اہل بیت(ع) نیوز
ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، مراکش کے مشہور عالم دین اور مسلم علماء کے عالمی اتحاد
کے سابق سربراہ احمد الریسونی نے اپنے ایک مضمون میں زور دے کر کہا ہے کہ شیعیان
اہل بیت(ع) فلسطینی مقاومت کے اصل حامی ہیں اور اس راستے میں قربانیاں دے رہے ہیں۔
انھوں نے اپنے مضمون ـ بعنوان "وأقيموا الشهادة لله" کے ضمن میں ـ وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے: میں نے یہ گواہی دی ہے اور دوسروں کو بھی اس مہم میں حصہ ڈالنے کی دعوت دیتا ہوں اس لئے کہ یہ گواہی حق کو ثابت کرتی ہے، انصاف کو قائم کرتی ہے، اور یہ باطل اور ناشکری کے خاتمے کی علامت ہے، چنانچہ اس شہادت اور گواہی دینا اور اس کا اعلان کرنا ضروری ہے تاکہ انکار کرنے والے حملوں اور ظالمانہ ناشکریوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اور فلسطینی کاز فلسطینی عوام کے جہاد کے لئے شیعیان اہل بیت(ع) کی حمایت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے چلنے والی ظالمانہ اور غیر منصفانہ مہمات کا ازالہ کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا: شیعہ مسلمانوں نے ارض فلسطین میں اپنے مجاہد بھائیوں کی بخوبی حمایت اور پشت پناہی کی ہے، انہوں نے اس راہ میں جان و مال کی قربانی دی اور عظیم قربانیاں پیش کیں، جبکہ اہل سنت نے ان میں سے کوئی بھی قربانی نہیں دی ہے۔
انھوں نے کہا: شیعیان اہل بیت(ع) کی جانب سے فلسطینی کاز اور فلسطینی عوام کے جہاد کی حمایت کے بارے میں میری یہ شہادت ناشکر شکیوں کے غیظ و غضب کا باعث بنے گی اور وہ اپنے جانے پہچانے افسانوں کو ہمارے لئے پھر بھی دہرائیں گے۔ لیکن میں ان سے کہتا ہوں کہ : "میں حقائق اور صحیح اور حقیقی خبروں پر بھروسہ کرتا ہوں اور وحشیانہ اور خیالی مفروضوں کو اہمیت نہیں دیتا اور میں کہتا ہوں کہ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا 'اللهم إن لم يكن بك علي غضب فلا أبالي' (اے میرے معبود اگر تو مجھ پر غضب نہ فرمائے تو مجھے کوئی اندیشہ نہیں ہے"۔
انھوں نے کہا: فرائض میں سے ایک ادائے شہادت ہے جیسا کہ قرآن کریم میں خدائے متعال نے فرمایا: "وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ؛ اور اللہ کے لئے گواہی قائم کرو"۔ (سورہ طلاق آیت2)؛ جیسا کہ شرعی محرمات میں سے ایک گواہی کو چھپانا ہے جبکہ اس کی ضرورت ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ؛ اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے گا تو اس کا دل گنہگار ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جاننے والا ہے"۔ (سورہ بقرہ، آیت283)، اور ارشاد فرمایا: "وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ؛ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی گواہی ہو اور وہ اسے چھپا دے اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے"۔ (سورہ بقرہ، آیت 140)
۔۔۔۔۔۔۔۔
110