12 مئی 2024 - 12:46
بغداد: اسرائیل پر ایران کا حملہ، پورے کفر کے منہ پر پورے اسلام کا طمانچہ۔ شیخ خالد عبدالوہاب الملا

عراق کے کی جماعت علماء کے سربراہ اور مشہور سنی عالمی دین نے وحدت اسلامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسرائیل پر ایران کا حملہ، پورے کفر کے منہ پر پورے ایمان کا زبردست طمانچہ تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق جماعۃ علماء العراق ڈاکٹر شیخ خالد عبدالوہاب الملا نے "طوفان الاقصیٰ قضيۃ وہويۃ" کے عنوان سے عراق میں منعقدہ دوسری بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہم اس لمحے ایسی سرزمین کی بات کر رہے ہیں جس کو اللہ نے برکت ہی برکت قرار دیا اور اس کے گردو پیش کو بھی مبارک قرار دیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اس کی طرف آنے کی دعوت دی۔ ہم ایسی سرزمین کی بات کر رہے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اذیتوں اور ستم کا نشانہ بنایا گیا تو آپ نے وہیں ہجرت کر دی۔

انھوں نے کہا: فلسطین انبیاء اور مرسلین کا گہوارہ ہے۔

ڈاکٹر الملا نے زور دے کر کہا: ہم اپنے فرزندوں اور اپنی امت کو مقاومت اور استقامت سکھانا چاہتے ہیں، ہم سب کو مل کر مقاومت کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا پڑے گا۔

انھوں نے کہا: ایک خاتون جس کا خاوند صہیونیوں کے ہاتھوں شہید ہو گیا ہے اور اس کے بچے بھی جام شہادت نوش کر گئے ہیں اور اس کو اپنی سرزمین چھوڑنا پڑی ہے تو اب اس کی زبان پر صرف ایک لفظ جاری ہے اور وہ ہے "یا ربّ"! میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ اس کلام کا ترجمہ کریں۔ یہ کلام ہمارے حکمرانوں اور اونچے مقام کے مالک علماء سے مخاطِب ہے۔ وہ کہہ رہی ہے "اے پروردگار مجھ سے قبول فرما یہ قربانی، اس وقت تک کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے۔ ہم میں کون ہے جو اس کلام کے معنی کا ادراک رکھتا ہو؟

شیخ خالد الملا نے شہید جنرل قاسم سلیمانی کے کلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: وہ ایک ایسے کمانڈر تھے جنہوں نے قدس شریف کا مقام و مرتبہ اس کو واپس دلایا یہاں تک کہ قدس کے راستے میں جام شہادت نوش کر گئے۔

اس عراقی مذہبی راہنما اور اتحاد مسلمین کے داعی نے مزید کہا: چند روز قبل ایک کانفرنس کے موقع پر ایک نامہ نگار نے مجھ سے کہا کہ یہودی ریاست کے خلاف ایران کے آپریشن وعدہ صادق پر روشنی ڈالوں، تو میں نے کہا: "میں نہیں سمجھتا کہ یہ اسرائیل پر ایران کا حملہ تھا، میری رائے میں تو یہ پورے اسلام کا طمانچہ تھا پورے کفر کے منہ پر"۔ تو نامہ نگار نے کہا: کہ آپ [عربوں] کے ذرائع ابلاغ نے اس کاروائی کو صرف ایک نمائشی اقدام قرار دیا؛ تو میں نے کہا: "میں اپنے تمام حکمرانوں اور عرب ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ بھی ایک بار اسی نمائش کا اہتمام کریں جس نے غاصب صہیونی ریاست پر لرزہ طاری کیا جبکہ صہیونیوں نے اپنی حالیہ 75 سالہ زندگی میں کبھی اس قسم کی رات نہیں دیکھی تھی"۔

واضح رہے کہ عراق کی دوسری بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس گذشتہ بدھ [15 مئی  2024ع‍] کو "طوفان الاقصیٰ قضيۃ وہويۃ" کے عنوان سے ـ جماعۃ علماء الرباط المحمدی کے زیر اہتمام ـ عراقی دارالحکومت بغداد میں میں منعقد ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110