اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق وزارت خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ترجمان ڈاکٹر اسماعیل بقائی نے آج پیر [مورخہ 28 اکتوبر 2024ع] کی صبح کو ہفتہ وار اخباری کانفرنس کے دوران صہیونی ریاست کی جارحیت اور دہشت گرد ٹولے کی دہشت گردانہ کاروائی میں فوج اور سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کی شہادت پرتعزیت پیش کرتے ہوئے کہا: ایران کی فضائی دفاعی فورس نے غیرت مندانہ انداز سے ملک کا دفاع کیا میں فوج کے چار بہادر افسروں اور جوانوں کی شہادت پر ان کے اہل خانہ کو تہنیت و تعزیت پیش کرتا ہوں۔ صہیونی کی جارحیت کے دن ہی [ان سے وابستہ] بدنام دہشت گرد ٹولے نے دہشت گردانہ کاروائی کرکے سیکورٹی فور کے اہلکاروں کو شہید کیا۔ میں ان کی شہادت پر بھی تہنیت و تعزیت پیش کرتا ہوں۔
انھوں نے کہا:
گذشتہ ہفتے سفارت کاری کا محکمہ فعال رہا، وزیر
خارجہ نے کویت اور بحرین کا دورہ کیا، برکس سربراہی اجلاس منعقد ہوا اور ایران نے
پہلی بار مستقل رکن کے طور پر اجلاس میں شرکت کی اور صلاح مشورے بہت مثبت رہے۔
جمعرات کا دن اقوام متحدہ کا یوم تاسیس تھا جس
کے تمام اصول اور قوانین غزہ میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں جاری نسل کشی کی وجہ سے غیر
معتبر ہو رہے ہیں اور اس صورت حال کے ذمہ داری صہیونی ریاست کے حامی ـ خصوصا امریکہ
ـ ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھی خطرناک خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ غزہ اور
غزہ سے باہر، پورے خطے میں میں نسل کشی جاری ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 150 فلسطینی
شہید ہوگئے ہیں۔ لبنان میں صہیونیوں نے تین نامہ نگاروں کو ٹارگٹ کرکے شہید کر دیا
ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صہیونیوں نے اب تک 180 سے زائد صحافیوں کو شہید کر دیا
ہے۔
صہیونیوں کو سزا کا کوئی خوف نہیں ہے چنانچہ وہ
جری ہو گئے ہیں۔ ہم بین الاقوامی سطح پر نسل کشی کے خاتمے اور بے گھر ہونے والوں کی
مدد کے لئے کوشاں ہیں۔ ہماری حالیہ سرگرمیاں غزہ اور لبنان میں فوری جنگ بندی اور
بے گھر ہونے والے فلسطینیوں اور لبنانیوں کی مدد کے لئے عالمی سطح کی لام بندی پر
مرکوز رہی ہے۔
جنگ بندی کی باتیں یکطرفہ طور پر کی جا رہی ہیں
اور ہم غزہ میں نسل کشی کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن دوسرے فریق اس حوالے سے غیر سنجیدہ
ہیں اور ان کی موجودگی جنگ کے خاتمے کے بجائے کشیدگی میں اضافے کا سبب ہیں۔
ہماری سفارتکاری میدان جنگ کی ممد معاون ہے۔
سفارتکاری اور میدان ایک دوسرے کے کام کی تکمیل کرتے ہیں۔ خطے کے ممالک جنگ کے
خاتمے کو اپنا فریضہ سمجھنے لگے ہیں اور یہ ہماری بات چیت کا نتیجہ ہے اور ممالک
کے موقف سے معلوم ہؤا کہ سفارتکاری جنگ کے پھیلاؤ کا سد باب کر سکتی ہے۔
صہیونی جارحیت پر ہماری ایئرڈیفنس فورس بروقت میدان
میں آئی۔ لیکن بہر حال اپنے حق سے اور فرض سے انحراف نہیں کریں گے، صہیونیوں کا
جواب دیں گے کیونکہ یہ وہ حق ہے جو حکومت کا فرض بھی ہے، پیغامات کے تبادلوں سے
قطع نظر، ہم فیصلہ کن جواب دینے میں سنجیدہ ہیں۔
ہم اپنے ایٹمی پروگرام کو فوجی بنانے کے قائل نہیں
ہیں، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق ہمارا موقف واضح ہے۔
ملک کے اعلی ترین مذہبی اور ہم سیاسی زعیم کے فتوے کی رو سے، اپنے ایٹمی پروگرام
کو فوجی نہیں بنائیں گے۔ یہ ہمارا دیرینہ موقف ہے۔
مغربی ممالک حالیہ صہیونی جارحیت پر ہم سے کہتے
ہیں کہ جواب نہ دیں لیکن امریکہ اور مغرب کو جان لینا چاہئے کہ ہم سے جواب نہ دینے
کی توقع نہ رکھیں، امریکہ کی مستقبل حمایت صہیونیوں کی جرات و گستاخی کا سبب ہے،
وہ ہم سے صبر و تحمل کی توقع کرنے کے بجائے غاصب صہیونی ریاست کو لگام دے۔
ہم صہیونی جارحیت کا جواب دینے کے لئے تمام
وسائل اور اوزاروں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ہماری جوابی کاروائی کین نوعیت صہیونیوں
کے حملے کی نوعیت پرمنحصر ہوگی۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی کی جڑیں 80 سالہ قبضے
اور غصب میں پیوست ہیں، صہیونی جرائم کا تسلسل اصل مسئلہ ہے، صہیونی ریاست کے حامی
اس کے جرائم پر غور نہیں کرنے دے رہے ہیں۔
ہم نے کسی سے فوجی امداد نہیں لی ہے اور ہم اپنی
طاقت پر انحصار کرتے ہیں، ہمیں فخر ہے کہ ہم نے سخت پابندیوں کے دوران خود ہی طاقت
کی بنیادیں استوار کر لیں۔ ہمیں فخر ہے کہ جو کچھ ہم نے کیا اپنے جاں برکف فورسز
کے سہارے کیا۔ ہم اپنی سلامتی خرید کر نہيں لآئے، ہم اپنے دوستوں کے وسائل کو
بروئے کار لاتے ہیں لیکن وہ ہماری سلامتی کے ضامن نہیں ہماری سلامتی کا ضامن ہماری
اپنی صلاحیتیں ہیں۔
ہم نے علاقائی سفارتکاری کے دوران خطے کے ممالک
کی حدود صہیونی دشمن کے سپرد نہ کرنے پر زور دیا اور ہمیں ان ممالک سے مثبت جواب
ملا، جو کچھ ذرائع نے کہا ہم نے بھی سنا۔ کسی بھی علاقائی ملک نے صہیونیوں کو اپنی
حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے اور اگر عراق میں ایسا ہؤا ہے تو یقینا
عراقی حکومت کو احتجاج کا حق حاصل ہے جس کی ہمیں بھی توقع ہے۔ صہیونی قانون شکنی میں
کسی حد کو ملحوظ نہیں رکھتے اور انہوں نے بارہا ممالک کی حدود کی خلاف ورزی کی
ہے۔
بقائی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: مصر
کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ مراحل میں بات چیت علاقائی مسائل پر
مرکوز تھی، صدر نے اپنے ہم منصب اور وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصب سے ان ہی مسائل پر
بات چیت کی۔
تفتان میں دہشت گردی کے حوالے سے کہنا چاہوں گا
کہ دہشت گردی جنوب مشرقی ایران میں، ایران، پاکستان اور افغانستان کو ستا رہی ہے۔
پاکستان کے ساتھ برسوں سے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تعاون کر رہے ہیں۔ بہت
سارے دہشت گردانہ واقعات سرحد کے اس پار سے انجام پائے۔ ہم اور پاکستانی حکام اس
حوالے سے تعاون کی ضرورت سے واقف ہیں۔ ہمارے درمیان پہلے سے معاہدہ موجود ہے جو
انسداد دہشت گردی کے حوالے سے تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انسداد دہشت گردی ہم
دونوں ملکوں کا مشترکہ ہدف اور فریضہ ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ہمارا موقف واضح
ہے جو بالکل فطری موقف ہے۔ ہمارا موقف ہے کہ خطے کے مسائل کی جڑیں 80 سالہ پرانی ہیں،
نہ کہ ایک سال پہلے ہونے والی حماس کی کاروائی۔ اس عرصے میں غاصبوں کے حامیوں نے
اس کے جرائم روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔
ایران اور صہیونی ریاست کے درمیان کشیدگی کے
بارے میں کہنا چاہتا ہوں کہ اس نے کشیدگی کا آغاز کیا ہے اور اسی کو یہ سلسلہ بند
کرنا ہوگا۔ ایران کے صبر و تحمل سے ہمیشہ نامناسب مطلب لیا گیا۔ صہیونیوں کے حامی
اس کو جارحیت جاری رکھنے سے روک لیں۔ سلامتی کونسل سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ اپنی
ذمہ داریوں پر عمل کرے۔
بقائی نے ایک سوال کے جواب میں کہا: دشمن کا کوئی
طیارہ ایران کی فضائی حدود میں داخل نہيں ہؤا ہے۔
جاری ہے