اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ دنیا کی توجہ شام اور عراق کے بدلتے حالات اور دنیا کے مختلف ملکوں میں دہشت گرد گروہوں منجملہ دولت اسلامی عراق و شامات( داعش) کے بھیانک جرائم پر مبذول تھی کہ ۲۶ مارچ ۲۰۱۵ کے دن سعودی عرب نے یمن پر ہوائی اور زمینی حملوں کی بوچھاڑ کر دی ۔سعودی عرب اور نو عرب ملکوں کے اتحاد نے امریکہ اور دیگر بعض یورپی ملکوں کی حمایت سے ہوا اور زمین سے یمن پر شدید بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا ،ادھر یمن کی فوج اور عوامی کمیٹیوں نے بھی ان حملوں کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی ۔ اس وقت یہ سعودی امریکی اتحاد ایسی حالت میں یمن میں پانچویں ماہ میں داخل ہوا ہے کہ تبدیلیوں کی رفتار نے اس ملک کے باب میں اور جنگ کی عاقبت اور اس کے اسباب کے باب میں قابل غور اور اہم نکات سے پردہ اٹھایا ہے ،ایسے حالات میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یمن پر حملہ کرنے والوں نے کیا حاصل کیا ہے اور ان کے ملک کا آخر کیا ہونے والا ہے اور آخر کار علاقائی اور بین الاقوامی جیسے اقوام متحدہ اور عرب ملکوں کا ان حملوں کے سلسلے میں کیا کردار ہے ؟
سعودی عرب کے یمن پر حملے کے مراحل
اگر چہ یمن پر سعودی عرب کی فوجی کاروائی کا آغاز ۲۶ مارچ ۲۰۱۵ کو ہوا تھا لیکن یمن میں رونما ہونے والی بنیادی تبدیلیوں کی جانچ پڑتال سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ بہت پہلے سے شروع ہو گیا تھا ،ان مداخلتوں کو چند مرحلوں میں دیکھا جا سکتا ہے ۔
پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے یمن پر حملے کو سال ۲۰۱۵ کے اوایل میں قرار دیا جا سکتا ہے یعنی اس وقت کہ جب یمن کے اس وقت کے صدر منصور ھادی نے صلح و مشارکت کے اس سمجھوتے کو کہ جس میں تمام یمنی گروہ اور دیگر گروہ شامل تھے ستمبر ۲۰۱۴ میں نظر انداز کرکے یمن کو مشکلات کے راستے پر ڈال دیا ۔ اس سمجھوتے کی بنیاد پر کہ جس پر منصور ھادی نے بھی دستخط کیے تھے حکومت کو ایک طرفہ اقدام کا حق نہیں تھا بلکہ اس کو یمنی گروہوں کے ساتھ مشورہ کر کے عام انتخابات اور عوامی حکومت کی تشکیل کے لیے آمادہ ہونا تھا ۔
منصور ھادی نے تمام سیاسی گروہوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یمن کے نئے قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جب کہ اس کی بنیاد پر یمن کو چھ علاقوں میں بانٹا گیا تھا یمن کے اکثر گروہوں نے اس کی مخالفت کی ۔ منصور ھادی نے سعودی عرب کی درخواست پر اپنا استعفی پارلیمنٹ میں پیش کرکے یمن کو سیاسی بحران سے دوچار کرنے پر مہر تصدیق ثبت کر دی جب کہ اس کی حکومت نے بھی ملک کے امور کو چلانے سے انکار کر دیا ۔
صلح و مشارکت کے سمجھوتے کی بنیاد پر یمنی گروہوں نے صدارتی کمیٹی کی تشکیل دی ،اور ۵۱ قبایل کے سرداروں اور پارلیمنٹ کے ۵۰۰ نمایندوں نے نئے ڈھانچے کے تحت ملک کے سیاسی امور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تا کہ ملک میں سیاسی اقتصادی اور امنیتی بحران پیدا نہ ہو ۔
سعودی امریکی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے طور پر منصور ھادی نے یمن کے پایہء تخت صنعاء سے بھاگ کر یمن کے جنوب میں عدن میں اپنی حکومت کی تشکیل نو کی ۔ اس نے اگر چہ سرکاری طور پر استعفا دے دیا تھا اور ملک کو بحران سے نکالنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے انکار کر دیا تھا یہ دعوی کیا کہ اس نے اپنا استعفی واپس لے لیا ہے اور وہ اب عدن سے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے گا ۔یہ ایسا اقدام تھا کہ جس سے یمن دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ایک کا پایہء تخت صنعاء اور دوسرے کا عدن ہو تا ۔
اس اقدام کی یمن کے تمام لوگوں اور گروہوں نے مخالفت کی ،یہاں تک کہ عدن کے عوام نے بھی منصور ھادی اور اس کی سعودی عرب کے ساتھ وابستگی کے خلاف مظاہرے کیے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ عربی اور غربی ملکوں نے بھی اپنے سفارتخانے عدن منتقل کر دیے جن میں سر فہرست سعودی عرب قطر اور امارات تھے تا کہ یمن کی تقسیم کو یقینی بنا دیں ۔یہ اقدام انقلابی عوامی تحریک" انصار اللہ" اور ملکی فوج کی رہنمائی میں عوامی کمیٹیوں کی بیداری کی وجہ سے اور یمن کے بہت سارے علاقوں منجملہ عدن پر قبضے کی وجہ سے ناکام رہ گیا ۔یمن کو بحران سے دوچار کرنے کے تیسرے مرحلے کا آغاز منصور ھادی کے سعودی عرب کی جانب بھاگ کھڑے ہونے سے ہوا ۔اس اقدام نے ایسی حالت میں اس کی اصلی ماہیت اور یمن کے لیے اس کے بحران کا سبب ہونے کو آشکار کیا کہ جب علاقے اور عالمی سطح پر خاص نقل و حرکت شروع ہوئی ۔ ایک طرف خلیج فارس تعاون کونسل نے منصور ھادی کی حمایت کا اعلان کیا اور یمن کے بحران سے نکلنے کے لیے چند بند پر مشتمل ایک منصوبہ پیش کیا کہ جس میں یہ تھا کہ منصور ھادی اور سعودی عرب کے تمام مخالفین کو غیر مسلح کیا جائے ،اور منصور ھادی کو دوبارہ حکومت سونپی جائے ۔
اس منصوبے کا مطلب یمن کو ستمبر ۲۰۱۴ میں ہونے والے صلح و مشارکت کے سمجھوتے سے پہلے والی حالت کی طرف واپس لے جانا تھا کہ جس کی وجہ سے عوام نے منصور ھادی کی ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے اور سعودی عرب کے کنٹرول سے خارج ہونے کا مطالبہ کیا تھا ۔اسی دوران مغربی ملکوں نے امریکہ اور برطانیہ کی سر کردگی میں سلامتی کونسل کی ایک قرار داد پاس کی کہ جو خلیج فارس تعاون کونسل کی پاس کردہ قرار داد کی نقل تھی کہ جس کی بنیاد پر یمن کے لوگوں کو اپنے ملک کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں دیا گیا تھا ۔
آخر کار سعودی عرب نے ۲۶ مارچ کو یمن کے بھگوڑے اور مستعفی صدر کی درخواست کو بہانہ بنا کر کہ اس کے ملک کو ملک میں بد امنی پھیلانے والے گروہ کے چنگل سے آزاد کروایا جائے نو عرب ملکوں کے ساتھ مل کر اور امریکہ اور مغربی ملکوں کی حمایت سے یمن کے خلاف فوجی کاروائی کا آغاز کر دیا ۔یہ بہانہ ایسی حالت میں اس وقت بھی سعودی عرب کی طرف سے قتل عام کے سلسلے کو جاری رکھنے میں موئثر ہے کہ جب منصور ھادی استعفی دینے اور ذمہ داری سے بھاگ کھڑا ہونے کی وجہ سے ملک کا صدر ہونے کے عنوان سے نہ صرف اس درخواست کا حق نہیں رکھتا بلکہ وطن کا خائن ہونے کے اعتبار سے اس کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے تھی ۔
قابل توجہ نقطہ یہ ہے کہ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمایندے نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ یمن پر سعودی عرب نے ٹھیک اس وقت حملہ کیا کہ جب یمن کے گروہ سیاسی طریقہء کار ڈھونڈھنے کے سمجھوتے کے آخری مرحلے میں تھے اور طرفین کے درمیان بہت معمولی اختلافات رہ گئے تھے لیکن سعودی عرب کے حملوں نے ان تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا ۔
عوامی کمیٹیوں کے قالب میں انصار اللہ اور یمن کی فوج کی سربراہی میں یمنیوں کی مقاومت نے ایسی حالت میں یمن پر قبضے کے منصوبے کو ناکام بنایا کہ جب دنیا والے یمن پر سعودی عرب کو اس کے بے رحمانہ حملے میں عام افراد کے قتل اور یمن کے ۹۰ فیصد بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں اور یہ بتا رہے ہیں کہ سعودی عرب شکست خوردہ ہے ،ایسے میں دشمن نے منصوبے کے چوتھے حصے کو پیش کر دیا ہے ۔ جنیوا کی کانفرنس بان کی مون کی سربراہی میں سیاسی حل کا جائزہ لینے کے لیے ایسی حالت میں منعقد ہوئی کہ سعودی عرب نے اس بیٹھک کے انعقاد کی راہ میں روڑے اٹکا کر منجملہ انصار اللہ کا وفد لے جانے والی پرواز کی راہ میں خلل ایجاد کر کے ،اور جیبوتی میں ان کی پرواز کو روکے رکھ کر اور نیز اقوام متحدہ پر دباو ڈال کر کہ مذاکرات میں سعودی عرب کی خواہش کو محور بنایا جائے یمن کے بحران کے خاتمے کے سیاسی طریقہء کار کو تلاش کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ۔
سعودی عرب اور سونے کے تیر کا منظر نامہ
سعودی عرب کہ جس کو چار مراحل میں شکست ہو چکی تھی اس نے یمن پر حملے کے نئے پہلو کا آغاز کر دیا اور وہ تھا عدن کو آزاد کروانے کے لیے سونے کے تیر کی کاروائی شروع کر نا ۔ اس منصوبے کی بنیاد پر سعودی عرب نے یمن کے سلسلے میں نئے طریقہء کار کا آغاز کیا کہ جس کو یمن میں لیبیا کی کاروائی کا دوہرانا کہا جا سکتا ہے ۔
سال ۲۰۱۱ میں مغربی ملکوں نے لیبیا پر قبضہ کرنے کے لیے بن غازی کو اپنی وابستہ فوجوں کا مرکز بنایا ۔ اور ان کو مسلح کرکے ان کی ہوائی اور لیجیسٹیکی حمایت کر کے اور ان گروہوں کے اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ کواستعمال کر کے ان کو لیبیا میں پہلے سے طے شدہ مقاصد کے حصول کے لیے روانہ کیا ۔البتہ مغرب نے اپنے مفادات تک پہنچنے کی خاطر لیبیا سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے سے انکار کر دیا اور اس ملک کو بد امنی اور بحران کے طوفان میں اکیلا چھوڑ دیا ،چنانچہ یہ ملک اس وقت دہشت گردی اوراندرونی جنگ کی آگ میں جل رہا ہے ۔
امارات کہ جو سعودی عرب کا اصلی اتحادی ہے اس کے بقول عدن کی آزادی کے لیے جو تیر طلائی نام کا منصوبہ بنایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ منصور ھادی کی وفادار فوجیں ،امریکی ۔سعودی اتحاد کی حمایت کے ساتھ یمن میں مستقر ہوں گی اور پھر وہاں سے وہ یمن کے تمام علاقوں پر قبضے کا راستہ ہموار کریں گی ۔
امارات والوں کے اس دعوے کے ساتھ ہی منصور ھادی کے بھگوڑے وزیر اعظم الحاج نے عدن میں حکومتی قابینہ کی تشکیل کی خبر دی ہے اور سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ نے بھی عدن کے ہوائی اڈے پر سعودی ہوائی جہازوں کے اترنے کی بات کہی ہے ۔ یہ اقدام جولائی کے اواخر میں ایسی حالت میں انجام پایا کہ جب یمنی گروہوں نے اس کو جھوٹا بتایا ہے اور اس کو سعودی عرب کے جرائم اور اس کی شکست کو چھپانے کی ایک سراب کی جیسی کوشش بتایا ہے ۔
تیر طلائی نام کی کاروائی کے بارے میں چند نکات
عدن میں تیر طلائی نام کی کاروائی اواخر جولائی میں ایسی حالت میں شروع ہوئی کہ جس کے سلسلے میں چند چیزیں قابل غور ہیں جو یمن کے بحران کے حساس اور تقدیر ساز مرحلے میں داخل ہونے کی عکاس ہیں ۔
سعودی عرب نے ایسی حالت میں منصور ھادی کی فوجوں کے عدن میں داخلے کو تیر طلائی کاروائی کا بہانہ بنایا ہے کہ جب شواہد اور گواہوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان فوجوں کا بڑا حصہ القاعدہ اور داعش کے افراد ہیں کہ جو اس سے پہلے حضرموت ،تعز ، مارب اور اب پر قبضہ کرنے پر مامور تھے ۔داعش نے ایک بیان کے ذریعے سرکاری طور پر تیر طلائی نام کی کاروائی میں سعودی عرب کی مدد کا اعلان کیا ہے کہ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ فوجی کاروائی میں سعودی عرب کو بھاری شکست ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ اب داعش اور القاعدہ جیسے دہشت گردوں کا سہارا لے رہا ہے۔
ایسی حالت میں کہ جب بہت سارے عرب ملکوں نے سعودی عرب کی حمایت جاری رکھنے سے انکار کر دیا ہے امارات پورے وجود کے ساتھ یمن کے عوام کے قتل عام میں سعودی عرب کا ساتھ دے رہا ہے اور اس نے تیر طلائی نام کی کاروائی میں شرکت کرنے پر تاکید کی ہے ۔بہت ساروں کا یہ عقیدہ ہے کہ امارات عدن کی بندرگاہی اور تجارتی پوزیشن سے پریشان ہے اور وہ اس کاروائی میں شامل ہو کر اور عدن کو نابود کر کے دبئی کی پوزیشن بچانے کے درپے ہے جب کہ سعودی عرب کی خواہشیں پوری کر کے وہ قطر کے ساتھ رقابت میں علاقے کی بڑی طاقت بننے کے خواب دیکھ رہا ہے ۔
امریکہ کے وزیر دفاع اشتون کارٹر نے مرداد کے اوایل میں ایسی حالت میں سعودی عرب کو ایران اور پانچ جمع ایک کے درمیان جوہری مذاکرات کی رفتار سے آگاہ کرنے کے لیے سعودی عرب کا سفر کیا تھا کہ جس سفر کا مقصد سعودی عرب کو یمن کے لوگوں کے قتل عام کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے نئے بمب فراہم کرنا تھا ۔اس کے ساتھ ہی ذرائع ابلاغ منجملہ المیادین نے اعلان کیا کہ برطانیہ نے سعودی عرب کو ایسے بمب دیے ہیں جن کی ہدایت کی جا سکتی ہے کہ جن کو یمن میں استعمال کیا جائے گا ۔فرانس نے بھی کہ جو مرداد کے اوایل میں سعودی عرب کے بادشاہ ملک سلمان کی تفریح گاہ میں تبدیل ہوا ہے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو ہتھیار سپلائی کیے جانے کی خبر دی ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ تیر طلائی نام کی کاروائی کے کنٹرول روم اور یمن پر بمباری میں صہیونی حکومت کا بھی بنیادی کردار ہے ۔
یورپین یونین کی خارجی سیاست کی مسئول موگرینی نے بھی ۵ مرداد کے دن ایسی حالت میں سعودیہ کا دورہ کیا ہے کہ سعودیہ کے یمن پر ڈھائے گئے مظالم کا اس نے ذکر تک نہیں کیا تا کہ یہ پتہ چلے کہ یورپ ان مظالم اورقتل عام کا حامی ہے۔کہ جو مغرب کی بشر دوستی اور اس کے صلح طلب ہونے کے دعوے کے بے ہودہ ہونے کا ایک اور ثبوت ہے ۔
سعودی عرب کہ جس نے چار ماہ سے کسی بھی طرح کے جرم اور ظلم سے گریز نہیں کیا اب اس نے عدن میں تیر طلائی نام کی کاروائی میں دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہوئے یمن کے رہائشی علاقے پر بمباری کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا ہے ۔چنانچہ دو مرداد کو سعودیہ نے جو تعز اور المخاء کے علاقے پر حملے کیے تھے ان میں ۱۰۰ سے زیادہ افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے جن میں اکثر عورتیں تھیں اور بچے تھے ۔ ذرائع ابلاغ نے ان جرائم کو قانا میں صہیونی حکومت کے جرائم کے برابر قرار دیا ہے کہ جن میں سینکڑوں عورتوں اور بچوں کی جانیں چلی گئی تھیں ۔
تیر طلائی کے منظر نامے اور یمن کے لوگوں کے قتل عام کے جدید دور کے آغاز میں اقوام متحدہ نے بھی قابل غور کردار ادا کیا ہے ۔منتشر شدہ رپورٹوں کی بنیاد پر یہ پتہ چلا ہے کہ عوامی کمیٹیاں منجملہ انصار اللہ سیاسی راہ حل تلاش کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ رائے مشورے میں مشغول تھیں اور انہوں نے اقوام متحدہ کی درخواست پر عدن اور جنوبی علاقوں سے اپنی فوجیں کم کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا تا کہ وہاں کے امور جنوبی قبایل کو واگذار کیے جا سکیں کہ سعودی عرب نے اس خلاء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منصور ہادی کی وفادار فوجوں کے پرچم تلے دہشت گردوں کو عدن میں داخل ہونے کا موقعہ فراہم کر دیا ۔
بعض سیاسی مبصرین یمنی گروہوں کے ساتھ اقوام متحدہ کی خیانت کو عدن میں بحران کے آغاز اور سعودی عرب کی اس علاقے میں نقل و حرکت کی وجہ بتاتے ہیں ۔قابل توجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے یمن کے لیے دوائی کی صورت میں اور انسان دوستی پر مبنی امداد ارسال کرنے سے اجتناب کیا لیکن تیر طلائی نام کی کاروائی کے شروع ہوتے ہی اس نے امداد رسانوں کی کشتی کے عدن کے ساحل پر لنگر انداز ہونے کی خبر دی ہے ۔عوامی کمیٹیوں سے وابستہ گروہوں نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب بشر دوستانہ امداد کے بہانے اقوام متحدہ کے پرچم تلے عدن میں داعش اور القاعدہ کے لیے ہتھیار بھیج رہا ہے ۔
تیر طلائی نام کی کاروائی کا انجام
سعودی عرب امریکہ ،برطانیہ اور فرانس کے تحفے میں دیے گئے بموں کے ذریعے اور بعض عرب ملکوں اور صہیونیوں کی ہمراہی میں نسل کشی کر کے ایسی حالت میں یمن کو دوسرے لیبیا میں تبدیل کرنے کے تصور میں ہے اور تیر طلائی نام کی کاروائی سے اپنی شکستوں کی تلافی کرنا چاہتا ہے کہ جب تبدیلیوں کی رفتار اس منصوبے کی ناکامی کی نشاندہی کر رہی ہے ۔یمن پر حملے اور اس میں قتل عام کے سلسلے میں سعودی عرب کا سب سے اصلی دعوی یمن میں حالات کی ابتری تھا ۔سعودیوں نے ایسی حالت میں انصار اللہ اور اس کی قدرت طلبی کو یمن میں جنگ کا بہانہ بنایا کہ تیر طلائی نام کی کاروائی کے شروع ہونے کے ساتھ ہی یمن کے سولہ بڑے قبایلی اور سیاسی گروہوں نے سرکاری طور پر انصار اللہ کو سعودی حملوں کا مونہہ توڑ جواب دینے کا مکمل اختیار دے دیا ہے ۔اور عوامی کمیٹیوں اور یمن کی فوج نے بھی انصار اللہ کا ساتھ دینے پر زور دیا ہے ۔
اس کے ساتھ ہی یمن کے لوگوں نے مختلف مقامات پر مظاہرے کر کے ،سعودی حملوں کی مذمت اور اقوام متحدہ کی خاموشی کی مذمت کرنے کے ضمن میں انصار اللہ کی حمایت پر تاکید کی ہے ۔ یہ تبدیلیاں ایک طرف تو انصار اللہ کی عوامی اور سیاسی گرفت کو ظاہر کرتی ہیں تو دوسری جانب منصور ھادی کی عوامی سطح پر عدم مقبولیت کو نمایاں کرتی ہیں جو ریاض کے لیے بہت بڑی شکست ہے ۔ فوجی اور کاروائیوں کے میدان میں بھی عوامی کمیٹیوں اور فوج نے تعز اور عدن کے بہت سارے علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے ساتھ سعودی عرب کے فوجی ٹھکانوں پر بھی حملے کیے ہیں کہ جن میں بحرینی او اماراتی فوجوں کے ہیڈ کوارٹر اور سعودی عرب کا جازان کا فوجی مرکز شامل ہے ۔یمنیوں نے عملی طورپر جنگ کے دائرے کو سعودی عرب کے اندر تک پہنچا دیا ہے ۔
قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے کچھ حصے منجملہ نجران کے لوگوں نے بھی سعودی عرب کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے ہیں جن پر سعودی عرب بمباری کرکے اور انہیں قتل کر کے عوامی کاروائی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے ۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر بھی سعودی عرب کی پوزیشن مضبوط نہیں ہے چنانچہ ایک طرف بین الاقوامی عفو نے ایک رپورٹ میں اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کے حملوں میں چار ہزار سے زیادہ افراد شہید اور بیس ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں ،سعودی حملوں کو جنگی جرائم کا آشکارا نمونہ اور غزہ میں صہیونیوں کے جرائم کا ہم پلہ قرار دیا ہے ۔
یہ ساری ناکامیاں باعث بنی ہیں کہ سعودی عرب نے مجبور ہو کر 27جولائي کو ایک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا تا کہ جو جرائم اس نے کیے ہیں ان سے اور خاص کر المخاء کے قتل عام سے عمومی افکار کی فضا کو منحرف کرے اور عدن کو آزاد کرنے کے لیے جو تیر طلائی نام کی کاروائی اس نے شروع کی اس میں شکست کو اور یمنیوں نے جو انصار اللہ پر مکمل اعتماد کیا ہے اور اسے سعودی جرائم کا جواب دینے کا مکمل اختیار دیا ہے اس کو چھپا سکے ۔ البتہ جنگ بندی کے دوران بھی سعودیوں کے حملے متوقف نہیں ہوئے اور یمن کے لوگوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری ہے ۔
یہ شکست اتنی بھاری تھی کہ بعض مبصرین نے ترکی کے شام پر پ۔ ک ۔ ک اور داعش کا مقابلہ کرنے کے بہانے سے حملوں کو یمن کے لوگوں کی مقاومت کے مقابلے میں سعودی عرب کی شکست سے عمومی افکار کو منحرف کرنے کے لیے سعودی امریکی منصوبہ قرار دیتے ہیں ،البتہ تبدیلیوں کی رفتار سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی امریکی اتحاد نے ابھی تک یمن میں پے در پے شکستوں سے درس حاصل نہیں کیا ہے اور یمن میں قتل عام اور داعش اور القاعدہ کی حمایت کو جاری رکھے ہوئے ہے ،کہ جو القاعدہ اور داعش کے ذریعے یمن کو تقسیم کرنے کی نئئ سازش ہو سکتی ہے جب کہ یمنیوں کے قومی اتحاد نے کہ جو انصار اللہ کی رہبری میں عوامی کمیٹیوں کے قالب میں ہے یمن کے دشمنوں کے اس منظر نامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ لاکھوں یمنیوں کو انسان دوستانہ امداد کی ضرورت ہے کہ جن میں سے بہت سارے بچے ہیں ،بچے اس بات پر مصر ہیں کہ وہ بھوک اور امریکی سعودی اتحاد کے سامنے ہر گز نہیں جھکیں گے اور آخری دم تک ڈٹے رہیں گےاس لیے کہ انہوں نے غزہ کے بچوں سے سیکھا ہے کہ وہ ہر گز نہ جھکیں اور دشمن کے مقابلے میں گھٹنے نہ ٹیکیں بلکہ کھڑے کھڑے جان دے دیں ۔







۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲