اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق،
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور مستقبل مندوب نے سیکریٹری جنرل
نیز سلامتی کونسل کے نام اپنے خط میں، صہیونی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز کی طرف سے
تہران میں حماس کے قائد شہید اسماعیل ہنیہ کے قتل جیسے بھونٹڈے اقتدام کے اعتراف
پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا: صہیونی ریاست نے اس قبیح فعل کے ارتکاب کا اعلانیہ
اعتراف کیا ہے جس سے ثابت ہؤا کہ صہیونی ریاست کے خلاف ہونے والی ایرانی کاروائی
"وعدہ صادق-2" بالکل جائز اور قانونی تھی اور اس بےشرمانہ اعتراف سے
ہمارے اس مستقل موقف کی تصدیق ہوئی کہ غاصب اسرائیلی ریاست علاقائی اور عالمی امن
و سلامتی کے لئے سب سے بڑا اور سنگین خطرہ ہے۔
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر
اور مستقبل مندوب امیر سعید ایروانی نے کل [بروز منگل مورخہ 24 دسمبر 2024ع] کو
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نیز سلامتی کونسل کے موجودہ صدر کے نام اپنے خط میں
لکھا: "سوموار 23 دسمبر 2024ع کی شام کو صہیونی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے،
صہیونی وزارت جنگ کے کارکنان کی موجودگی میں ایک تقریب میں، اعلانیہ اور بےشرمانہ
طور پر اعتراف کیا کہ صہیونی ریاست نے ہی تہران میں جناب اسماعیل ہنیہ کو قتل کر دیا
ہے، جبکہ وہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے
تہران کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ "یہ اعلانیہ اعتراف، پہلی
مرتبہ سامنے آیا ہے اور غاصب اسرائیلی ریاست نے آشکارا اس بھیانک جرم کے ارتکاب کی
ذمہ داری قبول کی ہے"۔
اس سینیئر ایرانی سفارتکار نے اپنے خط میں مزید
لکھا ہے: "اقوام متحدہ کے رکن ملک کی علاقائی خودمختاری کی حدود میں ایک سیاسی
قائد کے قتل کے اس بے شرمانہ اور گستاخانہ اقرار نے ایک بار پھر اعلانیہ دہشت
گردانہ اور جارحانہ اقدامات کے سلسلے میں غاصب صہیونی ریاست کی طرف سے بین الاقوامی
ذمہ داریوں کی پابندی کی ضرورت کو عیاں کر دیا ہے۔ نیز اس صہیونی اعلان سے ثابت
ہؤا ہے کہ یکم اکتوبر 2024ع کو صہیونی ریاست کے خلاف اسلامی جمہوریہ ایران کی
جوابی کاروائی ("وعدہ صادق-2") بالکل جائز اور قانونی تھی نیز اس سے ایک
بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے اس مستقبل موقف کی تصدیق ہوئی ہے کہ غاصب اور
دہشت گرد اسرائیلی ریاست علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لئے بدستور، ایک سنگین
خطرہ ہے۔
واضح رہے کہ صہیونی وزیر دفاع ـ جو نہتے شام میں
پیشقدمیوں سے بدمستی کا شکار ہے ـ نے کہا تھا کہ "میں حوثیوں کو واضح پیغام دینا
چاہتا ہوں، ہم نے حماس کو شکست دی ہے، حزب اللّٰہ کو شکست دی ہے، ہم نے شام میں
بشار الاسد کی حکومت کو گرا دیا ہے اور حوثیوں کے اسٹریٹجک انفرا اسٹرکچر کو نقصان
پہنچائیں گے!"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکتہ:
رہبر انقلاب اسلامی نے حال ہی میں اپنے ایک خطاب
میں فرمایا: "اصحاب شیطان جب کامیابی محسوس کرتے ہیں تو وہ بیہودہ باتیں کرنے
لگتے ہیں اور دور کی ہاہنکتے ہیں؛ آج امریکہ، صہیونی ریاست اور ان کے ساتھی ملک
کامیابی کے احساس کے ساتھ، اصحاب شیطان کی طرح ڈینگیں مارنے اور شیخی بگھارنے میں
مصرف ہو گئے ہیں"؛ "حماس اور حزب اللہ کو نیست و نابود کرنے کے سلسلے میں
غاصب صہیونی ریاست کا کوئی بھی ہدف حاصل نہیں ہو سکا ہے اور خطے کی اور آبرومند
قومیں، اللہ کے فضل سے، منحوس ریاست کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گی اور خطے کے لئے
بہتر اور زیادہ روشن مستقبل رقم کریں گی"۔
آپ نے صہیونیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: "تم
صہیونی آج شام کی سرزمین میں پیشقدمی کر رہے ہو جس کا سبب یہ ہے کہ وہاں کوئی
رکاوٹ، کوئی مزاحمت ـ حتی ایک سپاہی اور ایک بندوق بھی ـ تمہارے مد مقابل موجود نہیں
ہے، چنانچہ تم صرف چند کلومیٹر تک شام میں پیشقدمی کر سکے ہو؛ یہ بلا روک ٹوک پیشقدمی،
کامیابی نہیں ہے بلکہ یقینا شام کے غیور اور بہادر نوجوان تمہیں اپنی سرزمین سے
مار بھگائیں گے"۔
امام خامنہ ای (مد ظلہ العالی) نے اس سے چند روز
قبل اپنے خطاب میں فرمایا تھا: "دیکھئے، ہر روز غزہ پر حملے ہو رہے ہیں، ہر
روز انہیں شہید کیا جاتا ہے، مگر کھڑے ہیں اور پھر بھی استقامت کر رہے ہیں، لبنان
استقامت کر رہا ہے، البتہ صہیونی ریاست اپنے خیال سے، خود کو شام کے راستے سے تیار
کر رہا ہے تا کہ اس کے بزعم، حزب اللہ کو محصور کرے اور اس کی بنیادوں کو اکھاڑ
دے۔ لیکن جس کی بنیادیں اکھڑیں گی وہ خود اسرائیل ہے"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110