14 ستمبر 2015 - 11:45
دنیا کی آزاد قوموں کو یمن کی مدد کرنا چاہیے: یونانی تجزیہ نگار

یونان کے ایک سیاسی تجزیہ نگار نے کہاہےکہ مغربی ممالک نے اپنے مفادات کے حصول کیلئے مشرق وسطیٰ کو میدان جنگ میں تبدیل کردیا ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  ارنا کے ساتھ ایک مختصر انٹریو میں یونان کے سینئر سیاسی تجزیہ نگار ’’قرابی لیاس‘‘نے یمن پر سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں کے ذریعے ہورہے حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ مغرب نے مشرق وسطیٰ کےممالک کے تیل کے ذخائر کو لوٹنے کیلئے پراکسی جنگ کے ذریعے پورے علاقے کو میدان جنگ میں تبدیل کردیا ہے ۔

انہوں نےکہاکہ سعودی عرب اور اسکے اتحادی آج یمن میں جن مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں اس سے صرف امریکہ ،اسرائیل اور اسکے مٖغربی اتحادیوں کو فائدہ ہورہا ہے ۔

انہوں نے یمن کو مسلم  دنیا کا غریب ترین ملک قراردیتے ہوئے دنیا کی آزاد قوموں سے اس ملک کی امداد کرنے کی اپیل کی ۔

انہوں نےکہاکہ سامراجی طاقتوں سے وابستہ میڈیا سعودی قیادت کے ہاتھوں یمنی عوام کا ہورہے قتل عام سے متعلق خبروں کو نشر کرنے سے گریز کررہاہے ۔

قابل ذکر ہےکہ دنیا کی توجہ شام اور عراق کے بدلتے حالات اور دنیا کے مختلف ملکوں میں دہشتگرد گروہوں منجملہ داعش کے بھیانک جرائم پر مبذول تھی کہ 26 مارچ 2015 ءکوسعودی عرب نے یمن پر ہوائی اور زمینی حملوں کی بوچھاڑ کردی۔ سعودی عرب اور نوعرب ملکوں کے اتحاد نے امریکہ اور دیگر بعض یورپی ملکوں کی حمایت سے ہوااور زمین سے یمن پر شدید بمباری کاسلسلہ شروع کردیالیکن یمنی فوج اور عوامی مقاومت کی وجہ سے حکومت آل سعود اور اس کے حواری اپنے ناپاک منصوبوں میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے۔

واضح رہے کہ یمن پر سعودی عرب کی فوجی کاروائی کا آغاز اگرچہ 26 مارچ 2015 ء کو ہوا تھا لیکن یمن میں رونما ہونے والی بنیادی تبدیلیوں کی جانچ پڑتال سے پتہ چلتا ہےکہ یمن کے اندرونی معاملات میں آل سعود کی  مداخلت کا سلسلہ بہت پہلے سے شروع ہوگیا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲