7 جنوری 2016 - 09:33
پاکستان میں 182 مشکوک مدارس بند کروا دیے، بلیغ الرحمان

قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ ملک بھر میں جن مدارس کو مشکوک قرار دے کر بند کیا گیا ہے ان میں پنجاب کے 2، سندھ کے 167 اور خیبر پختونخوا کے 13 مدارس شامل ہیں۔ ملک بھر کے 190مدارس بیرون ممالک سے فنڈنگ لیتے تھے۔ سندھ میں غیر رجسٹرڈ 72 مدارس بھی بند کروا دیے گئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ میاں بلیغ الرحمان نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ملک بھر میں 182 مشکوک مدارس کو بند کر دیا گیا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ میاں بلیغ الرحمان نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ ملک بھر میں 182 مدارس کو مشکوک قرار دے کر بند کر دیا گیا ہے۔ ان میں پنجاب کے 2، سندھ کے 167 اور خیبر پختونخوا کے 13 مدارس شامل ہیں۔ ملک بھر کے 190مدارس بیرون ممالک سے فنڈنگ لیتے تھے، ان میں پنجاب کے 147، سندھ کے 6، خیبر پختونخوا کے7 اور بلوچستان کے 30 مدارس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ میں غیر رجسٹرڈ 72 مدارس بھی بند کر دیے گئے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا کہ لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال کی 9 ہزار 164شکایات درج ہوئیں جن پر 9 ہزار 340 افراد کو گرفتار کیا گیا،نفرت انگیز تقاریر کے جرم میں 2 ہزار 337 مقدمات درج کیے گئے جب کہ اس جرم میں 2 ہزار 195 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ مدارس کی تلاشی کا کام بھی جاری ہے جس کے تحت وفاقی دارالحکومت اور پنجاب میں 100فیصد، سندھ میں 80، خیبر پختونخوا میں 75 اور بلوچستان میں 60 فیصد تلاشی کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔

بلیغ الرحمان نے بتایا کہ کالعدم تنظیموں کے ارکان کی فہرستیں تیاری کے مراحل میں ہیں، ان فہرستوں کو امیگریشن، نادرا اور ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں سے منسلک کر دیا جائے گا۔ جس سے کالعدم تنظیموں کے افراد کی نقل و حرکت اور انہیں رقوم کی منتقلی پر نظر رکھی جا سکےگی اور ان افراد کا حساس اداروں میں داخلہ مشکل ہو جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169