اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق ،
لبنان کے ایک سینیئر سیکیورٹی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا
کہ حزب اللہ نے تائیوان میں مقیم گولڈ اپولو کے بنائے ہوئے 5000 بیپرز کا آرڈر دیا
تھا جنہیں موسم بہار میں ملک میں لایا گیا تھا۔
حزب اللہ لبنان کے سینکڑوں ارکان کے زیر استعمال پیجرز منگل کو لبنان اور شام میں تقریباً بیک وقت پھٹ گئے تھے جس کے نتیجے میں ایک آٹھ سالہ بچی سمیت کم از کم نو افراد شہید جبکہ تین ہزار کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔
زخمی ہونے والوں میں لبنان میں ایران کے سفیر بھی شامل ہیں۔ عہدہ داروں نے اس ریموٹ حملے کے لیے اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔
حزب اللہ لبنان نے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے ان دھماکوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
کئی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ منصوبہ کئی ماہ پہلے بنایا گیا تھا۔
لبنان کے سینیئر سکیورٹی ذرائع نے پیجر کے ماڈل اے پی 924 کی تصویر دیکھ کر تصدیق کی ہے جو دیگر پیجرز کی طرح وائرلیس ہے اور ٹیکسٹ پیغامات وصول اور ڈسپلے کرتا ہے تاہم اس کے ذریعے فون کال نہیں ہو سکتی۔
رواں سال حزب اللہ کی کارروائیوں سے واقف دو ذرائع نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ حزب اللہ کے مجاہدین اسرائیلی لوکیشن ٹریکنگ سے بچنے کے لیے کمیونیکیشن کے کم ٹیکنالوجی ذرائع کے طور پر پیجرز کا استعمال کر رہے ہیں۔
ادھر سینیئر لبنانی ذرائع نے کہا کہ ’موساد نے آلے کے اندر ایک بورڈ لگایا جس میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا جو ایک کوڈ وصول کرکے پھٹتا ہے۔ اس بورڈ کا کسی بھی ڈیوائس یا سکینر سمیت کسی بھی ذریعے سے سراغ لگانا بہت مشکل ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ 3,000 پیجرز اس وقت پھٹ گئے جب انہیں ایک کوڈڈ پیغام بھیجا گیا۔
ایک اور سکیورٹی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ نئے پیجرز میں تین گرام تک دھماکہ خیز مواد چھپایا گیا تھا۔
گولڈ اپولو کے کمپنی کے تائیوانی بانی چنگ کوانگ نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ تائیوان کی کمپنی نے وہ پیجرز نہیں بنائے جو منگل کو لبنان میں ہونے والے دھماکوں میں استعمال کیے گئے تھے۔
بلکہ ان پیجرز کو یورپ کی ایک کمپنی نے بنایا تھے جسے تائیوان کی فرم کے برانڈ کو استعمال کرنے کا حق حاصل تھا۔
۔۔۔۔۔۔
110