22 دسمبر 2015 - 23:20
معصوموں کے سفاک قاتل پیسے اور طاقت کے حصول میں خود ہی اختلافات کا شکار ہوگئے

خالد یوسف باری کے انکشافات کے مطابق کوئی دہشتگرد چندہ کھا گیا، تو کوئی شادیوں کا دلدادہ نکلا، کسی کو بڑی بڑی گاڑیاں رکھنے کا شوق ہے، اکثریت عیش و عشرت میں رہنا چاہتی ہے، کوئی داعش کا خود ساختہ امیر بن بیٹھا ہے، دہشتگرد پیسے اور طاقت کے حصول میں خود ہی اختلافات کا شکار ہوگئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ معصوموں کے سفاک قاتل پیسے اور طاقت کے حصول میں خود ہی اختلافات کا شکار ہوگئے، القاعدہ اور داعش کے سہولت کار خالد یوسف باری کی جے آئی ٹی نے کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے کارندوں کے جھگڑوں کی قلعی کھول کر رکھ دی، کوئی چندہ کھا گیا، تو کوئی شادیوں کا دلدادہ نکلا، سنسنی خیز انکشافات سے بھرپور جے آئی ٹی منظر عام پر آگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے ہاتھوں گرفتار القاعدہ اور داعش کے سہولت کار خالد یوسف باری سے مشترکہ تفتیش مکمل کر لی گئی۔ دہشتگرد خالد نے جے آئی ٹی نمائندوں کو بتایا کہ اس کے اپنے ساتھیوں کے درمیان مختلف امور پر اختلافات ہوچکے تھے۔ دہشتگرد خالد نے انکشاف کیا کہ القاعدہ کے نام پر چندہ کرنے والا دہشت گرد جلال اس پیسے سے بڑی بڑی گاڑیاں خریدتا تھا، آسائشوں کا دلدادہ جلال، جھوٹ بولنے کا عادی اور شادیاں کرنے کا بھی شوقین ہے، یہی بات اس کے اور جلال کے تعلقات میں خرابی کا باعث بنی۔

خالد یوسف باری نے بتایا کہ گرفتار سہولت کار شیبا احمد کے پہلے تنظیم اسلامی سے اور پھر اس سے اختلافات ہوئے۔ دہشتگرد خالد یوسف باری نے بتایا کہ سانحہ صفورا کا ماسٹر مائنڈ عبداللہ یوسف داعش کا خود ساختہ امیر بن بیٹھا ہے، اس کے اور جلال کے درمیان بھی چندے کے معاملے پر تنازع کھڑا ہوچکا ہے۔ دہشتگرد خالد یوسف باری نے یہ بھی بتایا کہ سہولت کار دہشت گرد شیبا احمد کو دبئی سے گرفتاری کے بعد کراچی ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا، اور خالد یوسف باری کو شیبا احمد کی جانب سے کی گئی مذہب کی تشریح پر اختلاف تھا، اور اسی بنیاد پر دونوں ایک دوسرے سے دور ہوئے۔ معصوم جانوں کے سفاک قاتل دہشتگردوں کا یہ سہولت کار دہشتگرد خالد یوسف باری جے آئی ٹی کی جانب سے بلیک یعنی خطرناک دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

سہولت کار دہشتگرد خالد یوسف باری ڈاکٹر اکمل کا بھی قریبی ساتھی رہا ہے، خالد یوسف باری نے بتایا کہ 2011ء میں القاعدہ کے مفتی توصیف اور اس کے 8 ساتھیوں کو ایک اسکول میں ٹھہرایا تھا، خالد یوسف باری نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم سے 5 لاکھ روپے سانحہ صفورا کے مرکزی دہشتگرد سعد عزیز کو دیئے۔ تحقیقات میں خالد یوسف باری نے بتایا کہ سانحہ صفورا کے اہم کردار جلال سے عبداللہ یوسف نے ملوایا، جلال کو اسامہ بن لادن کا نمائندہ بتایا گیا تھا، سانحہ صفورا کا ماسٹر مائنڈ عبداللہ یوسف داعش کراچی کا خود ساختہ امیر ہے، خالد یوسف باری نے اعتراف کیا کہ اسے بچپن سے جانتا ہوں، وہ میرا پڑوسی بھی رہا ہے۔

دوسری جانب سانحہ صفورا دہشتگردی کی سفاک واردات کے حوالے سے تفتیش کا دائرہ کار وسیع ہوا، تو خوفناک حقیقتیں اجاگر ہوئیں، اعلٰی تعلیم یافتہ دہشتگردوں کے نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے، سانحہ صفورا کے مزید دہشتگردوں خصوصاً خواتین دہشتگردوں کی گرفتاری کیلئے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، دہشتگردوں کو جرمنی سے فنڈنگ کا بھی انکشاف ہوا ہے، گرفتار دہشتگردوں سے برآمد لیپ ٹاپ سے مزید شواہد حاصل ہوئے۔ اعلٰی تعلیم یافتہ 19 دہشتگرد خواتین کا منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا۔ پچھلے دنوں سکیورٹی اداروں نے کراچی کے علاقوں محمود آباد، بہادر آباد اور پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں کارروائی کرتے ہوئے سانحہ صفورا کے مرکزی دہشتگردوں سعد عزیز، عادل مسعود بٹ اور یوسف باری کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا، جو ذہن سازی اور کالعدم دہشتگرد جماعتوں کی فنڈنگ میں ملوث ہیں۔

19 رکنی خواتین گروہ میں گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر سعدیہ جلیل کے پاس دہشتگردوں کی بیویوں کے علاج کی ذمہ داری تھی۔ ڈاکٹر سعدیہ 2004ء سے 2006ء تک ڈیفنس کے نجی اسپتال میں فرائض انجام دیتی رہیں۔ دہشتگرد سعد عزیز اور اس کی بیوی نے میران شاہ میں تربیت حاصل کی، سانحہ صفورا کے بعد افغانستان فرار ہوگیا۔ مزید خواتین دہشتگردوں کی گرفتاری کیلئے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ گذشتہ روز سی ٹی ڈی نے سانحہ صفورا میں ملوث چار اعلٰی تعلیم یافتہ دہشتگرد خالد یوسف باری، عادل مسعود بٹ، سلیم احمد اور محمد سلیمان کی گرفتاری ظاہر کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169