3 نومبر 2024 - 10:44
عالم اسلام میں خونریز تفرقہ اور تکفیری دہشت گردی امریکی پالیسی کی دین ہے، جنرل سلامی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف نے آج اتوار، 3 نومبر کو تہران میں امریکہ کے سابق جاسوسی اڈے کے سامنے طلبا کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ ہم امریکہ کو 1949 اور 1953 کی فوجی بغاوتوں سے پہچانتے ہیں جو ایران میں اس کے فوجی، سیاسی اور اقتصادی تسلط پر منتج ہوئیں اور یہ تسلط اسلامی انقلاب سے پہلے تک قائم رہا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف جنرل حسین سلامی نے کہا: امریکہ کو ویسے ہی پہچاننے کی ضرورت ہے جیسا کہ وہ ہے اور عالم اسلام میں خونریز تفرقہ اور تکفیری دہشت گردی امریکی پالیسیوں کی دین ہے۔ وہ امریکہ امن عالم، عالمی سلامتی اور عالمی نظام کی بات کرتا ہے جبکہ دنیا میں ناجائز قبضے، عوام کے قتل عام، لوٹ مار اور سبہی جرائم کی جڑ وہ خود ہے۔

انھوں نے تہران میں  عالمی سامراج کے خلاف جدوجہد کے قومی دن پر نکالی جانے والی ریلی کے اختتام پر سابق امریکی سفارت خانے کے سامنے طلبا اور عوام کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہم امریکہ کو جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پرایٹمی بمباری سے پہچانتے ہیں جب اس نے ایک ہی لمحے میں لاکھوں انسانیوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا۔

جنرل حسین سلامی نے کہا کہ ہم امریکہ کو 1949 اور 1953 کی فوجی بغاوتوں سے پہچانتے ہیں جو ایران میں اس کے فوجی، سیاسی اور اقتصادی تسلط پر منتج ہوئیں  اور یہ تسلط اسلامی انقلاب سے پہلے تک ‍قائم رہا۔

سپاہ پاسداران کے کمانڈر اںچیف نے کہا کہ امریکہ نے جس طرح سوچا تھا، اس طرح ایرانی قوم کو مسخر نہ کرسکا۔

انھوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے تمامتر پابندیوں کا زمانہ کامیابی سے گذار دیا اور امریکہ کو شکست ہوئی اور وہ اس خطے میں نام نہاد "ابراہم پیس اکارڈ" کے نفاذ میں بھی ناکام رہا؛ اسے ایک بار بری شکست کا سامنا کرنا پڑا اور جان گیا کہ اس کو یہ شکست عظیم ایرانی قوم کی وجہ سے ہوئی ہے۔

سپاہ پاسداران کے کمانڈر انچیف نے کہا کہ اگر امریکہ اور صہیونی ریاست نے اپنی روش جاری رکھی تو وہ نابودی کی طرف جائيں گے۔

انھوں نے کہا کہ  اب مسلمین اس بات کی اجازت  نہیں دیں گے کہ صہیونیت اور امریکہ ان کی عزت، عظمت، وقار اور حیثیت کو ذبح اور قربان کردیں۔

جنرل سلامی نے کہا: ہم نے ہمیشہ انہیں خبردار کیا ہے کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو نابودی کی طرف جاؤگے، یہ پوری امت اسلامیہ کا عزم ہے اور تدریجی طور پر یہ ارادہ غالب آئے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110