اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ترکی کی پارلیمنٹ کے اہم انتخابات کے حتمی نتائج کا اتوار7 جون کے دن اعلان کیا گیا حکمران جماعت انصاف و ترقی [جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی]کی ان انتخابات میں بھاری شکست ،یا زیادہ واضح لفظوں میں رجب طیب اردوغان کی ان انتخابات میں شکست ایک ایسا مسئلہ ہے کہ بہت کم تجزیہ نگار جس کے بارے میں سوچ رہے تھے ۔ نتائج کے اعلان سے پہلے تک زیادہ تر تجزیات میں یہ کہا جا رہا تھا کہ حکمران پارٹی کامیابی کے بعد ،سیاسی نظام کو پارلیمانی نظام سے ریاستی نظام میں تبدیل کرنے کے لیے ریفرینڈم کی ضرورت محسوس کرے گی یا بغیر ریفرینڈم کے ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔لیکن اس وقت ۱۳ سال کی من مانی کے بعد حکومت اس وقت ایک لڑ کھڑاتی ہوئی مخلوط حکومت کی تشکیل یا پھر سے انتخابات کروانے کی فکر میں ہے ۔
قانون کے مطابق اگر ۵۵۰ سیٹوں میں سے "انصاف و ترقی جماعت "کو ۳۳۰ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی تو وہ ریفرینڈم کرواتی اور قانون میں تبدیلی کر کے ترکی کے پارلیمانی سیاسی نظام کو ریاستی نظام میں بدل دیتی ،اور اس طرح اردوغان کی طاقت میں ایک بار پھر اضافہ ہو جاتا !اسی قانون کے مطابق ، اگر یہ پارٹی ۳۶۷ سیٹیں حاصل کر لیتی تو بغیر ریفرینڈم کے اس ملک میں اپنی بلند پروازی کو جاری رکھتی ۔لیکن اعلان شدہ نتائج نے اردوغان اور اس کی حکومت کے تمام محاسبات پر جھاڑو پھیر دیا ۔
اعلان شدہ نتائج کے مطابق جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے ۴۱ فیصد ووٹ حاسل کر کے کامیابی حاصل کی ہے یعنی اس کو ۲۵۸ سیٹیں ملی ہیں جو حکومت کی تشکیل کے لیے ضروری نصاب یعنی ۵۰ فیصد ووٹوں سے ۱۸ سیٹیں کم ہیں۔
لیکن ترکی کی حکمران پارٹی کو کیوں ان انتخابات میں شکست ہوئی ہے ؟ اور اس شکست کے نتائج کیا ہوں گے ؟
یہ شکست کیوں ہوئی ہے اس کے متعدد دلایل اور جوابات دیے جا سکتے ہیں لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اردوغان کی کچھ داخلی اور کچھ خارجی پالیسیوں کا اس نتیجے کے سامنے آنے میں موئثر کردار رہا ہے کہ یہاں ان میں سے چار چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے ۔
۱ ۔ جیسا کہ اشارہ کیا گیا پہلے سوال کے جواب کے کچھ حصے کو اردوغان کی داخلی پالیسیوں میں تلاش کرنا چاہیے ۔اردوغان کی عوامی مقبولیت کا راز اس کی اقتصادی پالیسیاں اور اس میدان میں اس کی بھرپور لیکن آگے نہ بڑھنے والی کامیابی ہے ۔ نہ بڑھنے والی اس اعتبار سے کہ بہت سارے ماہرین کے اعتقاد کے مطابق حالیہ برسوں میں ترکی کی اقتصادی ترقی صرف ایک بلبلہ تھی کہ جس کے نتیجے میں بلا واسطہ خارجی سرمایہ گذاری ایف ڈی آئی حاصل ہوئی ہے ،مختصر یہ کہ مستقیم خارجی سرمایہ گذاری ،مصنوعی یعنی ناخالص داخلی پیداوار جی ڈی پی میں افزائش کا سبب بنی ہے اور اس نے اقتصادی رتبہ بندی میں ترکی کے مقام کو خیالی طور پر بلند کیا ہے ،یہ مصنوعی ترقی کہ جو خارجی سرمایہ گذاری کی بنیاد پر تھی نہ کہ داخلی پیداوار کی بنیاد پر اس نے ترکی کو قرض (ایکسٹرنل ڈیبٹ ) کے بوجھ تلے دبا کر رکھ دیا اور اس چیزنے اس کو اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ مقروض ملک میں تبدیل کر دیا ہے ۔لیکن ان تمام احوالات کے باوجود ترکی کے لوگ نسبتا اس مسئلے سے آگاہ نہ ہونے کی بنا پراور صرف ترقی کو دیکھ کر کہ چاہے وہ غبارے کی مانند کیوں نہ ہو ،اردوغان کی جانب مایل ہو گئے تھے ۔لیکن کم سے کم حالیہ انتخابات نے یہ بتا دیا کہ ترکی کے لوگوں کے لیے صرف اقتصاد معیار نہیں ہے !
۲ ۔ بعض آراء ،اقدامات اور عجیب اور کچھ مضحکہ خیز تبلیغات کے انداز نے کہ جو گذشتہ کچھ ماہ سے اردوغان کی طرف سے سامنے آئے ان کو بھی اردوغان کی شکست کی دوسری دلیلوں کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے جیسے ترکی کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنے جیسے اقدامات کہ جو اردوغان کی قدرت طلبی کی علامت تھے ۔پوری جرائت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ان تمام اقدامات کا اختتام ایک نکتے پر ہوتا تھا اور وہ یہ کہ اردوغان امپراطوری عثمانی کو واپس لانے کے خواب دیکھ رہا تھا ؛ ایک امپراطوری نظام کہ جس میں اردوغان ایک مپراطور کے کردار کا مالک ہو ۔۶۱۵ ملین ڈالر کا نیا محل تعمیر کرنا کہ جس میں ۱۱۵۰ کمرے ہیں اور وہ اس بہانے سے کہ پرانے محل میں کاکروچ ہیں ! اس محل میں محمود عباس کا عجیب استقبال (اردوغان نے اس پرگرام میں ۱۶ شمشیر زنی کے ماہرین کے ساتھ کہ جن کے ہاتھ میں نیزے تھے اور زیادہ تر ایسے لباس میں تھے جو عثمانی دور کی یاد تازہ کر رہے تھے ،محمود عباس کے ساتھ فوٹو کھنچوایا ) شام کی سرزمین پر حملہ اور سلطان سلیمان عثمانی کی قبر کو کھداوانا بھی اس کی اس طرح کی حرکتوں میں شامل کر لیجیے ۔سڑکوں پر ہونے والے اعراضات کو وحشیانہ انداز میں کچلنا ،پارک گزی اور میدان استقلال کا واقعہ ، اردوغان کے مخالفین کے اجتماعات میں شہر دیار بکر میں حالیہ دھماکے ،وغیرہ ایسے موارد ہیں کہ جو اردوغان کی داخلی سیاست کے کارناموں میں ثبت ہو چکے ہیں ،اور یہ موارد بلا شبہ ان انتخابات کے نتائج میں بے تاثیر نہیں تھے ۔
۳ ۔ لیکن مسئلے کا سب سے مؤثر اور مہم حصہ علاقائی تبدیلیوں اور ترکی کی خارجی سیاست سے متعلق ہے ۔ترکی نے خارجی میدان میں اپنی اعلان شدہ سیاست کے بر خلاف کہ جس کی بنیاد علاقے کے ملکوں کے درمیان تناو کو صفر تک پہنچا نا ہے ، اس نے خارجی سیاست کے میدان میں بھی داخلی سیاست کے میدان کی طرح کوئی قابل قبول کارنامہ نہیں دکھایا ہے ۔ شام کی حکومت کو کسی بھی قیمت پر گرانے کی کوشش ،اور وحشی تکفیریوں کی آشکارا اور پنہانی حمایت کہ جو ان مقاصد تک پہنچنے کے لیے تھی اردوغان کے لیے مہنگی ثابت ہوئی ہے ۔
انتخابات سے چند روز پہلے روز نامہء جمہوریت کی طرف سے اردوغان کی تکفیری دہشت گردوں کو دی گئی امداد سے پردہ اٹھا نے ، حکومت کی طرف سے اس کو جھٹلانے ، اور بلا فاصلہ اس روزنامے کی جانب سے اس کے مضبوط دلایل پیش کرنے کے بعد ترکی کے عوام کے لیے کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا کہ اردوغان کا ہاتھ خون آشام تکفیریوں کے ہاتھ میں ہے اسلحے کی صورت میں اس امداد رسانی کی ویڈیو فیلم دیکھنے کے بعد داوود اوغلو کا رد عمل یہ تھا : ان گٹھڑوں کو ہم شام کے ترکمانوں کے لیے بھیجتے ۔۔۔ اور کسی کو اس سے کیا لینا دینا ہے کہ ان گٹھڑوں کے اندر کیا تھا !!!
۴ ۔ شام کے کرد نشین شہر کوبانی کا واقعہ اور ترکی کی حکومت کا عورتوں اور بچوں کو بھاگنے نہ دینے کا بزدلانہ اقدام کہ جن کو تکفیری دہشت گردوں کے وحشیانہ حملوں کا سامنا تھا ،بھی نظر میں رکھا جانا چاہیے ۔تکفیری جس وقت شہر کوبانی کے بچوں اور وہاں کی عورتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہے تھے ،تو اس شہر کے بہت سارے لوگوں نے خود کو ترکی کی سرحد پر پہنچایا اور گذرنے کی اجازت مانگی ،لیکن ترکی کی فوج نہ صرف ان کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئی ،بلکہ ان کو کچل کر اس نے انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا ۔بعد میں کوبانی کے کچھ مقامی رہنماوں نے یہ راز فاش کیا کہ ترکی کی حکومت نے عورتوں اور بچوں کی مدد کرنے کی یہ شرط رکھی تھی کہ وہ بشار اسد کے خلاف جنگ کا اعلان کریں !
یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پہلے کے ادوار میں ترکی کے بڑی تعداد میں ترکی کے کرد خاص کر دیار بکر کے رہنے والے کہ جو ترکی کا سب سے بڑا کرد نشین شہر ہے، عدالت و توسعہ پارٹی کو ووٹ دیتے تھے ۔لیکن اس دور میں حالات کچھ بدل گئے ۔مثلا چار سال پہلے کے پارلیمانی انتخابات میں دیار بکر کی ۱۱ سیٹوں میں سے ۶ سیٹیں عدالت و توسعہ پارٹی کو ملی تھیں ،لیکن اس دور میں صرف ایک سیٹ حکمران پارٹی کو ملی ہے ۔اس دور میں کردوں نے پہلی بار جمہوری خلق پارٹی کے عنوان کے تحت مجموعی سیٹوں میں سے ۱۳ فیصد سیٹیں یعنی ۸۲ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے وہ بھی ایک مستقل پارٹی کے تحت نہیں ترکی کے کردوں نے اس طرح کوبانی کے رہنے والوں کا اچھی طرح انتقام بھی لیا ہے ۔
بغیر شک کے یہ شکست ملک کے اندر اور باہر کچھ نتائج کی حامل تھی جس سے ترکی کی داخلی اور خارجی سیاست میں تبدیلی رونما ہو گی ۔ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کڑوی شکست اور اردوغان کی ان انتخابات میں دکھاوے کی کامیابی نہ صرف اس چیز کا باعث بنے گی کہ وہ امپراطوریء عثمانی کے خواب دیکھنا بند کرے گابلکہ علاقے میں اس کی بلند پرازی میں بھی کمی واقع ہو گی ۔طبیعی چیز ہے کہ ایک مخلوط حکومت کے بل بوتے پر اردوغان علاقے میں پہلے کی طرح اچھل کود نہیں کر پائے گا ۔ اس تاریخی شکست سے ترکی کی شام کے امور میں مداخلت بھی کسی حد تک کم ہوگی ۔اس کے بعد شام کو امید رہے گی کہ اس کے علاقے اور شہر ترکی کی فوجی اور مالی امدادسے اس کے ہاتھ سے نہیں نکلیں گے ۔ اور ترکی کے سرحدی علاقوں سے تکفیریوں کے شام میں داخلے میں بھی کمی آئے گی ۔
شام کی جنگ کے میدان سے ترکی کا نکلنا شام اور علاقے کی مزاحمتی تحریک کی بڑی مدد ہو گی ۔ شاید ترکیہ کے کردوں کے بعد ان انتخابات کے نتائج نے شام کے لوگوں کو سب سے زیادہ خوش کیا ہے ۔ شاید یہ قدرے خوش فہمی ہو گی لیکن اس شکست سے علاقے میں ایران کی محبوبیت میں اضافہ ہو گا ،جیسا کہ کوبانی جرف الصخر اور آمرلی وغیرہ کے مظلوم عوام کو نجات دلانے میں ایران کے محبوب سردار کی امداد نےعلاقے کے عوام منجملہ کردوں کے درمیان ہمارے ملک کی محبوبیت میں اضافہ کیا ہے یہاں تک کہ علاقے کے ہر آدمی کی زبان پر یہ ہے کہ ایران نے بتا دیا ہے کہ حقیقی اسلام کیا ہے اور کون لوگ پیغمبر اسلام ص کی اصلی سنت کی پیروی کرتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲