اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، روئٹرز نے غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے لکھا ہے کہ کہ جنوبی شہر خان یونس میں مکانات پر حملے میں کم از کم 38 فلسطینی شہید جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
صہیونی فوجی ذرائع کا دعوی ہے کہ اس کی فورسز نے
جنوبی غزہ کی پٹی میں فضائی اور زمینی حملوں میں متعدد فلسطینی حملہ آوروں کو
ہلاک کیا اور فوجی ڈھانچے کو تباہ کر دیا۔ صہیونی فوج نے 7 اکتوبر 2023ع سے اب
درجنوں مرتبہ دعوی کرتی رہی ہے کہ اس نے حماس کے فوجی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے
اور موجود لڑائیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ صہیونی ہتھیاروں میں سے ایک اہم ہتھیار
ہے۔
شمالی غزہ میں، جہاں جبالیہ قصبے کے آس پاس کا
علاقہ ایک ہفتے سے جاری جارحیت کا نشانہ بنا ہوا ہے، صحت کے حکام نے بتایا کہ صہیونی
فوج نے کمال عدوان ہسپتال پر حملہ کیا، جو وہاں کام کرنے کے لیے جدوجہد کرنے والی
تین طبی سہولیات میں سے ایک ہے، اور اس کے باہر فورسز کو تعینات کر دیا ہے۔
ہسپتال کے نرسنگ کے ڈائریکٹر عید صباح نے کہا کہ
’شہریوں، زخمیوں اور بچوں کو دہشت زدہ کرنا اس وقت شروع ہوا جب صہیونیوں نے ہسپتال
پر فائرنگ شروع کر دی۔ اور جب فوج پیچھے ہٹی تو عالمی ادارہ صحت کا ایک وفد ایمبولینس
لے کر پہنچا اور کچھ مریضوں کو باہر نکالا۔
ڈبلیو ایچ او نے تصدیق کی کہ اس نے 49 مریضوں اور نگہداشت کرنے والوں کو
غزہ شہر کے الشفا ہسپتال میں منتقل کیا ہے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے ڈبلیو ایچ او کے
نمائندے نے کہا کہ ’ہم نے افراتفری دیکھی، کمال عدوان ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈززخمیوں
سے بھرے ہوئے تھے، اور ہم نے دیکھا کہ متعدد زخمیوں کو کو ادھر لایا گیا۔
صہیونی فوج کا دعوی ہے کہ وہ کمال عدوان ہسپتال
کے علاقے میں مبینہ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کی موجودگی کے بارے میں انٹیلی
جنس کی بنیاد پر حملے کر رہی تھی۔
تین ہسپتالوں کے طبی عملے نے انخلا اور مریضوں
کو بے یار و مددگار چھوڑنے کے صہیونی احکامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا
کہ تین ہفتے قبل صہیونی فوج کی جانب سے نئی جارحیت کے آغاز سے کے بعد سے شمالی غزہ
میں کم از کم 800 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
غاصب صہیونیوں کا دعوی ہے کہ وہ اس لئے یہاں
واپسے آگئے ہیں کہ حماس کے جنگجو وہاں دوبارہ منظم ہوگئے تھے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110