اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے دارالحکومت بغداد کے شمال مغرب میں تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع صوبۂ دیالی کے ایک مصروف بازار’’بنی سعدہ‘‘ میں جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات کار بم دھماکہ ہوا۔ اس کار بم دھماکے میں ۹۰ افراد شہید اور ۱۱۰زخمی ہوئے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں- اطلاعات کے مطابق کار میں تین ٹن دھماکہ خیز مواد رکھا ہوا تھا۔
اس کار دھماکے میں جانی نقصان کے علاوہ متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دریں اثنا دہشت گرد گروہ داعش نے ایک بیان جاری کر کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ دوسری جانب دہشت گرد گروہ داعش، عراق کے سیکورٹی اہلکاروں اور عوامی رضاکاروں کی غلط تصویر پیش کرنے کے مقصد سے ان علاقوں میں عام شہریوں کا قتل کر رہا ہے جہاں عراقی سیکورٹی فورس کے اہلکاروں اور عوامی رضاکاروں کا آپریشن جاری ہے۔ دہشت گرد گروہ داعش کا مقصد اس قتل عام کا الزام عراق کی سیکورٹی فورس اور عوامی رضاکاروں پر عائد کرنا ہے۔
عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھشتگردوں کا عراق میں کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور ہم ان سے انتقام لے کر رہیں گے۔
عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم جبوری نے بھی اس حادثے کی شدید مذمت کی اور صوبہ دیالی کے رہنے والوں سے تاکید کی کہ وہ داعش کے اس طرح کے حملوں کا مقابلہ کریں اور انہیں اپنے مقصد تک نہ پہچنے دیں۔
واضح رہے کہ صوبہ دیالی کے شہر بنی سعدہ شیعہ اکثریت کا علاقہ ہے اور دھشتگرد ٹولے داعش نے شب عید شیعہ مسلمانوں کو دھشتگردی کا نشانہ بنا کر ان کی عید کو عزا میں بدل دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲