3 دسمبر 2024 - 11:00
شام میں دہشت گردوں کی مدد کرنے والے ملکوں کی مذمت ہونی چاہئے، صدر پزشکیان

صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ شام میں دہشت گردوں کی کاروائیاں سلامتی کونسل کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں، دمشق کو سلامتی کونسل میں اس کی شکایت درج کرانا چاہئے اور جو ممالک دہشت گردوں کی مدد کررہے ہیں، ان کی مذمت ہونی چاہئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان پیر کی رات قومی ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا کہ انھوں نے روس اور چین کے صدور سے اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے اور طے پایا ہے کہ ان ملکوں کے ماہرین تہران کا دورہ کریں گے اور تیل، گیس، بجلی اور شاہراہوں سے متعلق معاہدوں کو آخری شکل دی جائے گی۔

ڈاکٹر پزشکیان نے کہا ہندوستان اور عراق کے ساتھ بھی ہمارے سمجھوتے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ علاقائی اقتصادی تعاون کو فروغ دیا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ مستقبل قریب میں روسی صدر سے ان کی ملاقات ہوگی۔

صدر ایران نے یورپی پابندیوں  کے بارے میں کہا کہ یورپ والوں نے ایک بار پھر اپنا دوسرا رخ دکھا دیا اور امریکہ کی پیروی کرتے ہوئے ایران کی جہازرانی پر پابندی کا اعلان کردیا۔

انھوں نے کہا کہ ان تمام باتوں کے باوجود ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم جنگ کے خواہاں نہیں ہیں اور امن کے لئے کوشاں ہیں۔

صدر نے شام کے حالات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شام میں دہشت گردوں نے جو کچھ کیا ہے وہ سلامتی کونسل کے فیصلے کے خلاف ہے، دمشق کو سلامتی کونسل میں اس کی شکایت کرنا چاہئے اور جو ممالک دہشت گردوں کی مدد کررہے ہیں، ان کی مذمت ہونی چاہئے۔

انھوں نے کہا کہ شام کے مسئلے کے حل کے لئے موثر ملکوں کے مشترکہ اجلاس کا پروگرام طے پایا ہے۔

انھوں نے کہا: میں شام کے حالات کے بارے میں عنقریب روسی صدر سے ملاقات کروں گا۔

ڈاکٹر پزشکیان نے کہا کہ طے یہ پایا ہے کہ اس مسئلے میں سفارتی کوششیں کی جائيں اور اسی سلسلے میں ہمارے وزیر خارجہ نے ترکیہ کا دورہ کیا ہے اور ترک رہنماؤں سے بات چیت کی ہے۔

صدر ایران نے کہا کہ روس ایران، ترکیہ اور شام کے حکام آستانہ فارمیٹ کے حوالے سے رابطے میں ہیں۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ پڑوسی ہمارے بھائی ہیں، اور ہمارے دشمن ہمارے درمیان تفرقہ اندازی کی کوشش کر رہے ہیں چنانچہ ہمیں پوری طرح ہوشیار رہنا چاہئے۔

انھوں نے بتایا کہ آج ہم نے اپنے چند پڑوسی ملکوں کے سربراہوں سے گفتگو ميں اتفاق کیا ہے کہ دہشت گردوں کو خطے میں جنگ اور خونریزی کا بازار گرم نہيں کرنے دیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110