اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، اہل سنت کے عرب عالم دین ڈاکٹر شیخ موسیٰ خلف نے اس ویڈیو کلپ میں کہتے ہیں:
ہم علمائے اہل سنت کے طور پر یقین رکھتے ہیں کہ
ہمیں جنوبی لبنان میں اپنے بھائیوں اور لبنانی عوام کی مدد کے لئے اٹھنا چاہئے جو
غزہ کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہی لبنانی عوام نے جنہوں نے غزہ کے عوام اور بچوں کے
دفاع کی راہ میں شہداء، جانوں اور نوجوانوں کی قربانیاں دی ہیں۔
ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر آپ ہاتھ اور زبان
سے دفاع کی قوت نہیں رکھتے ہیں تو دلی طور پر ان کے مدافع بنیں، اگر یہ ممکن نہ ہو
تو ان کی سلامتی اور فتح کے لئے دعا کریں۔ دعا کریں ہمارے بھائیوں کے لئے مقاومت میں،
حزب اللہ اور غزہ میں حماس تحریک میں موجود بھائیوں کے طاقتور بننے کے لئے۔
جن لوگوں کے پاس کچھ نہیں ہے، ان سے کہتے ہيں کہ
اپنے اموال ميں سے تھوڑا سا حصہ نکال کر خیرات کر دیں، خدائے متعال اسے کئی گنا
بڑھا کر، آپ کو عطا کرے گا۔ اور پھر یہ ایک شرعی فریضہ ہے کہ ہم غزہ اور لبنان میں
اپنے لوگوں کی مدد کریں۔
ہمیں عوامی سیاست کو عام کرنا پڑے گا، عوامی سیاست
یہ ہے کہ ہم غزہ اور لبنان کی مدد کے لئے حرکت کریں۔
آج حکومتوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، عوام کا
سہارا لینا پڑے گا۔ بعض حکام عوام کے منتخب نہیں ہیں بلکہ انہیں امریکی اور صہیونی
دشمن نے منتخب کر لیا ہے۔
اسی بنا پر یہ حکمران عوام سے ڈرتے ہیں، چنانچہ
صرف ذرائع ابلاغ کی حد تک صہیونیوں کے ساتھ دشمنی کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ پس
پردہ، صہیونیوں کے ساتھ ہیں اور صہیونیوں کے ارسال کردہ احکامات بڑے شیطان امریکہ
سے وصول کرتے ہیں۔
لیکن بہرحال ان کی باری بھی آئے گی اور رخصت ہو
جائیں گے کیونکہ عوام ان کے خلاف اٹھیں گے اور ان کے لئے کوئی جگہ نہیں رہے گی اور
کوئی بھی معاشرہ انہیں قبول نہیں کرے گا۔
دوسری طرف ایسے حکمران بھی ہیں جو اپنے عوام کے
ساتھ متحد ہوگئے۔ مثال کے طور پر ہم یمن کو دیکھتے ہیں جن کے جناب سید عبدالملک
الحوثی جیسے قائد ہیں، جو عوام کی خواہشوں اور مطالبات کو سمجھتے ہیں؛ اور ان کی
نگاہ غزہ اورمقاومت، اور صفوں کی یکجہتی اور پشت پناہ محاذوں کی ہم آہنگی کے
خواہاں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110