حزب اللہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں کے ذریعے صہیونیوں
کی گندی جنگ پر مبنی کاروائی کے جواب میں مقبوضہ فلسطین میں صہیونیوں کے ٹھکانوں
پر اپنے میزائل حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کے مطابق، حزب اللہ نے آج [اتوار مورخہ 22 ستمبر 2024ع کو] اپنے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ لبنان کی مقاومت اسلامی نے غزہ کی پٹی پر مسلسل حملوں نیز لبنان میں پیجر کے ذریعے دہشت گردانہ صہیونی کاروائی اور غیر فوجی شہریوں کی شہادت کے جواب میں حیقا میں صہیونی فضائی اڈے اور ائیرپورٹ کو 10 "فادی-1" اور "فادی-2" کا نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
ادھر میدانی ذرائع نے خبر دی ہے کہ حزب اللہ نے بڑی تعداد میں 80 کلومیٹر تک مارے کرنے والے "خیبر ایم-220" اور 105 کلومیٹر تک مار کرنے والے "خیبر ایم-302" میزائل استعمال کئے ہیں جن کی تعداد درجنوں تک پہنچتی ہے۔ یہ میزائل "عماد" بیس سے داغے گئے ہیں جو کہ صہیونیوں کے ہتھیاروں کی زد سے باہر ہے۔
دوسری طرف سے امریکی ویب گاہ "ایکسیوس " نے بھی تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ نے آج درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے حیفا کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے اور اپنی حملوں کے دائرے کو بہت توسیع دی ہے۔
مقبوضہ فلسطین پر 120 میزائلوں کا حملہ، غاصب ریاست کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیل
الجزیرہ نیوز چینل نے نے صہیونی ریڈیو اور ٹیلی وژن کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ آج اتوار کو تھوڑی دیر پہلے لبنان سے 120 میزائل مقبوضہ فلسطین کی طرف داغے گئے ہیں۔ اور ان میزائل حملوں میں الجلیل، کریات بیالیک اور حیفا کے نواحی علاقے موریشت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
صہیونیوں کے ایمرجنسی ادارے نے معمول کے مطابق، نقصانات کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے صرف چھ صہیونیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ صرف ایک صہیونی سائرن کی آواز سن کر "کار کے حادثے کا شکار ہوکر" ہلاک ہو گیا ہے۔
ادھر حیفا کے رمبام ہسپتال کے ذرائع نے حزب اللہ کے حملوں میں 9 صہیونیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ادھر مقبوضہ شہر عکا میں بھی دفاعی سسٹم حزب اللہ کے میزائلوں کا راستہ روکنے کے لئے فعال ہو گیا ہے
کریات بیالیک میں بے شمار مکانات مکمل طور پر جل گئے ہیں۔
صہیونی چینل-13 نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے اپنے حملوں کو فوجی، سیکورٹی، صنعتی اور اقتصادی مراکز پر مرکوز رکھا ہے اور حیفا اور کریوت میں صہیونی ریاست کو بھاری نقصانات سے دوچار کیا ہے اور سنہ 2006 کی 33 روزہ جنگ کے بعد صہیونی ریاست کو حزب اللہ کی طرف سے ایسے حملوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔
دوسرے عبرانی ذرائع نے بھی رپورٹ دی ہے کہ آج صبح لبنان سے 100 بھاری راکٹوں نے جلیل علیا اور جنوبی حیفا کو نشانہ بنایا ہے جو کئی علاقوں میں شدید آتشزدگی کا سبب بنے ہیں اور یہ آگ اس وقت رمات داؤد نامی ايئر بیس کی طرف بڑھ رہی ہے۔
صہیونی ویب گاہ واللا کے ایک تجزیہ کار نے بھی اعتراف کیا کہ حزب اللہ کے میزائلوں نے اسرائیل کے شمالی علاقوں کی سلامتی کو خلل سے دوچار کیا ہے۔
اس ویب گاہ نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ عراق سے داغے گئے دو ڈرون طیاروں کو مقبوضہ فلسطین کے جنوبی علاقے ایلات کی فضا میں مار گرایا گیا ہے۔
صہیونی امدادی ایجنسی "Red Star of David" نے تصدیق کی ہے کہ شمالی اسرائیل کے علاقوں حیفا، الجلیل الاسفل پر حزب اللہ کے میزآئل گرنے سے تین صہیونی زخمی ہوئے ہیں۔
رمات داؤد ایئر بیس کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا؟
حزب اللہ نے ان حملوں میں صہیونیوں کا رمات داؤد ايئر بیس خاص طور پر نشانہ بنایا ہے، جو شمالی فلسطین میں صہیونیوں کی فضائیہ کا اہم ترین اڈہ ہے اور یہ وہی اڈہ ہے جس کی تصویریں چند ماہ قبل حزب اللہ کے ہدہد نامی ڈرون طیارے نے ریکارڈ اور نشر کی تھیں۔
ادھر صہیونی ذرائع نے کہا ہے کہ لبنان سے شمالی مقبوضہ علاقوں پر حزب اللہ کے حملوں کے بعد مقبوضہ فلسطین کی گہرائیوں میں واقع علاقے "عفولا" کی بجلی کٹ گئی ہے اور مختلف علاقوں میں صہیونیوں کے بھاگنے کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
110

