اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، وزیر خارجہ اسلامی جمہوریہ
ایران نے، جو ایک سفارتی وفد اور امدادی سامان کی کھیپ لے کر لبنان کے دارالحکومت
بیروت پہنچے تھے، لبنان کے وزیر اعظم نجیب
میقاتی سے ملاقات اور بات چیت کی۔
انھوں نے اس ملاقات میں صہیونی
ریاست کے دہشت گردانہ اور جارحانہ حملوں میں
حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ اور بے گناہ لبنانی عوام کی شہادت پر
تعزیت پیش کی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صہیونی ریاست
کی جارحیت کے مقابلے میں لبنان کی حکومت،
مقاومت اور عوام کی حمایت جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔
سید عباس عراقچی نے صہیونی ریاست کے وحشیانہ جرائم کو بین الاقوامی
قوانین کی اعلانیہ خلاف ورزی قرار دیا اور
اسرائیل کے مجرمانہ اور غیر قانونی اقدامات اور لبنان پر اس کی جارحیت روکنے کے
لئے بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں نیز عرب اور غیر عرب اسلامی ملکوں کی ہمہ گیر
کوششوں کی ضرورت پر زور دیا
اس موقع پر لبنان کے وزیر اعظم نے اپنے ملک کی تازہ ترین صورتحال پر
روشنی ڈالی اور اسرائيلی جارحیتوں کو جنگی جرائم کا مصداق قرار دیتے ہوئے، صہیونی دشمن کی مہم جوئی کے تعلق سے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بے حسی اور بے عملی پر افسوس کا اظہار کیا۔
لبنانی وزیر اعظم نے ان دشوار حالات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب
سے لبنان کے عوام اور حکومت کی حمایت کا
دلی شکریہ ادا کیا۔
ہم لبنان اور غزہ میں بیک وقت جنگ بندی کے خواہاں ہیں / اسرائیلی کارروائی کا جواب کہیں زیادہ شدید ہوگا، پریس کانفرنس سے خطاب
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا ہے کہ ہم جنگ
بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، اس شرط پر کہ پہلے تو لبنانی
عوام کے حقوق کو ملحوظ رکھا جائے، جنگ بندی مقاومت کے لئے بھی قابل قبول ہو، اور
لبنان اور غزہ میں جنگ بندی بیک وقت ہو۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے صہیونی ریاست
کے خلاف ایران کی جوابی کاروائی کے سلسلے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
کہا کہ آج وزیر اعظم جناب میقاتی اور اسپیکر جناب نبیہ بری سے انتہائی اچھی اور مفید
بات چیت کی اور لبنان کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا
انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں
میں، میں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران
لبنان کے ساتھ ہے اور لبنان اور مزاحمت کے ساتھ رہے گا اور ہمیں یقین ہے کہ صہیونی
ریاست کے جرائم کو ماضی کی طرح شکست ہو گی اور لبنانی قوم ہی فاتح ہوگی۔
عراقچی نے صہیونی ریاست پر ایران کے حالیہ حملے کے بارے میں کہا:
"ہم نے یہ حملہ شروع نہیں کیا تھا، بلکہ ہم نے اسرائیل کی جانب سے ایرانی
سرزمین اور دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر اور ایرانی اہداف پر حملوں کا جواب دیا۔"
انہوں نے مزید کہا: اسرائیل کے برعکس، جو شہری اہداف اور لوگوں، خواتین
اور بچوں اور گھروں پر حملہ کرتا ہے، ہم نے صرف صہیونی ریاست
کے فوجی اور سیکورٹی مراکز پر حملے کیے ہیں۔
عراقچی نے زور دیا کہ ہم اس سلسلے کو جاری رکھنے کا ارادہ نہيں رکھتے
مگر یہ کہ صہیونی ریاست ہی حملوں کو جاری رکھنا چاہے۔ اگر اسرائیل نے ایران کے
خلاف کوئی بھی قدم اٹھایا تو ہمارا جوابی اقدام پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا، اور
ہمارا جواب سوچا سمجھا اور مناسب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں، چنانچہ میرا
دورہ لبنان بھی غیر معمولی ہے۔ میں نے لبنانی حکام کے ساتھ جنگ بندی کے بارے میں
بات چیت کی اور ہم دوسرے ممالک کے ساتھ بھی رابطے ہیں تاکہ جنگ بندی قائم کی جائے.
سید عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ بندی کے لئے ہونے والی کوششوں کی حمایت
کرتے ہیں، اس شرط سے کہ اولاً لبنانی عوام کے حقوق کو ملحوظ رکھا جائے اور یہ جنگ
بندی مقاومتی محاذ کے لئے قابل قبول ہو؛ ثانیاً یہ جنگ بندی غزہ کی جنگ بندی کے
ساتھ بیک وقت قائم کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔
110