اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے ولیعہد کا دربار شاہی دربار میں ضم کئے جانے کی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی بادشاہ کے فرمان میں کہا گیا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد ولیعہد کے دربار اور بادشاہ کے دربار کے درمیان رابطے کی روش پر نظرثانی اور ان دونوں کو ایک دوسرے میں ضم کرنا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس اقدام کا مقصد ولی عہد اور سابق ولی عہد کے حامیوں پر زیادہ سے زیادہ نظر رکھنا ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے اٹھائیس اپریل کو ایک فرمان جاری کر کے مقرن بن عبدالعزیز، سعود الفیصل اور بعض دوسرے شہزادوں کو ملک کے کلیدی عہدوں سے برطرف کر دیا تھا۔
سعودی عرب کے بادشاہ نے ایک اور فرمان جاری کرکے یمن کے بے گناہ عوام کے قتل عام کے اصل ذمہ دار اپنے بیٹے، محمد بن سلمان کو ولیعہد کا جانشین، نائب وزیر اعظم، وزیر دفاع اور اقتصادی و ترقیاتی کونسل کا سربراہ منصوب کردیا ہے۔
........
/169