5 دسمبر 2024 - 16:12
شام پر دہشت گردوں کی یلغار امریکہ، اسرائیل اور ترکیہ کی جنگ ہے / یہ نیتن یاہو کی جنگ ہے، جیفری ساکس/ ویڈیو

امریکی پروفیسر جیک ساکس کہتے ہیں: جو کچھ ہم بکھری ہوئی اور نامکمل رپورٹوں سے سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کاروائی اسد حکومت کا تختہ الٹ دے گی۔ کمک کے لئے عراق سے، شاید ایران سے اور شاید شامی فورسز اس یکایک حملے کے بعد تشکیل نو کے مرحلے میں ہیں اور محاذوں کی طرف آ رہی ہیں۔ لیکن جو بھی یہ ہے یہ نیتن یاہو کی کاروائی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا | ظاہری امر ہے کہ زیادہ تر مسلمانوں کے مغز میں سمجھ بوجھ والا حصہ بظاہر بالکل تعطل کا شکار ہے، اور وہ جو ڈیڑھ سال سے غزہ کے سنیوں کا قتل عام کرنے والی یہودیوں کے خلاف ایک لفظ بولنے سے قاصر ہیں، اور اس کے بےشرمانہ انداز سے ایران ـ اسرائیل جنگ کا نام دے کر اپنی تاریخی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہے ہیں مگر شام پر صہیونی دہشت گردانہ یلغار کو وہ بے دھڑک اسلام کی جنگ سمجھ بیٹھے اور اب پشتو اور اردو میں وہاں سے وائس میسجز بھیج کر ایک سنی مسلم ملک کے خلاف جنگ کو جہاد کا نام دے رہے ہیں، بڑے پیمانے پر خودکش حملے کر رہے ہیں اور اسرائیل دشمن کو نقصان پہنچا رہے ہیں؛ حالانکہ اگر یہی نام نہاد مجاہدین اپنے سنی بھائیوں کی مدد کو غزہ پہنچتے تو ان کے شہر ویران نہ ہوتے، وہ بھوکوں نہ مرتے اور ان کے شہیدوں کی تعداد دو لاکھ تک نہ پہنچتی اور 20 فیصد سنی آبادی زندگی سے محروم نہ ہوتی اور لاکھوں پناہ گزین نہ ہوتے۔ 

شام کے خلاف جنگ ـ گذشتہ جنگ کی مانند ـ اسرائیل کی جنگ ہے جس میں لڑنے والے در حقیقت یہودیت کے لئے قربان ہو رہے ہیں شہادت کی آرزو لے کر!!! کیا ہؤا ہے ان کو جو مسلمان کہلواتے ہیں اور یہودیت اور امریکہ کے لئے مرنے کا اتنا اشتیاق رکھتے ہیں۔ یہود پرستی کی انتہا ہے وہ ان لوگوں کی طرف سے جو صدیوں سے اہل تشیع پر یہود نوازی کا الزام لگاتے آئے تھے اور آج ان کی حکومت نیتن یاہو کے تلوے چاٹ رہے ہیں اور وہ خود نیتن یاہو کی بساط پر جان دے رہے ہیں۔

مسلم امت سے ایک سادہ سا سوال: دیکھ چکے ہو کہ شام پر اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، ترکیہ اور یوکرین نے کیا ہے تو تم ـ جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی غزہ پر یہودی ریاست اور مغربی ممالک کی ظالمانہ اور مجرمانہ جارحیت کے دوران اپنے اسلامی فرائض کو نظرانداز کرتے رہے ہو، ـ ان لوگوں کی صف میں کیا کر رہے ہو؟

بہرحال چنانچہ ہم مسلمان بھائیوں کی سمجھ بوجھ کی اصلاح کے لئے یہاں امریکی ماہر معاشیات، جنرل پالیٹکس، اور یونیورسی پروفیسر کا ویڈیو مکالمہ پیش کر رہے ہیں جو کہہ رہے ہیں شام پر دہشت گردوں کا حملہ در حقیقت مسلمانوں اور مقاومتی محاذ کے خلاف اسرائیل، امریکہ اور ترکی کی جنگ ہے۔

امریکی پروفیسر جیک ساکس (Jeffrey Sachs) نے شام پر دہشت گردوں کی یلغار کو ایران اور محور مقاومت کے رکن ممالک کے خلاف امریکی ـ اسرائیلی ـ ترکی جنگ ہے/ ان کا کہنا تھا کہ یہ نیتن یاہو کی جنگ ہے اور امریکہ 30 برسوں سے اس کی فرمائش پر مختلف ممالک پے حملے کر رہا ہے۔

مکالمے کا متن درج ذیل ہے:

 اینکر: شام کے واقعات کے بارے میں آپ کی رائے سے آغاز کرتے ہیں، کہ آپ کے خیال میں یہ واقعہ کس قدر بڑا ہے؟

جیفری ساکس: دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسا کہ آپ نے خود اعتراف کیا، امریکہ تحریرالشام کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے؛ لیکن خود امریکہ ہی حالیہ دنوں کے واقعات میں ایک فریق بھی ہے۔

[امریکی قومی سلامتی کے مشیر] جیک سولیوان (Jack Sullivan) نے کہا ہے کہ جی ہاں یہ ایک دہشت گرد گروپ ہے لیکن یہ لوگ بشار الاسد پر اخراجات ٹھونس رہا ہے : wink wink!

یہ امریکہ، اسرائیل اور ترکیہ کی ایک مشترکہ کاروائی ہے۔ یہ نیتن یاہو کا طویل مدتی منصوبہ ہے جو گذشتہ تیس برسوں سے جاری ہے اور اس منصوبے کا مقصد پورے مشرق وسطی میں ان حکومتوں کا تختہ الٹنا ہے جو فلسطینی کاز کی حمایت کرتی ہیں۔ اور گویا کہ انہوں نے اس جنگی مشق کے ذریعے روسیوں، ایرانیوں اور شامیوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ لگتا ہے کہ بات یہی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ اسرائیل، امریکہ اور ترکیہ کی کاروائی ہے۔

ترکی کے شام میں کردوں کے ساتھ اپنے مسائل ہیں، اسرائیل کے لئے یہ ایک پرانا ہدف ہے۔ آس پاس کی حکومتوں کا تختہ الٹنا، جنگ کا دائرہ وسیع تر کرنا اور امریکہ کو اس جنگ کے اندر کھینچ لینا۔ کیونکہ امریکہ ہمیشہ ہمیشہ اسرائیل کی خدمت اور جنگوں کا دائرہ وسیع تر کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے؛ یہ وہی چیز ہے جس کو ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں۔

جو کچھ ہم بکھری ہوئی اور نامکمل رپورٹوں سے سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کاروائی اسد حکومت کا تختہ الٹ دے گی۔ کمک کے لئے عراق سے، شاید ایران سے اور شاید شامی فورسز اس یکایک حملے کے بعد تشکیل نو کے مرحلے میں ہیں اور محاذوں کی طرف آ رہی ہیں۔ لیکن جو بھی یہ ہے یہ نیتن یاہو کی کاروائی ہے۔

بہت دلچسپ ہے کہ ہم 1996ع‍ میں پلٹ جائیں جس وقت نیتن یاہو نے "دہشت گردی کے خلاف جنگ Fighting terrorism" کے عنوان سے کتاب لکھی اور اس کتاب کا غالب نظریہ بہت دوٹوک اور خطرناک تھا۔

اس نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ حماس، حزب اللہ اور دوسرے اسرائیل مخالف گروپس [ہیں اور] ہمارے لئے یہ اچھی بات نہیں ہے کہ ان سے براہ راست لڑیں کیونکہ اس طرح کی جنگ کارگر نہیں ہوگی۔ بلکہ ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ان حکومتوں کا تختہ الٹ دیں جو ان گروپوں کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ چنانچہ اس کا کہنا تھا کہ "ہمیں پورے مشرق وسطی میں حکومتوں کی تبدیلی کی ضرورت ہے" اور اس نے سات ممالک کی ایک طویل فہرست پیش کی ہے جس میں شام، لیبیا، عراق، ایران، صومالیہ، سوڈان اور لبنان شامل تھے۔ اور امریکہ 30 برسوں سے باضابطہ طور پر نیتن یاہو کی فرمائش پر ان ممالک میں سے ایک کے خلاف جنگ میں کود پڑا ہے؛ سوا سب سے بڑے ملک کے، اور نیتن یاہو کی دیرینہ آرزو ہے امریکہ ایران کے ساتھ براہ راست لڑ پڑے۔

۔۔۔۔۔۔

110