3 فروری 2016 - 17:48
الازہر ادیان کی توہین کا مخالف ہے: عباس شومان

جو لوگ ادیان کی توہین کی ممانعت کے قانون کی مخالفت کرتے ہیں انہیں یہ ضمانت فراہم کرنی ہوگی کہ اگر اس قانون کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے تو ادیان کے خلاف حملات کا سلسلہ شروع نہیں ہونا چاہئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مصر کے قوانین میں ادیان کی توہین کی ممانعت شامل ہے جس کے رو سے حال ہی میں اہلسنت دینی متون کی تنقید کرنے والے منتقد "اسلام بحیری" کو عدالت نے سزا سنا کر جیل روانہ کیا تھا اور اس پر کئي سیاسی اور فکری شخصتوں نے عدالت کے اس حکم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا  کہ ادیان کی توہین کی ممانعت کا قانون تنقید کرنے والوں کو جیل بھرنے کیلئے بہانے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

الازہر کے ترجمان "عباس شومان" نے اس قانون کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا: الازہر ادیان کی توہین کا مخالف ہے اور بہرحال قانون کو بنانا یا کالعدم قرار دینا مصر کے دینی مراکز کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا: الازہر نے ادیان کی توہین کی ممانعت کا قانون نہیں بنایا ہے اور یہ قانون تمام ادیان کی حمایت میں ہے صرف اسلام کے لئے مخصوص نہیں ہے بہرحال الازہر کے حد اختیار میں نہیں ہے کہ وہ قانون کو بنائے یا کالعدم قرار دے۔

الازہر کے نمائندے نے مزید کہا:جو لوگ ادیان کی توہین کی ممانعت کے قانون کی مخالفت کرتے ہیں انہیں یہ ضمانت فراہم کرنی ہوگی کہ اگر اس قانون کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے تو ادیان کے خلاف حملات کا سلسلہ شروع نہیں ہونا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲