اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی ہلال احمر کمیٹی کے سربراہ علی اصغر احمدی نے کہا ہے کہ یمن پر سعودی عرب کی جارحیت سے قبل تک ایران،اپنی امداد طیاروں کے ذریعے روانہ کرتا تھا اور اس امداد میں بھی غذائی اشیاء، دوائیں اور لوگوں کی ضرورت کا دیگر سامان ہوتا تھا جو بین لاقوامی قوانین کے مطابق یمن روانہ کیا جاتا تھا- انھوں نے کہا کہ یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کے بعد بھی، ایران نے کئی بار یمنی عوام کی مدد کرنا چاہی، مگر سعودی عرب نے ایرانی امداد کو یمنی عوام تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی- علی اصغر احمدی نے یمن کے سلسلے میں بعض عالمی اداروں کے دوہرے معیار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات نہایت قابل افسوس ہے کہ یمن کو جھوٹے بہانوں سے جارحیت کا نشانہ بنایا گیا ہے- انھوں نے کہا کہ یمن میں بے گناہ عام شہریوں کو خاک و خون میں غلطاں کیا جا رہا ہے مگر عالمی اداروں کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے- انہوں کہا کہ ایران کی جانب سے یمنی عوام کی انسان دوستانہ بنیادوں پر مدد کی جا رہی ہے تو انسانیت کے ناطے عمل میں لایا جانے والا ایران کا یہ اقدام، بعض ملکوں سے برداشت نہیں ہو رہا ہے- علی اصغر احمدی نےکہا کہ سعودی عرب کے اتحادی ملکوں کی جانب سے ایران کی امداد روکنے کی کوشش کی جارہی ہے- ایران کی جانب سے یمنی عوام کے لئے ،پانچ ہزار پانچ سو، ٹن امداد کی کھیپ، بحری جہاز سے یمن روانہ کی گئی ہے-
.......
/169