اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پیریس کے سیاسی مطالعات کے مرکز کے ایک ماہر سیاستدان میریام بن راد نے اپنے ایک بیان میں داعش کے خلاف اتحاد کی حالیہ بیٹھک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جو گذشتہ ہفتے فرانس کی میزبانی میں پیریس میں ہوئی ،اعلان کیا کہ ایران واحد ملک ہے کہ جو آشکارا طور پر داعش سے بر سر پیکار ہے ۔
پیریس کے سیاسی علوم کے مطالعات کے مرکز[The Paris Institute of Political Studies] میں ،عراق اور مشرق وسطی کے امور میں سیاسی علوم کے ماہر اور متخصص "میریام بن راد "نے فرانس کے ایک نشریے "لاکروا" کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کے دوران عراق اور شام میں جاری مناقشے کے بارے میں ایران اور سعودیہ کے کردار کے بارے میں اعلان کیا ؛علاقائی رقابتوں نے مغرب کی حکمت عملی کو جو واقعیت سے کوسوں دور معلوم ہوتی ہے نابودی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے ۔خلیج فارس کے ملکوں نے ایران کی غیبت میں ایسی حالت میں پیریس کی حالیہ بیٹھک میں شر کت کی ہے کہ یہ ملک یعنی ایران خواہ نخواہ واحد ملک ہے کہ جو کھلے عام داعش کے مقابلے میں نبرد آزما ہے ۔
اس نے مزید کہا ؛ ایران اور اس کے اتحادی سال ۲۰۰۳ سے کہ جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا لگاتار اس ملک میں اپنے نفوذ کو بڑھاوا دے رہے ہیں اور جیسا کہ دکھائی دیتا ہے اس دردناک اور مصیبت بار مداخلت کے بارہ سال گذر جانے کے بعد اس وقت امریکہ اور یورپ کے دوسرےملک مشرق وسطی میں اپنے نفوذ کی آخری حد تک پہنچ چکے ہیں اور ان کی طاقت کی نمائش کا دائرہ اس وقت بہت تنگ ہو چکا ہے ،اس طرح کہ عراق میں امریکہ کی مداخلت کی مخالفت شام کی طرح بہت قوی ہو چکی ہے ۔
پیریس کی حالیہ بیٹھک میں ایران کی عدم موجودگی کے بارےمیں سیاسی علوم کے اس کارشناس نے کہا:یہ مغرب والوں کی ریا کاری اور چالاکی ہے کہ اپنے اتحادیوں اور پہلے نمبر پر سعودیہ کو راضی کرنے کے لیے دعوی کرتے ہیں کہ وہ بحران سے نکلنے کے راستوں کی تلاش میں ہیں ۔ایران نے ایسی حالت میں پیریس کی بیٹھک میں شرکت نہیں کی کہ وہ پانچ جمع ایک کے بڑے ملکوں ،امریکہ ،روس ،چین ، برطانیہ ،فرانس اور جرمنی کے ساتھ اپنے جوہری منصوبے پر مذاکرات میں مشغول ہے ۔لیکن جو کچھ اس وقت مد نظر ہے وہ یہ ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ یہ تھکا دینے والی جنگ علاقے میں ان کے نفوذ کی حفاظت کے امکان کو فراہم کرے گی کہ کیا امریکہ واقعا بحران کو حل کرنے کی جانب مایل ہے یا نہیں ،
اس نے مزید کہا : یورپ کے ملک امریکہ کی حکمت عملی کے تابع اور خلیج فارس کے ملکوں کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی منافع اور مفادات کی قید و بند میں ہیں کہ جو تکفیریوں کی عقیدتی اور مالی امداد کرتے ہیں ۔
میریام بن راد نے آخر میں سعودی عرب ،قطر اور ترکی کی فتح نامی فوج کی حمایت کے بارے میں کہ جو شام میں القاعدہ کی شامی شاخ کے عنوان سے دہشت گرد گروہ جبہۃ النصرہ کے تحت مسلح گروہوں سے بنی ہے ،کہا مسلح گروہوں کا یہ اتحاد شام میں اس جمہوری انتقال کے راستے کو ہموار نہیں کرے گا کہ مغرب جس کے حصول کا خواہاں ہے ،مغرب اس وقت شام میں ،نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والی صورتحال سے دو چار ہے ،در اصل اس وقت علاقے کا کوئی بھی فریق اور کھلاڑی بحران کا حل نہیں چاہتا بلکہ اس کے بر عکس ہر ایک اپنے نفوذ اور اثر و رسوخ کو بڑھاوا دینے کی فکر میں ہے اور کوئی بھی نہیں چاہتا کہ بحران کو حل کرنے کے لیے دوسرے کو موقعہ دینے کا اقدام کرے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲