18 مئی 2015 - 04:05
عراق، صوبہ الانبار کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے تیار

عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے صوبہ الانبار کو دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراقی پارلیمنٹ کی سلامتی اور دفاعی کمیٹی نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے دہشت گرد گروہ داعش کو صوبہ الانبار سے باہر نکالنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور آئندہ چند گھنٹے کے دوران فوجی آپریشن شروع کر دیا جائے گا جس میں عراقی فضائیہ بھی حصہ لے گی- اس سلسلے میں عراقی حکومت نے بھاری ہتھیاروں سمیت فوجی سازوسامان الانبار بھیج دیا ہے اور الانبار کے قبائل نے بھی اس فوجی آپریشن میں عوامی رضاکار فورس کی شمولیت کا مطالبہ کیا ہے- عراق کی عوامی رضاکار فورس کے ترجمان یوسف الکلابی نے بھی اعلان کیا ہے کہ عوامی رضاکار فورس صوبہ الانبار کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے تیار ہے- انھوں نے مزید کہا کہ رضاکار فورس کے الانبار میں داخل ہونے کا فیصلہ عراقی فوج کے کمانڈر انچیف وزیراعظم حیدر العبادی کریں گے- اس سے قبل صوبہ الانبار کے قبائل نے وزیر اعظم حیدر العبادی سے الانبار کی مدد کرنے کے لیے فوری طور پر زیادہ اسلحہ اور ہتھیار بھیجنے اور رضاکار فورس کو الانبار میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی- دریں اثنا صوبہ الانبار کی سیکورٹی کمیٹی کے سربراہ احمد العلوانی نے کہا ہے کہ الانبار کی صوبائی کونسل نے اس صوبے کی آزادی کے لیے عوامی رضاکار فورس کے ساتھ تعاون کرنے کی منظوری دے دی ہے- دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ میں اہل سنت کی نمائندہ ناہدہ الداینی نے عراق میں امریکہ کے منفی کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الانبار میں امریکہ اور غیرملکی اتحاد کے فضائی اڈے کی موجودگی کے باوجود انھوں نے داعش کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا- انھوں نے امریکیوں کے رویّے کو مشکوک قرار دیا اور کہا کہ بعید نہیں ہے کہ امریکیوں کا یہ اقدام عراق کی مرکزی حکومت کے خلاف ایک طے شدہ سازش ہو- قومی اتحاد سے تعلق رکھنے والے ایک رکن عبدالعزیز الظالمی نے بھی عراق میں امریکی اتحاد کے جنگی طیاروں کی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے- انھوں نے کہا کہ امریکیوں نے نہ صرف داعش کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا ہے بلکہ ہمارا خیال ہے کہ ان کے بعض مشیروں کے داعش کے ساتھ رابطے ہیں- عبدالعزیز الظالمی نے کھل کر کہا کہ امریکی حکام، عراقی عوام کے قتل میں برابر کے شریک ہیں- دریں اثنا الانبار کی صوبائی کونسل کے رکن "طہ عبدالغنی" نے امریکہ کو الرمادی میں بدامنی میں اضافے اور اس علاقے میں دہشت گردوں کے داخل ہونے کا باعث قرار دیا ہے- اان کا کہنا تھا کہ امریکی جنگی طیاروں نے داعش کے خلاف کارروائی میں کوئی حصہ نہیں لیا ہے اور عراقیوں کے لیے ان کا نہ ہونا، ان کے ہونے سے بہتر ہے- طہ عبدالغنی نے کہا کہ ایسے حالات میں الانبار میں عوامی رضاکار فورس کا داخلہ ہی اس صو بے کی نجات کا واحد راستہ ہو گا- دوسری جانب عراق کے اہل سنت علماء کی کونسل کے سربراہ شیخ خالد الملا نے بھی صوبہ الانبار کی آزادی میں عوامی رضاکار فورس کے کردار کی اہمیت پر زور دیا ہے- انھوں نے کہا کہ جب تک عوامی رضاکار فورس الانبار میں داخل نہیں ہو گی یہ صوبہ آزاد نہیں ہو گا-

.......

/169