25 مئی 2015 - 17:48
کوئٹہ، دہشتگردوں کی فائرنگ سے 3 شیعہ ہزارہ شہید، 2 خواتین زخمی

واقعے کے فوراً بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے روایتی طور پر علاقے کو گھیرے میں لیکر قندھاری بازار میں شہید ہونیوالے جوان کو سول ہسپتال منتقل کردیا، جبکہ دہشتگرد ہمیشہ کی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعے کے بعد کوئٹہ کے تمام بازار بند ہوگئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کے علاقے قندھاری بازار اور سلیم کمپلیکس کے دو مختلف واقعات میں کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی کے کارندوں کی فائرنگ سے مجموعی طور پر تین شیعہ ہزارہ مسلمان شہید جبکہ دو خواتین زخمی ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے مرکزی علاقے قندھاری بازار میں دوپہر دو بجے کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو دہشتگردوں نے علی ٹی شاپ کے مالک انور علی ولد غلام نبی کو شہید کردیا۔ اسی طرح چند گھنٹے بعد دوسرا واقعہ سلیم کمپلیکس میں پیش آیا، جہاں دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے دو شیعہ جوانوں کو شہید جبکہ 2 شیعہ ہزارہ خواتین کو زخمی کردیا۔ واقعے کے فوراً بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے روایتی طور پر علاقے کو گھیرے میں لیکر قندھاری بازار میں شہید ہونیوالے جوان کو سول ہسپتال منتقل کردیا، جبکہ دہشتگرد ہمیشہ کی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعے کے بعد کوئٹہ کے تمام بازار بند ہوگئے اور شہداء کی میتوں کیساتھ آئی جی بلوچستان پولیس کے دفتر کے سامنے احتجاج شروع کردیا گیا۔ احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خصوصاً کوئٹہ میں ایک مرتبہ پھر بےگناہ شیعہ مسلمانوں کو منتخب جمہوری حکومت اور انتظامیہ کے ہوتے ہوئے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دوسری جانب سنی مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے، جسے فرقہ واریت کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن شہر میں شیعہ سنی مسلمان متحد ہوکر مشترکہ دشمن کے سامنے نبرد آزما رہیں گے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی کے سیاسی ونگ، اہلسنت والجماعت کو شہر میں یہی متعصب حکومت و انتظامیہ جلسے جلوس کرنے کی اجازت دیتی ہے، جوکہ انتہائی قابل مذمت فعل ہے۔ بعدازاں شہداء کی میت کو امام بارگاہ حسینی نچاری منتقل کیا گیا، جہاں آج رات اہم پریس کانفرنس بھی بلائی گئی ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

.......

/169