اہل بیت(ع) نیوز
ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ
رمضآنی ـ جو برازیل کے مسلمانوں کی دعوت پر بین الاقوامی سیمینار "اسلام؛
مکالمے اور زندگی کا مذہب" میں شرکت کی غرض سے اس جنوبی امریکی ملک کے دورے
پر ہیں، ـ نے اس سیمینار کے موقع پر لاطینی امریہ کے علماء اور دینی مراکز کے
سربراہوں سے ملاقات کے دوران مکتب اہل بیت (علیہم السلام) کے مقام و منزلت کی طرف
اشارہ کرتے ہوئے کہا: الحمد للہ، اللہ نے ہمیں مکتب اہل بیت (علیہم السلام) سے
آشنا کر دیا۔ اور ہمیں ایک عظیم واقعے کا سامنا کرنا پڑا جب اسلام سیاسی اور سماجی
میدان میں حاضر ہؤا، جبکہ اس واقعے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ایران
میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ساتھ، سب کے لئے سنہری موقع فراہم ہؤا ہے۔
مغربی تشہیری مہم مکتب اہل بیت(ع) کے خلاف
سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے کہا: آج دیوہیکل تشہیری ذرائع مغرب کے کنٹرول میں ہیں۔ وہ پیروان مکتب اہل بیت(ع) کو متشدد کے طور پر متعارف کراتے ہیں؛ حالانکہ مکتب اہل بیت (علیہم السلام) شفقت اور مہربانی کا مکتب ہے۔ ہمارے خلاف جو بات کی جاتی وہ صرف یہی ہے کہ مکتب اہل بیت (علیہم السلام) کے پیروکار جبر کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں، چنانچہ وہ شیعوں پر یہ الزام لگاتے ہیں۔
آیت اللہ رمضانی نے اسلام کی تحریف کے لئے ہونے والی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج ہمیں اسلام کی ایک تازہ تحریف کا سامنا ہے۔ کسی زمانے میں دشمن اسلام کو پوری طرح سماجی اور سیاسی میدانوں سے نکال باہر کرنے کے لئے کوشاں رہتے تھے، لیکن آج مغرب والے "لبرل اسلام" کی ترویج کی کوشش کر رہے ہیں۔
سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے کہا: دینی مبلغین کی بنیادی ذمہ داری مکتب اہل بیت (علیہم السلام) کو متعارف کرانا ہے۔
انھوں نے کہا: ایسا نہیں ہے کہ ہم چند حدیثیں پڑھ کر آسانی سے ائمۂ معصومین (علیہم السلام) کے کلام میں سمجھ بوجھ حاصل کر لیں۔ حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا: "ہمارا معاملہ بہت سخت اور دشوار ہے اور اسے کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا سوا خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر کے، یا اللہ کے مقرب فرشتے کے یا اس بندے کے جس کے دل کا امتحان ـ ایمان کے لئے ـ خدا نے لے لیا ہو [اور اس کے دل کو ایمان کے لئے خالص بنایا ہو]۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا: ہم دوسروں سے کہنا چاہتے ہیں کہ اہل بیت (علیہم السلام) کا اسلام کیا ہے، ہمیں نوجوانوں کو اہل بیت (علیہم السلام) کے مکتب سے روشناس کرانا چاہئے۔
پیروان اہل بیت (علیہم السلام) کا برتاؤ، مکتب اور اہل بیت(ع) کا تعارف کراتا ہے
انھوں نے کہا: امام موسی صدر کا ایک جملہ، بہت عمدہ ہے۔ وہ کہتے ہیں: اگر ہم امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کا تعارف غیر مسلموں سے کرانا چاہیں، تو یہ کام تاریخ یا آیات قرآنی کا حوالہ دینے سے ممکن نہيں ہے، کیونکہ وہ قرآن کو قبول نہیں کرتے۔ آج کے زمانے میں ہم صرف اس طریقے سے غیر مسلمون سے حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کا تعارف کرا سکتے ہیں کہ ہم اپنے برتاؤ، رویوں، اور اپنے کلام کے ذریعے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی سیرت، کلام اور کردار کی ترجمانی کریں۔ حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں: "۔۔۔ وَلکِن اَعینونی بِوَرَعٍ وَاجتِهادٍ وَعِفَّةٍ وَسُدادٍ؛ لیکن پرہیزگاری، کوشش، عفت و پاک دامنی اور صداقت و حق گوئی کے ساتھ میری مدد کرو"۔
انھوں نے کہا: اگر ہم امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کا صحیح تعارف کرا دیں، تو آپ(ع) پوری دنیا میں محبوب ہونگے۔ اگر ہم امام علی (علیہ السلام) کا صحیح تعارف کرائیں تو دنیا میں کیا واقعہ رونما ہوگا؟ ظلم باقی نہیں رہے گا، دولت کی منصفانہ تقسیم ہوگی، غربت ختم ہوجائے گی اور بہت سارے اچھے واقعات رونما ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110