اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر داکٹر علی اکبر ولایتی اور شام کے صدر بشار اسد کے درمیان دمشق میں ہونے والی ملاقات میں فریقین نے دونوں ملکوں کی دلچسپی کے مختلف مسائل پر بات چیت کی-
فریقین نے اسی طرح مغربی ملکوں کے منصوبوں اور علاقے کے بعض ملکوں کے ذریعےاپنی گذشتہ سلطنتوں کی بحالی پرمبنی ان کے عزائم کے مقابلے میں تہران اور دمشق کے اسٹریٹیجک تعلقات کی اہمیت پر زور دیا-
ڈاکٹر ولایتی نے شام کے خلاف جنگ کو اس ملک کے خلاف ایک چھوٹی عالمی جنگ سے تعبیر کیا اور کہا کہ شام کے خلاف چھوٹے پیمانے پر یہ عالمی جنگ مزاحمت کے عمل میں شام کے مرکزی کردار کی بناء پر دمشق پر مسلط کی گئی ہے جس کا مقصد استقامت و مزاحمت کے محور کو تباہ کرنا رہا ہے-
انھوں نے کہا کہ شام کی سیاسی قیادت اور عوام کی استقامت نے مزاحمت کے عمل کو نقصان پہنچانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا جس کے نتیجے میں مزاحمت کا عمل اور زیادہ مضبوط و مستحکم ہوا ہے-
ڈاکٹر ولایتی نے کہا کہ ایران کی اعلی قیادت اور عوام نے شام کے شانہ بشانہ ڈٹےرہنے اور دمشق کی بھرپور حمایت کا تہیہ کر رکھا ہے -
اس ملاقات میں شام کے صدر بشار اسد نے بھی کہا کہ مزاحمت کا محور عالمی سطح پر مزید مستحکم ہوا ہے اور کوئی بھی اس محور کو نظر انداز نہیں کرسکتا- بشار اسد نےکہا کہ سعودی عرب اور ترکی دہشتگردی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں-
انھوں نے کہا کہ ان ملکوں کی یہ حمایت، ایسی حالت میں جاری ہے کہ ان دہشتگردوں نے شامی عوام کے خلاف انتہائی وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے-
.......
/169