اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق، انصار اللہ سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد نے کہا ہے کہ یمنی عوام نے سعودی حکام کے ان دعووں کا جھوٹا ہونا ثابت کردیا ہے کہ یمن کو ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خطرات کا سامنا ہے اور یمنی عوام، آل سعود کی سلامتی کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں- صالح الصماد نے کہا کہ یمن میں ایران کا اثرورسوخ اور یمنی عوام کے فیصلوں میں ایران کا کوئی کردار ہوتا تو یمن پر سعودی عرب کی چالیس روز کی جارحیت، آل سعود سے انتقام لینے کےلئے تاریخی موقع تھا مگر یہ دیکھا جارہا ہے یمن میں ایران کی کوئی مداخلت نہیں ہے اور اس ملک میں سارے فیصلے اس ملک کے عوام کی جانب سے آزادانہ طور کئے جا رہے ہیں- صالح الصماد کے مطابق یمنی عوام، اگر آل سعود اور خلیج فارس کے ملکوں کے لئے کوئی خطرہ ہوتے تو یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کے دوران اس خطرے کی علامات نمایاں ہوجاتیں- انہوں نے کہا کہ یمن پر سعودی عرب کی جارحیت، آل سعود کے خلاف یمنی عوام کے مواقف مضبوط ہونے کا باعث بنی ہے- انصار اللہ سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب، علاقے کے دیگر ملکوں میں مداخلت اور ان ملکوں کے قومی اقتدار اعلی کی خلاف ورزی کے لئے القاعدہ کو استعمال کر رہے ہیں اسلئے کہ القاعدہ کے بیشتر عناصر، سعودی عرب سے تعلق رکھتے ہیں اور آل سعود کا خیال ہے کہ القاعدہ کے ان دہشتگردوں کو یمن میں اگر کوئی ٹھکانہ نہیں ملا تو وہ سعودی عرب لپٹ جائیں گے اور یہی مسئلہ، آل سعود کی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے اسی لئےسعودی عرب نے یمن کے فوجی مراکز اور سیکورٹی اداروں پر حملے کئے ہیں تاکہ اس ملک میں انتشار پیدا ہو- یہ ایسی حالت میں ہے کہ مبصرین نے سعودی عرب کی جانب سے یمن کے محاصرے اور اور یمنی عوام کے خلاف جارحیت کو غزہ کے شہریوں کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کی مانند قرار دیا ہے-
.......
/169