3 دسمبر 2024 - 10:19
ایران اور روس نے دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے میں شامی حکومت کی مدد کے لئے مشترکہ تعاون پر زور دیا

ایران اور روس کے صدور نے ٹیلی فونک گفتگو میں شمالی شام میں دہشت گردوں کی حالیہ نقل و حرکت کو اس ملک اور خطے کے استحکام اور سلامتی کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا اور شام کی حکومت کی مدد کے لئے مشترکہ تعاون پر زور دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان  نے پیر کی شام روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بات چیت کرتے ہوئے شمالی شام میں دہشت گرد ٹولوں کی حالیہ نقل و حرکت کے بارے میں کہا: ایسے حالات میں کہ جب لبنان میں جنگ بندی کی وجہ سے علاقے میں امن و سکون کے قیام کی امید جاگی تھی، دہشت گرد ٹولوں نے صہیونی ریاست کی حمایت سے شمالی شام میں سرگرم ہوکر علاقے کو ایک بار پھر خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام میں دہشت گردوں کی واپسی اس ملک کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ خطے کی سلامتی کو بھی سنگین خطرات سے دوچار کرے گی اور خطے میں بد امنی اور  جھڑپوں کے دائرے میں توسیع کا سبب بنے گی؛ اور ہمیں  یقین ہے کہ حالیہ واقعات خطے کے سیاسی جغرافیے کو صہیونی ریاست  کے فائدے میں بدلنے کے امریکی و صہیونی  سازش کا نتیجہ ہیں تاہم یہ سازش خطے کے ممالک کے تعاون اور اتحاد سے ناکام ہوگی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن  نے بھی کہا کہ روس شام  کے شمال میں حالیہ واقعات کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نظریے  سے مکمل اتفاق کرتا ہے اور اس صورتحال کے جاری رہنے کو شام کی خود مختاری اور علاقائی خودمختاری اور خطے کی سلامتی کے لئے ایک خطرہ  سمجھتا ہے۔

روس کے صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک صورتحال پر قابو پانے اور خطے میں دہشت گردی کا پھیلاؤ روکنے کے لئے تمام دستیاب سفارتی ذرائع کو بروئے کار لائے گا۔

انھوں نے مزید کہا: اس تناظر میں ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صلاح و مشورے کرنے کے ساتھ ساتھ "آستانہ فارمیٹ" کے دائرے میں شام کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے ہنگامی اجلاس کی تجویز پیش کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ آستانہ فارمیٹ کے رکن ممالک میں ایران، روس اور ترکیہ شامل ہیں اور اس کا مقصد شام کے حالات بہتر بنانا ہے لیکن ترکیہ نے حال ہی میں باہمی سمجھوتوں کی شدید خلاف ورزی کرکے دہشت گردوں کو شام میں ایک بار پھر سرگرم کر دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110