اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، برطانوی صحافی ڈیوڈ ہرسٹ (David Hirst) نے ایک انٹرویو میں کہا:
سب جانتے ہیں کہ دو ریاستی حل ناممکن ہے۔ یورپ کی ہر سیاسی جماعت اور ہر حکومت کہتی ہے کہ فلسطین کے لئے واحد راہ حل دو ریاستوں [اسرائیل اور فلسطین] کا قیام ہے۔ لیکن وہ سب جانتے ہیں کہ دو ریاستی حل آج ممکن نظر نہیں آتا۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ فلسطینی ریاست کو کہاں رکھو گے؟ [فلسطینی علاقے] نقب (Negev) میں؟ سات لاکھ بستی نشینوں [یہودی نوآبادکاروں] سے کس طرح جان چھڑانا چاہو گے؟ اسرائیل کا کونسا راہنما سات لاکھ بستی نشینوں سے جان چھڑانے کی منظوری دے گا؟ وہ باقی رہیں گے، چنانچہ ایک ہی ریاست وجود رکھتی ہے جو ایک اپاتھائيڈ [نسلی امتیاز پر استوار] ریاست ہے۔ لیکن یہ حقیقت امریکہ اور برطانیہ کو یہ کہنے سے باز نہیں رکھتی کہ مناسب حالات فراہم ہونے پر دو ریاستوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا!
یاد رکھئے کہ امریکہ اور برطانیہ جانتے ہیں کہ اسرائیل سال بہ سال اپنی عملداری میں اضافہ کر رہا ہے اور وہ اپنی سرزمین کو دریا [دریائے اردن] سے بحر [بحیرہ روم] تک پھیلانا چاہتا ہے، اور اس پر حکومت کرنا چاہتا ہے "اور یہ علاقہ فلسطین ہی ہے"۔ پورا اسرائیل حقیقی معنوں میں ایک نوآباد بستی (Settlement) ہے۔
تو یہ بالکل گھٹیا اور مذموم ہے کہ وہ ایسے حل کی تجویز دے رہے ہیں جو وہ جانتے ہیں کہ کبھی بھی عملی صورت اختیار نہیں کرے گی اور اس کا کوئی امکان نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110