31 دسمبر 2015 - 13:26
علامہ ظہیر الحسن نقوی: ایام رسول اللہ کا تقاضہ ہے کہ اتحاد و وحدت اور اخوت کو فروغ دیا جائے

المصطفٰی فاونڈیشن کے بانی چیئرمین نے کہا فاؤنڈیشن نے عالمی شہرت یافتہ فلم محمد رسول اللہ جسے ایران میں کثیر سرمائے سے عالمی ایوارڈ یافتہ پروڈیوسر مجید مجیدی نے انتہائی کمال و مہارت سے بنایا ہے، کو لاس اینجلس کے سینما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کیا ہے، جس کا مقصد و ہدف رسول اللہ کی حیات مبارکہ کے حقائق کو اس معاشرے میں پہنچانا ہے، کہ جس میں آپ کی ذات والا صفات پر اعتراضات و توہین آمیز فلمیں و خاکہ جات پیش کیلئے جا رہے ہیں اور آئندہ دنوں میں ہم اس فلم کو امریکہ کی دیگر ریاستوں میں بھی پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ علامہ سید ظہیر الحسن نقوی حرم امام حسین (ع) کے آفیشل ممبر ہیں، بنیادی طور پر ان کا تعلق پاکستان کی تحصیل کمالیہ سے ہے۔ زمانہ طالبعلمی میں بطور طالبعلم رہنما فعال و معروف ہوئے، گریجویشن کے بعد دینی تعلیم کے حصول کیلئے ایران میں حوزہ علمیہ قم کی عظیم درسگاہ جامعہ امام خمینی میں زیر تعلیم رہے، جہاں سے فراغت کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے شہر نیو یارک شفٹ ہوگئے، یہاں تبلیغاتی سرگرمیاں شروع کیں، امریکہ میں اسلام و مسلمین کی درست عکاسی و تعارف کیلئے انہوں نے ولایت ٹی وی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں شبکہ جہانی ولایت کے نام سے ایران سے چل رہا ہے، جبکہ اپنا الگ چینل ولایت ٹی وی USA شروع کیا، جو اردو و انگلش زبان کا پہلا چینل تھا۔ علامہ سید ظہیر الحسن نقوی گذشتہ پانچ برسوں سے سلام یاحسین (ع) کے نام سے کربلا ٹی وی پر ایک لائیو پروگرام کر رہے ہیں، جس کے ناظرین کی تعداد بیس ملین ہے۔ امریکہ میں فلاحی و دینی سرگرمیوں کے عنوان سے ایک ادارہ المصطفٰی فاؤنڈیشن کے بانی چیئرمین بھی ہیں۔ علاوہ ازیں کربلا میں ایک یونیورسٹی بنانے کا پروگرام بھی رکھتے ہیں، جسکا دفتر اس وقت تہران میں قائم ہوچکا ہے۔ عراق میں ایک تنظیم ورلڈ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی انہوں نے بنیاد رکھی، جو ہر سال اربعین کے موقعہ پر ایک عالمی کانفرنس بھی منعقد کراتی ہے، جس میں مختلف ممالک کے نوجوان طالبعلم شریک ہوتے ہیں۔ اپنے قارئین کیلئے اسلام ٹائمز نے علامہ سید ظہیر الحسن نقوی کیساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا، جس کا احوال انٹرویو کی صورت میں پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: المصطفٰی فاؤنڈیشن نارتھ امریکہ کا مختصر تعارف کروائیں۔؟
علامہ ظہیر الحسن نقوی: المصطفٰی فاؤنڈیشن نارتھ امریکہ سماج کے مختلف طبقات میں اسلامی اقدار کے فروغ، فلاح انسانیت اور اتحاد و وحدت اور ہم آہنگی کے فروغ کیلئے سرگرم عمل ہے۔ یہ نان پرافٹ آرگنائزیشن ہے، جس کو ہم نے 2000ء میں امریکہ سے رجسٹرڈ کروایا تھا، تاکہ سوسائٹی میں اپنا کردار ادا کرسکیں اور انسانوں کو باہم جوڑ سکیں۔ وحدت و اخوت عام کرسکیں، جبکہ مستحق و مظلوموں کی مدد و حمایت بھی کی جاسکے۔ الحمدللہ اس حوالے سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں، چاہے ہماری رفتار اس قدر تیز نہ بھی ہو، ہم اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔

اسلام ٹائمز: اسوقت کونسے پراجیکٹ اس فاؤنڈیشن کے زیر نظر ہیں۔؟
علامہ ظہیر الحسن نقوی: اس وقت ہم کئی ایک پراجیکٹس چلا رہے ہیں۔ جن میں پہلے بھی ذکر کیا کہ نارتھ امریکہ سے ایک سیٹلائٹ چینل ولایت ٹی وی جو اردو اور انگلش زبان میں ہے بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ یہ چینل تمام مکاتیب فکر کی آواز بن چکا ہے۔ بلا تعصب و تنگ نظری یہاں سنی و شیعہ علماء و زعماء کو اپنے خیالات پیش کرنے کا موقعہ فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ نارتھ امریکہ کا پہلا اردو چینل ہے۔ ولایت ٹی وی نے کربلا ٹی وی جو حرم امام حسین (ع) کا آفیشل چینل ہے، کیساتھ ملکر ایک پروگرام سلام یاحسین (ع) شروع کر رکھا ہے، جو ہر ماہ ناظرین مہینہ میں پانچ بار ملاحظہ فرماتے ہیں، اس پروگرام کے ناظرین 20 ملین ہیں۔ اس چینل کی ابتدا تو فارسی میں ہوئی تھی، مگر بعد ازاں ہم نے فارسی چینل کو الگ کر دیا، جو شبکہ ولایت کے نام سے اب ایران سے چلتا ہے اور ولایت ٹی وی USA الگ ادارہ ہے۔ ابھی حالیہ دنوں میں ہماری فاؤنڈیشن نے عالمی شہرت یافتہ فلم محمد رسول اللہ جسے ایران میں کثیر سرمائے سے عالمی ایوارڈ یافتہ پروڈیوسر مجید مجیدی نے نے انتہائی کمال و مہارت سے بنایا ہے، کو لاس اینجلس کے سینما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کیا ہے۔ جس کا مقصد و ہدف رسول اللہ کی زندگی کے حقائق کو اس معاشرے میں پہنچانا ہے۔ جس میں آپ کی ذات والا صفات پر اعتراضات و توہین آمیز فلمیں و خاکہ جات پیش کیلئے جا رہے ہیں، الحمد للہ ہمیں اس میں بھرپور کامیابی ملی ہے اور آئندہ دنوں میں ہم اس فلم کو امریکہ کی دیگر ریاستوں میں بھی پیش کرنے کا پلان رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پراجیکٹس میں کیلی فورنیا میں اہم مسجد و اسلامک سنٹر بنام امام علی (ع) اسلامک سنٹر چل رہا ہے، جس میں اسلامک آئیڈیالوجی و تبلیغات نیز سوسائٹی کی دینی و اسلامی تشنگی کو دور کرنے نیز دوسرے مذاہب و مکاتیب فکر کے درمیان ہم آہنگی کیلئے مختلف پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہاں دعائے کمیل، نماز باجماعت، ایام ہائے ولادت و شہادت کو بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے۔ ہم امریکہ میں بہت جلد ایک بڑی سطح کا کنونشن بھی منعقد کرنے کا پلان رکھتے ہیں، جس میں دنیا بھر سے مختلف عالمی شخصیات بھی مدعو کی جائیں گی اور باہمی روابط کو فروغ دیا جائے گا۔ اصل میں یہ کانفرنسز و کنونشن یا سیمینارز عوامی شعور کی بیداری و احساس و درد اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔ جہاں مختلف طبقات کے منتخب افراد تشریف لاتے ہیں اور اپنے خیالات کے ذریعے لوگوں کو جذب کرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: علامہ صاحب پاکستان میں آپکی سرگرمیاں محدود نظر آتی ہیں، کیا کوئی پراجیکٹ یہاں بھی چل رہا ہے۔؟
علامہ ظہیر الحسن نقوی: آپ کی بات اس حد تک ٹھیک ہے کہ ہم محدود نظر آتے ہیں، اصل میں آج میڈیا اور تشہیر کا دور ہے۔ ہم اس حوالے سے شائد لوگوں کو نظر نہیں آتے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ تشہیر ہی نہیں کریں گے، تو کسی کو علم کیسے ہوگا کہ آپ کیا کر رہے ہو، حالانکہ کرم ایجنسی، کوئٹہ اور کئی دیگر ایریاز میں متاثرہ خاندانوں کی کمک اور مدد سے لیکر عید پیکیج، رمضان پیکیج اور کئی خاندانوں کی شادی بیاہ کی ضروریات کے حوالے سے تو کافی عرصہ سے کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض مواقع پر تعلیمی ضروریات کو بھی پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اسلام ٹائمز: لبیک یارسول اللہؐ کانفرنس کے مقاصد کے حوالے سے بھی آگاہ کریں۔؟
علامہ ظہیر الحسن نقوی: لبیک یارسول اللہ کانفرنس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہم معاشرے میں پھیلے غلط نظریات اور تعصبات کو دفن کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ ہمارا پیارا ملک پاکستان کلمہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا، جس کیلئے بہت زیادہ قربانیاں دی گئیں اور سب نے مشترکہ جدوجہد کی، ہر مکتبہ فکر نے حصہ لیا، مگر کچھ عرصہ سے یہاں تعصبات کو اس قدر ابھارا گیا کہ پاکستان کا روشن چہرہ داغدار ہوتا نظر آیا۔ ہم اس طرح کی کانفرنسز کے ذریعے باہم اخوت و بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اس کی اشد ضرورت بھی ہے اور اسلام و پیغمبر آخر ؐ کا اسوہ و روش و راستہ بھی یہی ہے۔ خدا کرے کہ اس ملک سے فرقہ واریت اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور امن و سلامتی اور سکون نظر آئے۔ امید ہے یہ کانفرنس ان مقاصد کے حصول کا ایک ذریعہ ثابت ہوگی۔ یہ ایام ولادت رسول (ص) کے مبارک ایام ہیں، تو ان میں آپ (ص) کی ذات بابرکات سے عشق و محبت کا تقاضا یہی ہے کہ اتحاد و وحدت اور باہمی اخوت و بھائی چارگی کو فروغ دیا جائے۔

اسلام ٹائمز: آغا صاحب یہ مجلس وحدت مسلمین کیساتھ اشتراک پروگرام کی حد تک ہے یا اس سے آگے بھی کچھ ہے۔؟
علامہ ظہیر الحسن نقوی: ہم صرف اس پروگرام کے حوالے سے اکٹھے نہیں ہیں، اس سے آگے بھی بہت کچھ ہے، الحمدللہ رہبر معظم کے زیر سایہ جب بھی کوئی اجلاس ہوتا ہے، وہاں بھی اکٹھے ہوتے ہیں، آپ کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ راجہ ناصر صاحب کی قیادت میں مجلس وحدت مسلمین نے شہداء کی وراثت کا حق ادا کیا ہے اور پس مردگی سے نکال کے امید دلائی ہے، جس کے مثبت اثرات قوم و ملت پہ دیکھے جاسکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کربلا ٹی وی پر سلام یاحسین ؑ پروگرام کا تجربہ کیسا جا رہا ہے۔؟
علامہ ظہیر الحسن نقوی: الحمد للہ مجھے یہ سعادت ملی ہے کہ حرم امام حسین (ع) کے آفیشل ٹی وی سے ہر ماہ بیس ملین افراد سے مخاطب ہوتا ہوں، سلام یاحسین (ص) کے ویورز (ناظرین) کی تعداد بیس ملین ہے، اتنے لوگوں کو ہر ماہ حضرت اباعبدللہ الحسین (ع) کی طرف متوجہ کرنا میرے لئے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہوگی۔

.......

/169