ڈیلی پاکستان
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق تقریبا تین ہفتے قبل غاصب صہیونیوں نے اس کمپلیکس پر بے شمار بنکر بسٹر بموں سے حملہ کیا تھا جس میں حزب اللہ کے سینئر راہنما سید ہاشم صفی الدین اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھے جس کے بعد ان کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں ہوتی رہیں اور 22 اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ ہاشم صفی الدین کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے اگلے روز حزب اللہ نے بھی اپنے سینئر رہنما ہاشم صفی الدین کی اسرائیلی حملے میں شہادت کی تصدیق کردی تھی۔
تاہم اب سعودی ٹی وی چینل الحدث پر ہاشم صفی الدین
کی شہادت سے متعلق حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ ہاشم
صفی الدین اسرائیلی بمباری میں نہیں بلکہ آکسیجن ختم ہوجانے کی وجہ سے شہید ہوئے
ہيں۔
ذرائع کے مطابق سید ہاشم صفی الدین بیروت کے
جنوبی ٹاون ضاحیہ کی ایک عمارت میں موجود تھے جس پر اسرائیلی جنگی طیاروں نے یکم
اکتوبرکو لگاتاربمباری کی تھی۔
عرب ذرائع کا کہنا ہے کہ سید ہاشم صفی الدین حزب
اللہ کے 7 تربیت یافتہ مسلح ارکان کے ساتھ 3 روز تک ڈٹے رہے اور پھر بمباری کے 3
دن بعدآکسیجن کی شدید کمی سے دم گھٹنے سے شہید ہوگئے، ان کے جسم پر زخم کا کوئی
نشان نہیں تھا۔
واضح رہے کہ ہاشم صفی الدین حزب اللہ کی انتظامی
کونسل کے سربراہ تھے اور خیال کیا جا رہا تھا کہ
انہیں سید حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد ان کا جانشین مقرر کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110