26 ستمبر 2015 - 16:21
سانحہ منیٰ پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا رد عمل

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے منیٰ کے دردناک واقعہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں تمام امت مسلمہ سے اپیل کی گئی ہے کہ میدانوں میں نکل کر سعودی حکومت سے مطالبہ کریں کہ حج کے امور کو تمام اسلامی ممالک کے سپرد کر دے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ منیٰ کے افسوسناک سانحے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم

«و من یخرج من بیته مهاجرا الی الله و رسوله ثم یدرکه الموت فقد وقع اجره علی الله».
سرزمین منیٰ پر عید قربان کے دن کا المناک واقعہ جو سیکڑوں اللہ کے مہمانوں کے قتل اور زخمی ہونے کا باعث بنا اس نے عظیم دکھ اور پریشانی پیدا کر دی ہے۔ دکھ اس بات کا کہ مختلف ممالک سے اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والے مومنین کی کثیر تعداد اپنی جانوں سے منہ ہاتھ دھو بیٹھی۔ اور پریشانی اس چیز کی کہ حرمین شریفین کے نظام کا سرانجام کیا ہو گا؟
اس بات کے پیش نظر کہ سرزمین منیٰ میں ہمیشہ حجاج کے لیے ناخوشگوار حادثات رخ پاتے رہے ہیں دنیا کے مسلمانوں کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیوں ان حوادث کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا جاتا بلکہ ہر سال پہلے سے زیادہ بدتر حالت سامنے آتی ہے اور جانی نقصان کے دردناک تر حادثات رخ پاتے ہیں؟ کیوں اللہ کے مہمانوں کی اس طریقے بے قدری کی جاتی ہے جو فریضہ حج ادا کرنے جاتے ہیں؟
منیٰ کے واقعے میں ہر چیز سے زیادہ اگر کسی چیز کے بارے میں غلفت ہوئی ہے تو وہ حجاج کی سلامتی ہے تو ایسے میں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ؛ راستے بند کرنے کی ضرورت کی صورت میں، کیوں ان کے متبادل راستے حجاج کو نہیں بتائے گئے؟ کیوں مشعر میں رات کے تھکے حجاج کی صحیح رہنمائی کا انتظام نہیں کیا گیا؟ کیوں اس جم غفیر کو کنٹرول کرنے لیے کافی سکیورٹی فورس کو نہیں رکھا گیا؟ اگر مجروحین کو ابتدائی طور پر فوری مدد پہنچائی جاتی تو کیا کشتوں کی تعداد کم نہ ہوتی؟ کیوں اس کے باوجود کہ حجاج کی تعداد گزشتہ سالوں کی نسبت کم تھی پھر بھی ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا؟ اور کیوں سعودی حکمران اپنی غلطی قبول کرنے اور ذمہ داری کا احساس کرنے کے بجائے رجزخوانی کر رہے ہیں؟
منیٰ کے علاوہ، حجاج کی سلامتی کی نسبت غفلت کے دیگر نمونوں میں سے ایک نمونہ حرم کا ترقیاتی منصوبہ ہے کہ جو حج تمتع کے ایام میں بھی جاری رہا اور کرینوں کے ڈراؤنے سائے لاکھوں حجاج کے سروں پر منڈلاتے رہے اور گزشتہ ہفتہ دسیوں افراد انہیں کرینوں کے نذر ہو گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے رائل کورٹ نے خود رسمی طور پر تعمیراتی کاموں میں حفاظتی مسائل کی رعایت نہ کئے جانے کا اعتراف کیا ہے!
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی علمائے اسلام، اسلامی ممالک کے مفتیوں اور سربراہوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی انجمنوں ـ مخصوصا تنظیم تعاون اسلامی(او آئی سی) جس نے حجاج کی تعداد کو کم کرنے سے موافقت اختیار کی ـ نیز تمام امت مسلمہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ مجموعی اقدام کے ساتھ، حج اور حجاج کے امور کو ایک ملک کے حوالے کرنے کے بجائے تمام اسلامی ممالک کے سپرد کئے جانے پر آواز اٹھائیں تاکہ تمام مسلمانوں کی صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لاکر اس طرح کے دلسوز واقعات کا خاتمہ کیا جا سکے۔
یہ اسمبلی اس دردناک واقعے پر رسول اللہ (ص) کی روح مطہر اور ان کے پاک اہلبیت(ع) نیز رہبر انقلاب اسلامی، پسماندگان اور پوری دنیا کے تمام عزاداروں کو تسلیت پیش کرتے ہوئے بارگاہ الہی میں حاضر ہونے والوں کے لیے اللہ کی رحمت اور زخمیوں کے لیے شفائے عاجل کی دعا کرتی ہے۔
اللهم انا نشکو الیک فقد نبینا و غیبة ولینا و کثرة عدونا و قلة عددنا و شدة الفتن بنا.
                                                     اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
                                          ۱۱ ذی الحجۃ ۱۴۳۶ مطابق با ۲۵ ستمبر ۲۰۱۵

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲