1 اگست 2015 - 15:45
کون سا علم، الہی اور کون سی یونیورسٹی، اسلامی ہوا کرتی ہے؟

حجۃ الاسلام محمدیان نے یہ سوال پیش کرتے ہوئے کہ کیا ہمارے نزدیک علوم کی دو قسمیں ہیں الہی علوم اور غیر الہی علوم؟ مزید کہا: تمام علوم اللہ کی جانب سے ہیں تمام علوم کا منشا اور منبع خدا ہے۔ علم کسی بھی شعبہ میں ہو نور الہی ہے اور جو بھی علم انسان کو عطا ہوتا ہے وہ فیض الہی ہوتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کی یونیورسٹیوں میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندگی کرنے والے ادارے کے عہدہ دار حجۃ الاسلام و المسلمین محمدیان نے مشہد میں جاری ڈاکٹروں کی آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے اسلامی یونیورسٹیوں کی تعریف بیان کی اور کہا: اسلامی یونیورسٹیاں صرف نام سے یا مسلمان طلباء کو ان میں داخلہ دینے سے اسلامی نہیں ہوتیں بلکہ اسلامی یونیورسٹیاں اس وقت اسلامی کہلائیں گی جب ان میں علم کو الہی اور توحیدی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے نے اس بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب انسان کی نگاہیں الہی ہوں گی تو یونیورسٹیاں، اسلامی ہوں گی اور یہ چیز یونیورسٹیوں کی ترقی کی راہ میں موثر ثابت ہو گی۔

انہوں نے یہ سوال پیش کرتے ہوئے کہ کیا ہمارے نزدیک علوم کی دو قسمیں ہیں الہی علوم اور غیر الہی علوم؟ مزید کہا: تمام علوم اللہ کی جانب سے ہیں تمام علوم کا منشا اور منبع خدا ہے۔ علم کسی بھی شعبہ میں ہو نور الہی ہے اور جو بھی علم انسان کو عطا ہوتا ہے وہ فیض الہی ہوتا ہے۔

حجۃ الاسلام و المسلمین محمدیان نے کہا کہ علم کے الہی اور غیر الہی ہونے کی پہچان انسان کی اپنی نگاہ ہے وہ کسی نگاہ سے علم کو دیکھتا ہے اگر علم کو الہی اور توحیدی نگاہ سے دیکھے گا تو الہی ہو گا ورنہ نہیں۔ اور جب علم الہی ہو گا تو یونیورسٹیاں بھی دینی اور اسلامی ہوں گیں۔

انہوں نے دنیا کے بحرانی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس سے آج علم ہی ہے جس کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان کی نابودی کا سامان فراہم کر رہا ہے ظالموں کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کا ذریعہ فراہم کر رہا ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ انسان کے پاس علم تو ہے لیکن علم کو الہی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

حجۃ الاسلام محمدیان نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ یہ علم ہی ہے جو انسان کو کمال تک پہنچاتا ہے کہا: اساتید اور طلباء کی اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تعلیم و تعلم کے دوران اس احساس کا دامن تھامے رکھیں کہ وہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کی راہ میں گامزن ہیں۔ ان کا علمی کام اللہ کی راہ میں جہاد ہے اور یہ وہی نکتہ ہے جس کی بشریت کو آج ضرورت ہے چونکہ اسلام وہ دین ہے جو انسان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ علم بندگی اور عبودت کے وادی میں پرواز کرنے کا اہم ترین وسیلہ ہے کہا: ہمارے دین میں علم کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ نے ہمارے نبی (ع) کو الہی معجزے کے طور پر جو چیز عطا کی ہے وہ ایک کتاب ہے جو قیامت تک عالم بشریت کے لیے ہدایت کا مرکز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲