اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ہندوستان میں رئیس آقائے رضا صالح تین روزہ دورے پر کرگل پہنچے، ان کے ساتھ جامعۃ المصطفیٰ دہلی کے دو معاونین مولانا فیاض رضوی اور سید منظور عالم جعفری بھی تھے، امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے چیئرمین مولانا شیخ محمد حسین لطفی، چیئرمین نگران کونسل شیخ محمد محقق اور دیگر حوزہ جات کے اساتید نے کرگل پہچنے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ قابل ذکر ہے کہ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے زیر نگرانی ضلع کرگل میں تین حوزہ جات علمی کام کر رہے ہیں ان میں جامعہ امام خمینی منجی گنڈ، جامعۃ الزہراء کرباتھنگ اور حوزہ علمیہ اثنا عشریہ شامل ہیں۔ آقای رضا صالح نے ہندوستان میں اپنی فرائض منصبی ذمہ داریاں سمبھالنے کے کچھ عرصہ بعد ہی کرگل جیسے دور دراز علاقے کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ یہاں چل رہے دینی تعلیمی حالات اور حوزہ جات کا از خود معائنہ کریں۔
اپنے دورے کے پہلے دن انہوں نے امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام چل رہے حوزہ امام خمینی برائے برادران اور جامعۃ الزہراء برائے خواہران کا تفصیلی دورہ کیا۔ جامعہ امام خمینی پر انہوں نے اساتید اور طلبہ سے دینی تعلیمی احوال و صورتحال دریافت کیا اس دوران انہوں نے کلاسوں میں جا کر درسی معیار کا جائزہ لیا اور طلبہ کے رہائشی ہوسٹل کا بھی معائنہ کیا، ان کے اعزاز میں طلبہ نے ایک پروگرام بھی تشکیل دے رکھا تھا طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے آقای رضا صالح نے اپنے آپ کو علوم اہلبیت اطہار (ع) حاصل کرنے کیلئے خلوص کے ساتھ وقف کرنے کی تلقین کی۔
اس موقعہ پر نگران کونسل کے ممبر و اسمبلی ممبر کشمیر کرگل الحاج اصغر علی کربلائی کے علاوہ امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے مجلس ارکان اور ذیلی اداروں کے سربراہان بھی موجود تھے۔ جامعۃ الزہراء پر فارغ التحصیل طالبات کو اسناد اجراء کرنے کے لئے ایک پروقار تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ اس موقعہ پر مدیر حوزہ خانم صالحی اور طالبات نے حوزہ کے کارکردگی اور مسائل کے بارے میں مہمانوں کو جانکاری دی اس دوران چیئرمین امام خمینی میموریل ٹرسٹ شیخ محمد حسین لطفی اور ممبر اسمبلی کرگل حاجی اصغر علی کربلائی نے آقای رضا صالح اور مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے اس دورے کی قدردانی کی اور خطہ کرگل میں موجود جغرافیائی اور دوسرے نوعیت کے مسائل کی طرف ان کی توجہ مبذول کی۔
اپنے خطاب میں آقای رضا صالح نے اس بات پر زور دیا کہ ایک خاتون کی تعلیم سے نا صرف ایک پورا خاندان بلکہ پورا سماج مستفید ہوتا ہے۔ اپنے دورے کے تیسرے دن آقای رضا صالح نے مدرسہ اثنا عشریہ کرگل کے حوزہ جات کا تفصیلی معائنہ کیا اور وہاں اساتید اور طلبہ سے ملاقات کی اور تدریسی کاموں کا جائزہ لیا۔ اسی دن دوپہر موصوف نے دونوں اداروں کے فارغ التحصیل علماء حضرات سے خطاب کیا اور انہیں تبلیغی کاموں اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کام کو بردوباری، آپسی اتحاد اور روش اہلبیت (ع) کے روشنی میں خلوص کے ساتھ انجام دینے کی تلقین کی۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169