اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما نے کانگریس میں آخری سالانہ تقریر میں اپنی حکومت کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کا دفاع کیا۔
انہوں نے دعوی کیا کہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کو ماضی کی طرف پلٹا دیا ہے، افزودہ یورینیم ملک سے باہر بھیج دیا ہے اور دنیا کو بقو ل ان کے، جنگ کے ایک اور خطرے سے بچا لیا گیا ہے۔
ایران اور گروپ پانچ جمع ایک نے جولائی دو ہزار پندرہ میں ایٹمی معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت گروپ پانچ جمع ایک کے رکن ملکوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو بعض پابندیوں کے ساتھ تسلیم اور تہران کے خلاف عائد تمام پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی صدر نے اپنی تقریر میں دہشت گرد گروہ داعش کی سرگرمیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروہ امریکہ کے لئے خطرہ شمار نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کاروائیوں کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تیسری عالمی جنگ شروع ہو گئی ہے۔
انہوں نے امریکی فوج کو دنیا کی بہترین فوج قرار دیا جو بقول ان کے، دہشت گردوں کو نابود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بارک اوباما نے امریکہ کی معاشی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی معیشت، دنیا کی طاقتور اور مستحکم معیشت ہے۔
بارک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکی معیشت کی زبوں حالی کا دعوی کرنے والے، خوابوں کی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169