13 مئی 2015 - 12:53
ایران دنیا میں طاقتوں کے توازن کی چابی

ب ایران ایرانیوں کے اختیار میں ہے تو ملت ایران دنیا میں طاقت کے توازن کے میدان میں پہلے نمبر پر ہے ۔امریکی اگر ایران پر حملہ کرنے کی جرائت نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس فوجی اور لیجسٹیکی طاقت نہیں ہےبلکہ وہ ایران کی ملت کے ہاضمے کی طاقت سے ڈرتے ہیں ۔ وہ ملت کہ جس نے روم ،یونان ، اعراب اور مغولوں کو اپنے اندر ہضم کر لیا اور اسی طرح اپنے پاوں پر کھڑی ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بین الاقوامی تجزیہ نگار محمد کاظم انبار لوئی نے " ایران دنیا میں طاقتوں کے توازن کی چابی" کے عنوان کے تحت  عالمی سیاست کا بالعموم اور مشرق وسطی  بالخصوص تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے : ریچرڈ نیکسن امریکہ کے اسبق صدر نے ایک زمانے میں کہا تھا : ایران پوری دنیا میں طاقتوں کے توازن کی چابی ہے اور اگر کسی ملک کے پاس ایران ہو تو  وہ دنیا کی طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھ سکتا ہے ۔نیکسن وہی شخص ہے کہ شاہ ایران نے جس کے ایران آنے کی خوشی میں7نومبر 1953  میں تہران یونیورسٹی کے تین مجاہد طالبعلموں کو شہید کر دیا تھا ۔

ہمیں نہیں معلوم کہ نیکسن نے جب یہ بات کہی تھی اس وقت وہ مست تھا یا ہوش میں تھا ؟ مستی میں اس طرح کی معقول بات کہنا محال ہے !

ایران مختلف مذاہب اور قومیتوں والا ایک وسیع و عریض ملک ہے فکری آندھیوں کے برخلاف کہ جو اس ملک میں تین ہزار سال کے دوران ٓئی ہیں  ملت کےمضبوط رشتے کو نہیں توڑ پائی ہے ۔ اسلام سے پہلے رومیوں اور یونانیوں کے ساتھ جنگ ، عربوں کے ساتھ جنگ ، مغولوں کے ساتھ جنگ ، پھر روسیوں ،انگریزوں اور امریکیوں کے خلاف جنگ نے اسلام کے بعد ایران کی سر زمین کو قبض و بسط کا نشانہ بنایا لیکن وہ ملت ایران کی ماہیت اور شناخت کو نہیں بدل پائیں ،اس استواری کا راز توحید اور  وحی کے ساتھ عقلانیت کے مدار پر حرکت ہے ۔

یہاں تک کہ ظہور اسلام کے بعد کہ جب عرب گوہر دین کی حفاظت نہیں کر پائےتو خالص محمدی اسلام اور اہلبیت علیہم السلام کے ثقافت کی پاسداری کے ساتھ ایرانی انبیاء کی میراث اور خاص کر آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میراث کی حفاظت میں صف اول میں کھڑے نظر آئے ، اور مادیت کی تباہی اور ان کے غلبے کے دور میں دنیا میں انہوں نے توحید کا پرچم بلند کیا اور ہمارے دور میں میٹیریلزم کی فکری بنیادوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ۔

دنیا میں کوئی ملک بھی ایران کی ملت کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔

اس زمانے میں کہ جب دنیا دو طاقتوں میں تقسیم تھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایران دنیا میں طاقت کے توازن کو بگاڑ کر رکھ دے گا ۔ امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے ظہور اور انقلاب اسلامی کے آجانے نے دنیا میں طاقت کے توازن کو بگاڑ کر رکھ دیا ۔ اسی وجہ سے دنیا کی ساری طاقتیں آتھ سال کی جنگ میں ملت ایران پر ٹوٹ پڑیں تا کہ اس عالمی مدنی نافرمانی کا انتقام لے سکیں ۔لیکن ایسی بلا ان کے سر پر آئی کہ وہی نیکسن کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی ۔

ساری دنیا جمع ہوئی تا کہ تہران میں طاقت کے توازن کو بگاڑ سکے انہوں نے ملک کے حکام کو بمب سے اڑایا ، سڑکوں پر اور گلیوں میں لوگوں پر گولیوں کی بوچھار کر دی ، جنوب اور مغرب کے شہروں کو بمباری کے ذریعے تباہ کر دیا ، مرکزی شہروں اور پایتخت کو میزایلوں کا نشانہ بنایا ، لیکن ایران میں ملت اور حکومت کے توازن اور تعادل میں تزلزل پیدا نہیں ہوا ۔ نرم جنگ کا حربہ اختیار کیا اور سال2009 میں چند غافل اور روسیاہ افراد کو دھوکہ دیا کہ وہ حکومت کے تعادل کو متزلزل کر دیں لیکن نہیں کر پائے ۔

اس کھینچا تانی کے چلتے عالمی سطح کی ایک بڑی طاقت گھٹ کر دم توڑ گئی ۔ عربی ،اسرائیلی اور امریکی بندوقوں کی گولیاں کہ جن کا رخ ایران کی جانب تھا انہوں نے ایک دوسرے کو نشانے پر رکھ لیا ۔پوری دنیائے اسلام میں اسلامی بیداری کی موج  نے بیس ،تیس سالہ سلطنتوں کے خاتمے کی نوید سنائی ۔

جی  ہاں ایران دنیا میں طاقت کے توازن کی کنجی ہے ۔ اگر کسی ملک کے پاس ایران ہو  تو وہ دنیا میں طاقت کے توازن کو ہاتھ میں لے سکتا ہے ۔

اب ایران ایرانیوں کے اختیار میں ہے تو ملت ایران دنیا میں طاقت کے توازن کے میدان میں پہلے نمبر پر ہے ۔امریکی اگر ایران پر حملہ کرنے کی جرائت نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ  نہیں ہے کہ ان کے پاس فوجی اور لیجسٹیکی طاقت نہیں ہےبلکہ وہ ایران کی ملت کے ہاضمے کی طاقت سے ڈرتے ہیں ۔ وہ ملت کہ جس نے روم ،یونان ، اعراب اور مغولوں کو اپنے اندر ہضم کر لیا اور اسی طرح اپنے پاوں پر کھڑی ہے ۔ اس مقاومت کے پیچھے ایک عقلانیت اور مضبوط تفکر پایا جاتا ہے کہ جس کے اندر سے ایک حکمت عملی باہر آتی ہے ،ایران اس حکمت عملی کے ساتھ دنیا کی بڑی طاقتوں کے مقابلے میں کہ جنہوں نے19اگست 1953 مطابق  ۲۸ مرداد کے کودتا کے بعد ایران کا محاصرہ کر رکھا تھا کامیاب ہوئے ۔حزب اللہ ،حماس اور حال ہی میں انصار اللہ نے اس حکمت عملی سے خوب فائدہ اٹھایا ہے ۔اور ان کی کامیابی کا راز بھی یہی ہے ۔

عالمی طاقتوں کے ساتھ ہمارے جوہری مناقشے کا موضوع بھی ایک دلچسپ موضوع ہے ۔ہمیں بہت محنت کرنے کی ضرورت تھی کہ ہم دنیا والوں کو یہ بتا سکیں کہ دنیا میں ہماری حریف ایک دو حکومتیں نہیں ہیں بلکہ تمام ملکوں کی ایران پر لالچی نگاہیں لگی ہوئی ہیں ۔

واشنگٹن میں سیاسی حماقت باعث بنی کہ وہ پانچ بڑی طاقتوں کے ساتھ جرمنی کو ملا کر یورپ کے طاقتور ترین اقتصاد کے عنوان سے  ملت ایران کے مقابلے پر آ گیا ۔ آج نہ صرف نیکسن بلکہ عالمی حکومتوں کے رہنما یہ سمجھ چکے ہیں کہ ایران پوری دنیا میں طاقت کے توازن کی  کنجی ہے ۔وہ چاہتے ہیں کہ یہ چابی ان کے پاس ہو ۔

مذاکرات کرنے والی ٹیم کے لیے اس بات کو سجھنا بہت ضروری ہے ، مذاکرات کا موضوع اس چابی کو ملت ایرا ن سے چھیننا ہے ۔وگرنہ ہماری جوہری ترقی کا موضوع ایک بہانہ ہے ۔

پہلوی کے دوسرے دور میں رسم یہ تھی کہ امریکہ یا بڑی طاقتوں کے صدور تہران آتے تھے اور میدان آزادی میں تہران کا شہر دار (میئر) شہران تہران کی سونے کی کنجی ان کو دیتا تھا ،اس رسم کا مطلب یہ ہو تا تھا کہ ایران کے پایتخت کی کنجی آپ کے ہاتھ میں ہے ،جو کچھ بھی آپ چاہیں کر سکتے ہیں  اور پہلوی کی حکومت کی نصف صدی میں عالمی طاقتوں نے جو ان کی مرضی میں آیا سو اس ملک میں  کیا۔ تا کہ دنیا کا توازن نہ بگڑے ۔

قاچاریوں کی استعماری قرار دادوں میں جب ہم قرار داد کے متن کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا کرتے تھےتو دکھائی دیتا تھا کہ یہ پورے ایران کا سودا کرنے کے برابر ہے تنباکو کی قرار داد  کہ آج کل جس کے خلاف قیام کی سالگرہ ملت ایران منا رہی ہے ،یہی تھی ۔ وہ ان قرار دادوں کے ذریعے تیل اور تنباکو کے پیچھے نہیں تھے وہ کنجی کے پیچھے تھے اور ہیں ،چنانچہ ہمیں اجازت نہیں دینا چاہیے کہ ایران کی کنجی ان کے ہاتھ میں لگے ۔

جوہری مذاکرات میں امریکہ کے کچھ مطالبات اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں وہ این پی ٹی کے قوانین سے بڑھ کر کچھ مانگتے ہیں تا کہ وہ اس چابی تک پہنچنے کے تمام راستے ہموار کر لیں۔

جب سی آئی اے کا سربراہ ان امتیازات کے انبارکو دیکھتا ہے کہ جو ایران نے مذاکرات میں دیے ہیں تو تعجب کرتا ہے ۔جب مذاکرات کے نتائج کے بارے میں کیری اپنی خوشی کا اظہار کرتا ہے۔جب مونیز مطمئن ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اچھا سمجھوتہ ہو جائے گا تو اس بارے میں ہمیں قدرے غور کر نا چاہیے ۔ بڑی طاقتوں کے ساتھ ہمارے تعلقات اور مناقشات کا موضوع ،جوہری مسئلہ ،انسانی حقوق اور دہشت گردی نہیں ہے ،ہمیں امریکیوں کا اعتماد اس وقت حاصل ہو گا جب ہم چابی ان کے ہاتھ میں دے دیں اور اس طرح کے رد و بدل کے لیے ایک بہانہ چاہیے اور جوہری مذاکرات ایک بہترین بہانہ ہے ۔

صوبہء سمنان کے تین ہزار شہیدوں کے بارے میں منعقدہ کانفرنس کی کمیٹی کے کارکنوں سےخطاب کرتے ہوئے مقام معظم رہبری نے فرمایا تھا : ملک ،سیاسی ،اقتصادی امنیتی ،اور اس سے بھی بڑھ کر ثقافتی جنگ میں الجھا ہوا ہے ۔دشمن ایک خاص ڈھنگ سے ہمارے ساتھ جنگ کرتا ہے ۔بد قسمتی سے کچھ لوگ اس کو نہیں مانتے ،کچھ لوگ اس کو سمجھنا نہیں چاہتے چونکہ اگر مان لیں تو ان کی گردن پر ذمہ داری عاید ہو جاتی ہے ۔

حکومت اور پارلیمنٹ کو گہرائی کے ساتھ جان لینا چاہیے کہ ہم کس حساس تاریخی دور سے گذر رہے ہیں ایک ایسا دور کہ انقلاب کے ذی ہوش رہبر نے جس کو ایک بڑا اور خطر ناک موڑ قرار دیا ہے ۔ہمیں اس گھاٹی سے عبور کرنا ہو گا ،معمولی تزلزل بھی باعث بنے گا کہ ہم خود خواہی ،اور خود پرستی اور اس سے بھی زیادہ وحشتناک ،بیگانہ پرستی کے عمیق درے میں جا گریں گے ۔

ایران کی ملت کو چاہیے کہ ملک کی چابی کو امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور تک اپنے ہاتھ میں رکھے تا کہ اس کو ایک سچے امانتدار کی طرح اس کے اصلی مالک کے حوالے کر سکے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲