اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ
ابنا ـ کے مطابق، اتوار [26 مئی] اور پیر [27 مئی 2024ع] کی درمیان شب کو جعلی صہیودی
ریاست کے طیاروں نے رفح کے علاقے تل السلطان میں انروا [UNRWA] کے غذائی سامان کے گوداموں کے
اطراف میں فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپ شدید بمباری کی۔ اس بہیمانہ صہیونی حملے میں
خواتین اور بچوں سمیت 45 نہتے فلسطینی شہید ہو گئے اور غزہ پر امریکی اور یورپی
حمایت میں جاری صہیونی جارحیت کے آٹھویں مہینے، ایسے خوفناک مناظر رقم ہوئے جس نے
تمام دیکھنے والوں کی آنکھوں کو آبدیدہ اور غیر جانبدار مبصرین کو عرب اور مسلم
ممالک کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی پر حیران کردیا۔ ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا
ہے کہ امریکی ہتھیاروں سے ہونے والے اس مجرمانہ حملے میں خیموں کو آگ لگ گئی اور زیادہ
تر افراد زندہ جل گئے۔
ایک عینی گواہی نے رائٹرز کو بتایا: ہم اپنے خیمے کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ اچانک میزائل لگنے کی آواز سنائی دی اور پھر پوری سڑک دھوئیں سے بھر گئی؛ اور ہم نے ایک لڑکی اور ایک نوجوان کو دیکھا جو دھماکے کے نتیجے میں شہید ہوگئے تھے۔
یہاں تک کہ غزہ کے عوام کے قاتل نیتن یاہو کو بھی کہنا پڑا عالمی رائے عامہ دیکھ کر، کہ: یک ایک المناک غلطی تھی!
دریں اثنا غزہ کی شہری دفاع کے ایک اہلکار محمد المغیر نے آژانس فرانس پریس [AFP] کو بتایا کہ اس ایجنسی کے امدادی کارکنوں نے کئی جلی ہوئی لاشوں کو دیکھا ہے، اور انہیں جن کے بدن ٹکڑ ٹکڑے ہو گئے تھے، یا کئی افراد کے ہاتھ پاؤں کٹ چکے تھے، اور متعدد بچوں، خواتین اور بڑے بوڑھے جو زخمی تھے۔
صہیونیوں کی اس بہیمانہ درندگی پر بہت سارے بین الاقوامی ذرائع نے اسرائیل پر کڑی تنقید کی؛ صہیونی حکام بھی پہلو تہی کرنے سے عاجز ہوئے، یہاں تک کے غزہ کے 36 ہزار خواتین، بچوں اور بڑوں کے قاتل، صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو اس حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے بھی، کہنا پڑا کہ یہ ایک المناک غلطی تھی۔
ادھر خونخوار صہیونی فوج نے بھی [غزہ کے اسپتالوں پر بمباریوں اور ہزاروں خواتین اور بچوں کے قتل کا تذکرہ کئے بغیر] بیان دیا کہ "بس اس واقعے میں ہم غلطی سے دوچار ہوئے ہیں، اور ہم اس بارے میں تحقیق و تفتیش کریں گے؟!"
کیا عجیب نہیں یہ سب؟
مغرب صہیونیوں کا حامی ہے لیکن مغربی ذرائع نے بھی کچھ تو کہہ دیا مگر عرب ممالک نے بھی تک کوئی خاص رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے؛ اکثر اسلامی ممالک خاموش ہیں، سوا اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکیہ نے سربراہوں کی سطح پر اس جرم کی مذمت کی ہے اور بین الاقوامی اور صہیونی ریاست کے خلاف شدید اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ آٹھ مہینوں سے، فلسطینی کاز کی حمایت کے حوالے سے زيادہ تر عرب ممالک نے عجیب خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور ان ممالک کے حکمرانوں نے صہیونی جرائم اور غیر انسانی اقدامات پر کوئی مؤثر رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے؛ یہاں تک کہ:
"اس صہیونی اقدام پر خود صہیونی حکام کا رد عمل عرب سربراہان و بادشاہان سمیت بہت سارے اسلامی ممالک کے حکام کے رد عمل سے کہیں زیادہ بڑھ کر تھا"۔
عرب اور اسلامی ممالک کی غدارانہ خاموشی صہیونی ریاست کو فلسطینی عوام اور غزہ پر زیادہ سے زیادہ مظالم ڈھانے اور زيادہ سے زیادہ فلسطینیوں کے قتل عام کی رغبت دلاتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر سعودی حکومت سے ـ جو خدمت حرمین شریف کی دعویدار ہے ـ سے اس وحشیانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرنے اور فلسطینیوں کے حق میں اپنا کوئی عزت مندانہ موقف کرنے کی توقع کی تھی؛ اور سعودیوں سے توقع تھی کہ ان آٹھ مہینوں کے دوران صہیونیوں کے انتہائی غیر انسانی اقدامات کو "صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے" کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے، لیکن سعودی وزارت خارجہ نے ایک سادہ سا بیان جاری کرکے خاموشی اختیار کر لی ہے۔
صہیونیوں کے مظالم اور جرائم نہ صرف ریاض کے رویے میں کسی تبدیلی کا سبب نہیں بن سکے ہیں بلکہ ان آٹھ مہینوں میں سعودیوں کے موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ کے بعد، امریکہ سے کچھ رعایتوں کے عوض صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کے لئے الٹی گنتی گن رہے ہیں۔
دوسری طرف سے دوسرے عرب ممالک نے بھی ـ شاید ریاض کے رویے سے متاثر ہو کر ـ صہیونیوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا ہے۔ مثال کے طور پر 2020 کے ابراہیم سمجھوتے کے تحت صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کا عمل شروع کرنے والے ممالک بحرین، متحدہ عرب امارات، سوڈان اور مراکش سے توقع کی جاتی تھی کہ غاصب ریاست کے ساتھ اپنی تعلقات کی سطح کم کر دیں، لیکن انہوں نے نہ صرف ایسا نہیں کیا بلکہ امارات اور بحرین سعودیوں اور اردنیوں کے ساتھ مل کر ـ فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں ـ صہیونی ریاست کو سامان رسد ترسیل کرنے میں مصروف ہیں۔
عربی خاموشی ـ صہیونی جرائم
معرکۂ طوفان الاقصیٰ کے آغاز میں جعلی ریاست کی ساکھ کو سنجیدہ اور ناقابل تلافی دھچکا لگا اور اپنی سلامتی کے تحفظ کی اسرائیلی صلاحیت بالکل تباہ ہوگئی؛ تو سب جانتے تھے کہ صہیونی انتقامی کاروائی کرکے غزہ میں فلسطینیوں کا عام کرے گی۔ غزہ میں 36 ہزار فلسطینیوں یعنی فلسطینیوں کی 1.5 ٪ آبادی قتل عام کیا گیا؛ 80 ہزار سے زائد فلسطینیوں [یعنی 3.5% فلسطینی آبادی] کو زخمی کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کسی غلطی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ صہیونی ریاست کے مغربی طاقتوں کے ساتھ متفقہ ارادی منصوبے کا شاخسانہ ہے، اور یہ منصوبہ ہنوز مغرب اور اسرائیل کے ایجنڈے پر ہے۔
ان حالات میں، جبکہ تل ابیب اور اس کی خونخوار فوج کے مجرمانہ کو بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے، اور بین الاقوامی ادارے بھی چلا چلا کر صہیونیوں کی مذمت کر رہے ہیں، عرب اور زیادہ تر مسلم ممالک کی مجرمانہ اور غدارانہ خاموشی ہری بتی دکھانے کی حیثیت رکھتی ہے اور صہیونیوں کو بتلا رہی ہے کہ وہ آگے چل کر بھی جو کرنا چاہے کر لے!
رجب طیب اردوگان خود صہیونی ریاست کے قریبی دوست سمجھے جاتے ہيں اور مختلف النوع قسم کے اعلانات کے باوجود ان کے ملک اور صہیونی ریاست کے درمیان تجارتی تبادلے جاری رہے ہیں لیکن ان کا کم از کم ظاہری موقف عرب ممالک سے کہیں بہتر ہے اور اس نے اپنی پالیسی میں عملی تبدیلی نہ لانے کے باوجود، کئی مرتبہ صہیونی ریاست کے خلاف تند و تیز الفاظ ادا کئے ہیں اور سخت موقف اپنایا ہے۔ اردوگان اگرچہ مختصر سی کشیدگی کے بعد غاصب ریاست کے ساتھ تعاون کو معمول پر لانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں، لیکن ظاہری طور پر اپنے عوام کی خواہشات سے بھی ہم آہنگی کی غرض سے، کچھ تو کہہ دیتے ہیں! جبکہ صہیونیوں کی ڈھال بننے والی عرب حکومتوں نے اتنا کچھ بھی نہیں کہا ہے!
اگر صرف صرف 22 عرب ممالک، ان مظالم اور جرائم اور درندگیوں پر، صہیونی ریاست کے ساتھ اپنے رسمی اور غیر رسمی تعاون ختم کر دیتے اور علاقائی عربی اور اسلامی تنظیموں کے ذریعے یکسان حکمت عملی اختیار کرتے، تو حالات بہت مختلف ہوتے اور غاصب ریاست پر دباؤ میں کئی گنا اضافہ ہوتا۔
غاصب ریاست کے جرائم پر زیادہ تر عرب اور اسلامی ممالک کی مجرمانہ اور غدارانہ خاموشی ایسے حال میں جاری ہے، کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر جنگ یوآو گالانت کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور بین الاقوامی عدالت انصاف نے غزہ میں صہیونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے سلسلے میں جنوبی افریقہ کی شکایت پر، رفح پر غاصب ریاست کی جارحیت بند کرنے کا حکم دیا ہے اور رفح میں پر حالیہ صہیونی جارحیت کے بعد اس صہیونی حکام کے خلاف نسل کُشی کے جرم میں بین الاقوامی عدالتوں کی طرف سے احکامات جاری ہونے کا امکان ہے۔
اس کے باوجود کہ رائے عامہ، بین الاقوامی اداروں یہاں تک کہ مغربی حکومتوں کی طرف سے صہیونی ریاست کے خلاف مذمتی فضا قائم ہونے کے باوجود، ان جرائم کے خلاف عرب حکومتوں کی طرف سے خاموشی کی فضا ٹوٹنے کا امکان نظر نہیں رہا ہے؛ نتیجہ یہ ہے کہ بعض مبصرین نے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ عرب حکومتیں ان جرائم میں صہیونی ریاست کا ہاتھ بٹا رہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
110