اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق،
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد باقری نے
روسی وزیر دفاع آندرے بلوسوف، عراقی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل عبدالامیر یار
اللہ اور شام کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالکریم محمود ابراہیم سے ٹیلی فونک
بات چیت کرتے ہوئے ان کے ساتھ شام کے مختلف علاقوں پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد
کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
جنرل باقری نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ
شام پر تکفیری دہشت گردی کی یلغار خطے کے لئے ایک نہایت خطرناک مغربی ـ صہیونی
منظرنامے کا پہلا قدم ہے۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی یلغار اور لبنان
کے ساتھ صہیونیوں کی نا پائيدار جنگ بندی کی ہم وقتی (Simultaneity) مربوط اور ہم آہنگ امریکی - "اسرائیلی" سازش ہے اور اس
کا مقصد شام، اس کے حلیفوں اور محور مقاومت کو کمزور کرنا ہے۔
اس گفتگو کے دوران روس اور عراق کے فوجی حکام نے
شام کی قانونی حکومت کی فیصلہ کن حمایت پر زور دیا اور طے پایا کہ شامی فوج کی پشت
پناہی کی غرض سے ضروری اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔
اس موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران، وفاقی جمہوریہ
روس، جمہوریہ عراق اور عرب جمہوریہ شام کے اعلی فوجی حکام نے شام کے پڑوسی ممالک
سے اپیل کی کہ دہشت گردوں کی پشت پناہیوں کا سد باب کرنے کے لئے ضروری اقدامات عمل
میں لائیں۔
واضح رہے کہ شام پر جاری دہشت گردانہ یلغار کو
ترکیہ، یوکرین اور طفل کُش یہودی ریاست کی براہ راست حمایت حاصل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110