اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق میں ’’الحشد الشعبی‘‘ نامی رضاکار فورس جو عراقی مجاہد جوانوں پر مبنی ہے نے اس ملک کے کئی علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کروایا ہے۔
حالیہ ہفتوں دھشتگرد ٹولے داعش کو الحشد الشعبی کے ہاتھوں ہوئی مسلسل شکست کے بعد داعش نے شیعہ سنی تفرقے کی غرض سے اس فورس کے خلاف ایک نیا پروپیگنڈا شروع کیا ہے۔
داعش نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں رہنے والے شرپسند افراد کی مدد سے سوشل میڈیا پرقتل و غارت اور مساجد کی مسماری پر مبنی تصاویر کو شائع کرکے انہیں الحشد الشعبی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔
داعش نے ان تصاویر کو الحشد الشعبی کی طرف منسوب کر کے اس بات کو لوگوں میں شائع کرنے کی کوشش کی ہے کہ الحشد الشعبی نے سنی مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اور ان کی مساجد کو مسمار کیا ہے جبکہ یہ تمام تصویریں جو الحشد الشعبی کی طرف منسوب کی جا رہی ہیں وہ خود دھشتگرد ٹولے داعش کے جرائم ہیں۔
اس بارے میں مزید تحقیقات کے بعد انکشاف کیا گیا ہے کہ مساجد کو مسمار کئے جانے کی تصاویر کچھ شام کی ہیں جو شام میں دھشتگرد ٹولوں نے مسمار کی ہیں اور کچھ عراق کی ہیں جو خود داعش نے مسمار کی ہیں۔
مزید تحقیقات کے مطابق عراق میں داعشی عناصر نے چند روز قبل الحشد الشعبی کی وردی پہن کر کچھ لوگوں کا قتل عام کیا اور اس کے بعد ان تصاویر کو سوشل میڈیا پر شائع کر کے عراقی جوانوں پر مبنی رضاکار فورس الحشد الشعبی کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔
درج ذیل وہ تصاویر ہیں جنہیں داعش نے سوشل میڈیا پر شائع کر کے الحشد الشعبی کی گردن پر ڈال دیا ہے:







