اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم میاں
شہباز شریف نے نیویارک میں صدر اسلامی جمہوریہ ایران، ڈاکٹر پزشکیان کی قیامگاہ پر
ان سے ملاقات کی ہے۔
صدر پزشکیان نے اس موقع پر اپنے دینی بھائیوں اورپڑوسیوں سے ملاقات کو
اہم قرار دیا اور پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقات پر خوشی کا اظہارکیا۔
انھوں نے کہا کہ تہران شہید صدر آیت اللہ رئیسی کے دورہ پاکستان کے
موقع پر ہونے والے سمجھوتوں کو آخری شکل دینے اور ان پر عمل درآمد کے لئے پرعزم ہے۔
صدر ایران نے خطے کے ملکوں کے درمیان عوامی رابطوں اور تجارتی لین دین
میں سہولت کے لئے ریلوے اور روڈ ٹرانسپورٹ کا وسیع نیٹ ورک وجود میں لانے کے اپنے نظریئے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ
اس نظریئے کو عملی شکل دینے کے لئے ایک ایسے جامع منصوبے کی ضرورت ہے جس میں
اقتصادی، سیاسی، مواصلاتی اور سیکورٹی کے تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے۔
آنھوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ کو علاقے کے عوام کی باہمی قربتوں اور خطے
کے تمام ممالک کے مفادات کی تکمیل کی رفتار کو تیز تر کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر ہم مسلمین خدا، قرآن اور اپنے پیغمبر
(صلی اللہ علیہ و آلہ) کے احکامات کے مطابق واقعی برادارانہ طریقے سے ایک دوسرے کے
قریب ہوتے اور ہم میں اختلاف و تفرقہ نہ ہوتا تو آج صہیونی ریاست اس طرح کے جرائم
کا ارتکاب کرنے کی جرات نہ کرتی۔
صدر ایران نے کہا کہ صہیونی اور ان کے حامی، مسلمانوں کے درمیان دھڑے
بندیوں اور اختلاف و انتشار سے فائدہ اٹھا کر اس قدر گستاخی کے ساتھ جرائم کا
ارتکاب کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات ہے کہ ہم غاصب صہیونی ریاست کے جرائم
رکوانے کی غرض سے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو باہمی تعاون اور مشترکہ اقدامات کے لئے
بروئے کار لائیں۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی اس موقع پر کہا کہ ایران کے شہید صدر آیت اللہ رئیسی کے دورے میں
دونوں ملکوں کے درمیان بہت اچھے سمجھوتے منعقد ہوئے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کے
انتخاب کے بعد ان سمجھوتوں پر عمل درآمد ہوگا اور ہمارے تعالقات کو ماضی سے کہیں زیادہ
فروغ ملے گا۔
شہباز شریف نے کہا: میں باہمی تعلقات کے فروغ کے سلسلے میں صدر ڈاکٹر
مسعود پزشکیان کے ساتھ صدق دل سے تعاون کے لئے تیار ہوں۔
شہباز شریف نے غزہ اور لبنان کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم میں شدت کی
طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور لبنان کے حالات پر ہماری، آپ کی اور دنیا کی
تشویش مشترکہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حالیہ حملوں نے ثابت کردیا ہے کہ
نتن یاہو اپنے جرائم کا سلسلہ روکنے کا
کوئی ارادہ نہیں رکھتا بلکہ ان کا دائرہ پورے علاقے میں پھیلا دینا چاہتا ہے؛
اور ہمیں یقین ہے کہ یہ عالم اسلام کی
کمزوریوں اور باہمی اختلافات کا نتیجہ ہے چنانچہ ہمیں باہمی اختلافات ختم کرکے پیکر
واحد کی طرح متحد ہو کرغاصب صہیونی ریاست اور اس کے حامیوں کا مقابلہ کرنے کی
ضرورت ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے سربراہان حکومت نے اس ملاقات میں اقتصادی اور تجارتی تعاون بڑھانے اور گیس پائپ
لائن پروجیکٹ کی تکمیل میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لئے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کی
تشکیل پر اتفاق کیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر اسلامی جمہوریہ ایران، ڈاکٹر مسعود پزشکیان اقوام
متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس ميں شرکت کے لئے نیویارک کے دورے پر گئے
تھے، جہاں انھوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے علاوہ دنیا کے مختلف ملکوں کے
سربراہوں اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی اور ان کے ساتھ علاقائی اور بین
الاقوامی مسائل پر بات چیت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110