7 نومبر 2023 - 02:36
ہم نے حساس اسرائیلی مراکز کو نشانہ بنایا ۔۔۔ یمنی فوجی ترجمان

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا: ہم نے مقبوضہ فلسطین میں غاصب صہیونی ریاست کے حساس مراکز کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ / آخر میں ایک سوال۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحیٰی سریع نے [پیر کے روز] اعلان کیا کہ ہم نے آج مقبوضہ فلسطین میں صہیونی ریاست کے حساس مراکز پر کامیکازے ڈرون طیاروں سے حملے کئے ہیں اور یہ ڈرون طیارے ٹھیک نشانوں پر لگے ہیں۔

انھوں نے کہا: ہماری کاروائی کے نتیجے میں نشانہ بننے والے اڈوں اور ائیرپورٹوں کی سرگرمیاں کئی گھنٹوں تک معطل رہیں۔

انھوں نے کہا: ہماری مسلح افواج اللہ پر توکل کرکے فلسطین کی مظلوم قوم کے حق میں مزید فوجی کاروائیاں کریں گے، یہاں تک کہ ہمارے فلسطینی بھائیوں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے رک جائیں۔

ادھر عراق کی اسلامی مقاومت نے بھی سوموار کی صبح کو، شام اور عراق میں قابض امریکیوں کے فوجی اڈوں پر چھ مرتبہ حملے کئے ہیں۔

عراقی مقاومت اسلامی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی عراق میں عین الاسد کے امریکی قابضوں کے اڈے پر تین حملے کئے گئے اور شمالی عراق کے شہر اربیل نیز شام کے شمال میں تل البیدر اور التنف پر ایک ایک، حملہ کیا گیا۔  

مقاومت عراق نے زور دیا کہ یہ حملے مناسب ہتھیاروں سے کئے گئے اور ٹھیک ٹھیک نشانوں پر لگے۔

ادھر لبنانی نیوز چینل المیادین نے کہا ہے کہ شمال مشرقی شام میں امریکی قابضوں کے فوجی اڈے پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق، یہ امریکی اڈہ الحسکہ شہر کے شمالی بستی قصرک میں واقع امریکی اڈے پر ہؤا۔

ایک عمومی سوال:

ان دنوں، غزہ پر درندہ اور خونخوار یہودی ریاست کے حملوں، فلسطینی عوام اور خواتین اور بچوں کے قتل عام کے حوالے سے، پوری دنیا میں علمائے اسلام، سیاسی راہنماؤں اور جامعات کے اساتذہ سے صرف ایک سوال پوچھا جاتا ہے وہ یہ کہ "ایران یا حزب اللہ غزہ کے حق میں کب مداخلت کریں گے" اور یہ علماء اور دانشور شکوہ کرتے ہیں کہ ہم سے سنیوں کی حمایت کے لئے شیعوں کی فوجی مداخلت میں کیوں پوچھا جاتا ہے، اور سنی ممالک کی مداخلت کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا جاتا؟ آپ کا کیا خیال ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110