اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان نے سنیچر کی رات ٹی وی چینل ایک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی کی بنیاد دینی عقائد پر استوار ہے جس میں جارحیت برداشت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایران کے وزیر دفاع نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دفاع تمام قوموں کا حق ہے کہا کہ کوئی بھی عامل، دفاعی لحاظ سے ایران کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا- بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دیگر ممالک کی ارضی سالمیت کا احترام اور علاقے کے امن و استحکام کے لئے کوشش کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ استقامت کے محور اور اس کے محاذوں کو کمزور کرنے کے لئے امریکی سازش ہے اسی لئے وہ تکفیری گروہوں کو اکسا کر اور ان کی حمایت کر کے عراق اور پھر شام کو نشانہ بنائے ہوئے ہے- وزیر دفاع نے علاقے کے حالات، خود مختاری کی حفاظت، ارضی سالمیت، عوام کے موقف کی بنیاد پر ممالک کی سرنوشت کے تعین اور استقامت کے محور کے تحفظ کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کا اعلان کیا اور تاکید کے ساتھ کہا کہ اس بنیاد پر استقامت کے محور ممالک کے لئے ایران کی حمایت جاری ہے اور شام ، عراق یا کوئی بھی قانونی حکومت اگر ایران سے فوجی اور دفاعی مدد مانگے گی تو وہ ان کی مدد کرے گا- بریگیڈیئر جنرل حسین دہقان نے مزید کہا کہ امریکہ اور صیہونیوں نے استقامت کے محاذ کو کمزور کرنے کے لئے تکفیری گروہ تشکیل دیئے اور ایران کے اسلامی جمہوری نظام کا، استقامت کا اصلی محور ہونا ایک فطری امر ہے- ایران کے وزیر دفاع نے امریکی حکام کی دھمکیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کی دھمکی سے ایران کی طاقت کا پتہ چلتا ہے اور امریکی سیاست داں امریکی عوام کے مفادات کی فکر میں نہیں ہیں اور ان کی دھمکیاں صیہونی حکومت کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہیں-
.......
/169