر کرنا ہے ۔دوسرے لفظوں میں اسلامی انقلاب ان انقلابات میں  سے ہے کہ جس کی حرکت اور جس کے آثار کسی ملک کی سرحد کے اندر محدود نہیں بلکہ اس کے نظریات قومی سطح سے اوپر اٹھ کر ہیں ، اسی لیے اس کی فطرت میں پھیلنا ہے۔لہذا وہ تمام آزاد قوموں کے لیے نمونہء عمل بن سکتا ہے ۔ایک انقلاب آنے سے کسی ملک اور معاشرے کے انسانی ۔ اجتماعی روابط میں ایک عجیب رد و بدل رونما ہوتا ہے اور وہ اس ملک  کے تازہ تاریخی عمل میں قدم رکھنے کا راستہ ہموار کرتا ہے ۔ حقیقت میں  انقلاب کی وجہ ایک بیمار  اور بحران زدہ معاشرہ ہوتا ہےجو عالم سیاست پر منفی  اور تباہی کے اثرات چھوڑتا ہے ،لیکن اس سکے کا دوسرا رخ اس انقلاب کے مثبت پہلو کو دیکھنا ہے ۔ ایک بیمار معاشرے میں انقلاب اس کی بیماری کو دور کرنے اور اسے پستی کے خطرے سے بچانے کے لیے آتا ہے دوسرے لفظوں میں ،انقلاب انسانی معاشروں کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو آشکارا طور پر معاشرے کو پہلے اور بعد کے دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے ۔ان تبدیلیوں اور واقعات کی تائثیر کہ جو انقلاب سے وجود میں آتی ہیں غیر متوقع اور اتنی گہری ہوتی ہے کہ جس کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور وہ دیر سے رونما ہوتی ہے ۔ انقلاب کا کام ایک الگ انسانی ڈھانچے اور اجتماع کی بنیاد رکھنا ہے ،اور یہ دگر گونی اس وقت تک ممکن نہیں ہے کہ جب تک پورے معاشرے یا اس کے کچھ حصے میں گہری فکری اور ثقافتی تبدیلی نہ آ جائے ،کہ جس کے بعد معاشرے کی اجتماعی تنظیم کے اندر اور اس کے جذبات میں دوسری تبدیلیاں بھی رو نما ہوں گی ۔

انقلاب ایران ایک جہادی تحریک تھی جس کا مقصد مغربی ثقافت کو بدلنا تھا

ملت ایران کی انقلابی حرکت ایک جہادی تحریک تھی جس کا مقصد مغرب کی ثقافتی اور فکری روشوں کو بدلنا تھا اور جس کی کوشش ہے کہ ایک ایسا نظام وجود میں لائے جو ایران اسلام کی تمدنی اور ثقافتی خواہش کے مطابق ہو ۔اس لیے کہ صدیوں سے ملت ایران کی ثقافتی اور تاریخی ماہیت دینی افکار پر استوار رہی ہے اور دین ایران کی اجتماعی زندگی میں ہمیشہ سے رہا ہے ۔ایسے افکار کی ترویج کہ جن میں دین کو نظر انداز کیا گیا تھا گہرے فکری بحران کا باعث بنی کہ جس کے بعد کے جھٹکوں نے تمام سیاسی ،ثقافتی اور اقتصادی میدانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔اس غیر دینی حرکت کے مقابلے میں  اجتماعی حرکت نے کوشش کی کہ اس نئے بحران کا مناسب جواب دے سکے ،لہذا انقلاب کا اہم ترین مقصد دین کا احیا اور دینی اور ملی ہویت پر مبنی ایک دلچسپ نمونہ پیش کرنا بن گیا ۔

آخر میں یہ بتا دیں کہ اس انقلاب اور اس کی بنیادوں کی گہری شناخت  وہ بھی خاص کر انقلاب کی بعد کی نسلوں کے لیےمتعدد جہات سے ضروری ہے ۔اس بنا پر اس موضوع کی اہمیت جوان تعلیم یافتہ نسل کے لیے کہ سوال پوچھنا اور آرزوئیں رکھنا جن کی خصوصیت ہے اور علمی ،ثقافتی اور سیاسی معاشرے کی پاسداری ان کی ذمہ داری ہے ، زیادہ قابل درک ہے ؛اس لیے کہ موجودہ حالت کی شناخت اور ملک کے حال اور مستقبل میں اجتماعی اور سیاسی ذمہ داریوں کو پورا کرنا  انقلاب اور اس پر اثر انداز ہونے والے عوامل کی آگاہی اور تحقیق پر مبنی تحلیل کی پناہ میں ہی امکان پذیر ہے ۔

ترجمہ ؛ سید مختار حسین جعفری 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲